لا وت

رفا ری خْاں

دماچہ

خدممتد ین ادردگوات اسلائی

9 دینج سک ووتد بٹی ہے رین فطرت

٭رنآہان

بیرقت

3 ع فی زہب 3اھت

< ضیقے پنری

٭ تید ی نک اممیت ل رات نکیآز مکش ۵ رو تکا تارف

9 تال الایمان و رتا الاسلام ۵ات ال ال

و کر تال ال رآن

ك۲

9 ریراقت

۵اظا تی وگردار نر مباعیتکئل 3 ال نکی رعامت ٥۵‏ حر تد ین

0 امے ےل کت گی زدداری

دعوتِ دین ۔

۵۹ :-. کن ٦۹‏ ِے اے

٤ے‎

* وت ا ار

گت ال النقاط

9 تال اھر ىی

0 زحوتالی احو ؟

دکوت ال ی اعڑا وامت اللہ وکوت اتا ٭ 3وت ا7۶/۱

گا م۳مم مم اھر ۸ۃ ۰ن

۱ھ

ےے ۸ے ۸۰ ۸۱ ۰۳۲ ۸۲۳

۸۲

۲

وت ال الٹر تال داراللام زیو اشک لتمغیر

3 وت لٹکل انزار دای دعا

3 وت کے؟ راب تاورلتفیات

9ار بِکا ات

١‏ غورراےاں 03 کش ڑب ھ یر اڑی حاکن چ مقر یت ٥٭زاویگظر‏ 3 طرشل

9 مہرب ن لوک ۷۱ ین‌اعال

0 تر ۰ اسام

٭ کت رن انفاتی

0 ھت رب نماز

مھ رین ذکراور پکار :تین عیارت

0 مت ین جار

ہ0 رین کلام ۸۸9۵(9 نام

۸۵ 9 داي کے جذ بات وگردار ۹۳ ٦‏ تک خی نگ کے پچھدکولی کام 81 ے۸ کےپنخ خطبات ذکوت ۰۳۴ ے۸ کربنض توثی خطوط 7 ۸۸ 3 آپ کااندا زم و بیت ۵ ۰ 6 اما عروف وٹ یمن انگر ۳ ٥ ۹۰۳‏ یامرین ست ہ۰ ا ن0 2 حدیث رسول اور ھماری زند کی ۹٭۰ و گلۓ ٥۵‏ ٥۵‏ پان ے۵ ۶۸ آرابزر ۰" ۳۱ ٥کمارےائعال‏ ۷۳۲ ۵ 9 و ےااوصاف بل ۸ 9ایا نکی طاوت ےا ۵۱ا و ان تزصلذ ۳ےا ؤگُ‌ ہہ ےےا ۹ ےا ٥طوبیٰ‏ لھمو حسن ماب م۸۳ بھترین چیزیں ۰۲۴ 3 ہت ین نظطرے ۸۸ ۳۴ رین ۔بدایت ۸۹ ۸۵ 0 رن 7 7 0 مرن جلہ ۹۰ ۸۲ ف0 مت رین متا ۰" ۸.۶ 0 زا ع وب ہچزیں ۹ - ۸۸‏ مت ۹

بین لوک

٥۵‏ بین اعال

3) ہکات

کپائیامڈ ےگناہ

8 :مم می ہیں

> من سے خدابات نکر ےگا 3 پچ نکویاں

صورت خرابی کی

اط

ے۹

۹۸

٢۰٢

۲۰٢

۲۲۰۳۳

۲۰۲۰۳

اب

اصا٥‎

9 دای امان شش

وزمگی

8 ےکامرطہ (عاممزعٴ) >3 الفرروں

٥4‏ یڈاان

۲۰٢

۹

۲

۲۲٢

۲۱۳

۳۴

۲۷۱۵

د اچ

کل م نبوت جل دج کو جو کلام نہو تک یآ خ ری جلد ہے قا ری نکی خدمت میں مت کر تے ہوۓ دب مسرت عاصل ہورہی ہے۔ الطررب الع تک نشی ہے ہی ا کا مکی کیل وی ہے۔ ہم الڈدتالیٰ ک ےک رکز ار ہی ںکمہراس نے اس عاج کود می نکیا ایک خدمت اضجام دی ےکی نی عطافرکی۔

اس جل درس دکوتید ین اوراس کلف پپہلو وں سے تلق احاد بی اورا نکتش رت ٹپ یک رن ےک یکوشن لک یکئی سے کلام نو تک ىآ خری جلد ہے اس لیے بیضروری معلوم ہو اہ اں ایاپ لوم مز تب نے ا کے ری الاب یں ور ےد ئن ےا شون اوناتی گی ائسل دو اوراسپمرٹ پر یک بارعز یونظ ڈا لک جا ۔ چچناں چرالن ای واب مل اعادی ثگی رٗڑنی میں انسا نک یگکری وی زن گی بر ای یق نظ ڈا لے ہو میدکھان ےک یکوشت شک یکئی سے ککانسا نک یکام یا اورنا کا می کاجونوراحاد یٹ1 می ٹین لک یایاسے دہ ہرط رع کے نان سے پاک ہے۔ انس نکی اص کام بای بیکیل ےکہدنیائٹش ا مین دآرا مکی زندگی محر آجاےء بلکہانسا نکی اص لکام بالی اس یش ہ ےکردنیا کی زندگی میں دہ ایک ا کردا رکا حائل ہواوراےگکرول سے وو د یاکودو راہ دکھاۓ ج سا گی کم یالی اورفلا گی راہ ہے۔ وی راہ ے1 ن کے یسر ھ سےموسو مکیا کات

ادتقا ی سے دا ےکددہ اس خدم تکوش فقو لیت عطاکر ے اورزیادہ سے زیادہ 0-7

ماکمار تۂرفارو یق خاں

خلت دکن اوردگوت اسائی

الام ساد انساغیت کے لیے ایک پخام ہے۔ ووصرا تشم سے ا بل کر انماضیت دیچوی واخر وک فلا وکامرای سے گ مکنارہوکتی ہے۔اورخداکی رضااورال کی خوش نو دی اس کے یے می ںآستی ہے اسلام تفقیقت میں دا کی اطانعت اورفرمال برداریکاد بن ے۔ الام “یں دا کے اس منصو بے سےآ گا +کرتا سے مس کے ححت اس نے کا تا تکوو جو وھٹا ے۔ وو بات ےک کون 6 " و ا ے اعمال درست ہإں-وہ ۴ہیں اس ےش عکرتا ےک یکن نظ ریات اورعقا دک خدانے پاض لق راردیاے او رکون سے اعمال ہیں جواس کے نز دی نھکم اوررمن وانصاف کے پالئل خلاف ہیں ۔ ای صورت بی اسلا مکی قلیمات سے ہے نیاز ہوک ریفس کے نیمکن میم ںکہدورشددہدایت سےسرفراز ہو سے قرآن میں واج طور برغ ما اگیاے:

تو ضحت فر رع رافک کک این 1

رَضِیْتُ لَکُمْ الاسُلام دِبتاء (۸۱ر۳۸)

مآ مج نےتھارے ی تھا رے دی نکی لکردیا اور پرابنی نت ورگ یکردگی

اورٹیش ن مھا رے لیے نیت د بین اسلا مو پن دکیا_“ ایک دوسرکی مہ ارشادہواے:

ومَنْيَْغعَيَْ الاسُلام دِینا قَلَنْ بقل من وَهُوَ فی الأجرۃ

مَِ الحْسِرِیْنَہ (آلگران:۸۵)

۸ کلام تبوت جلد پنجے

جو اسلام کےسواکسی اوردی نکا طا اب ہوگا فے ا کی طرف سے بھی قبول ٹکیا

جا ےگااورآخرت می و ہکھا نا اُٹھا ےگا

خداکی طرف سے نی اخمیاءآۓ دوسب کے سب ای دی ن تن کے دای تھے۔ ا نکی یذ مردارگیع یکددہ خداکے پا مکوا بیو ممکک پا میں اوراسے بلاککت اور اہی سے چان ےک یکوشت کر ریں۔ خدا کے خری رسول حضرت ئ چپلل کی بعشت کسی اس قوم کے لیے نیس بلکدد نا کی سار تو مو نکی طرف ہولی ہے اورپ سارےانسانوں کے لیے رسول پتاکر کیچ گئ ہیں۔آ پا نے دنیاکوجھ پام دیااورٹس دی نکی طرف لوگو کو بلایاددددی ہے جش سکی طرف دوسرے نمام انیاء اور رل وت دی آے ہیں لی تومیں انمیاءگی 7 ہوئی تحلیمات اوران کے دپے ہو پیا مکی ططاظت سے قاصصر ہیں نیو ںکی تعلیمات یں بہت بج ھتصرفات ہہوۓ اورجس شکل میں ووتلیما تر پائی جالنی ہیں یں متتند ہرک نی ںکہا جاسکتا۔اب بے فیص لکن سا نمی لکران لق کت باقی ہیا ہے اور پع لک یآ میزشش ان یں تفو ہگ ے۔

جخرت مھ مھ کے ذ رجہ سے درتقیقت دب نت کت بد ہو گی ۔آ پک رسالت نے دی نت نکوزندوکردیااو رآ نج و وکائل اومتتنیشکل بی مار ے پا مو جود ہے۔ یدد بن سارگی بی انسما می تکی سب سے ب ڑگ ضردرت ہے۔ مد بین ای فطرت اور ع راع کے اط ےبھی کسی اص قوم ول میں ححدددہوک نیل د ہنا چا ہتا۔ ا لک فطرت م ںآفاقیت ہے۔ براپنے دانع رجمعت می سارک انساخی کیٹ دنا چا رتا ہے ۔لان ای کے ساتھ ا کی توصیت ہہ جھی ےک می جرد اکرا ہکو پپن نکی لکرتا۔ یرد بن دخاکے سا مخ ایک لت اور رم تکی شحل میں ماہاں ہوتا ے اور چاہتا ےک لوک خوداسے ٹیل جت زوات اور جرگ ہو ۓ ا سے مستفید ہوں جن اسے دنا کے سان کون ٹین لکرے ۔ ا سک پغام دمیا کی ملف تو موں اور دنا ھرے ہو ۓےکروڑوں انسانو لکیآباد نو ںک ک کسے پیے ۔ دانے ای ضرورت کے یی نظ رایک امت بر پا کی ہے۔ جواممتہمسلمہ کے نام سے موسوم سے اس اص تکی بھی ذمددارگی ‏ ےکہ بی خداکے بندو کک خداکا پغام پپچپانے بس ہرگ تسابل سےا نہ ئے۔ ق رن ٹیس ہج

”کلا ےنبوت جلد پنجے ۹ کم خَیْو ام أَعْرِجتُ ت تََمُرُوْنَ بالمَعْرُوْفِ و تنهَوْنَ عَنِ المنکر و نوْمِنُوْنَ باللَّ“ ( لگران:۰١۷)‏

تم ایک تر امت ہوجووکوں کےساضے ایی ےم لئ ام دی ہھ اورنر ائی سے رو کے ہوءاو راڈ پرایماان ر کھت ہو“ ایک دو ؟ اہ ارشادہواے: 8 جَعَلْسكُمْ مه وَسَطَا لنَکُونُوْا شُهَدَاءَ عَلَی الس ون الرَسُوْلَ عَلَيْكُمْ هَهِیَْٴ ۳۸7(0م۳)

یک ا یک بای ےا۷ لغم سار ےانسانوں پہ ب نک یگوابیمقا مر نے او نے ہنواوررسو لم یرگواچی اٹ کر نے والا ہو ںٗ“

ایک تفر بایا:

وَلكنْ مَنكُمْ ام يدعُونَ إلی ایر یرون بالمَعرُوْفِ

وَيََهَونَ ع انکر“ أولیک مُم الْمفْْحُوْنَ

)٠۰۳:نارگلُ(‎

'اورنجھمارے لہ جس ایک ای امت اہر ہولی ہے ج نک یکی طرف دگوت

دے۔اوربھلا گی اعم دےاور برائی سے دو کے می فلا پانے وا نے ہیں ۔'

اس امم تکی ذمددارگی ‏ ےک رج حر خداکے رسول نے ان کک خداکا پیم بٹچایا ہےء ایر دہ اس پا کو نا عاممکرن ےک می مم ل لک جا ۔اس کے اخی رباص تک طبر حبھی اتی ذمہدارٹی سےعہدہ برآنیں ہکتی ۔دنیاٹش ج بگاڑاورفساد پیا جا تا ہے ا ےمم کر نے کے بھی ضروری ےکہدی ن جن کے ماداا تہ نظا موا مر نے کے لیے لگو ںکوآمادہ کیا جاے ۔ دنا انمانوں کے وش حکردہ نظامو ںکی خراہیوں سے واق فبھی ہویچگی سے۔ اسے 2./ یئ اورنظام زندگی کی ضرورت ہے چوٹنی برعدگل ہو ء جن سکی پیر دی ہرطر حکی بھلائی اوت رکی ماخت ہو

چھرانسای ہعدردیی اوراغخلاقی انسا لی کا ھی بی تقاضا ےک انسافو لکوسب سے بڑی

5 ”کلا منبوت جلد پنجے کت مژنی عذا بچأم سے بچان ےکی کی جاے۔ جو چچززانسافو ںکوٹ مک یگ سے بیاستی ہے دہ خداکی بندگی اور ا لکی اطاععت کے سوا بج اونیں ہوسکتا۔ امت مل ان خر تی کی طرف سے فائل ہے۔ وت دین کےسللے میں جولوش ہونی جا ہے اوس طط رح ہولی جا ہے دوکئیں ہو پارہی ہے۔عالا لکہ اس فی تھی کے اد اکر نے بی سے امت سلمہ کے وہ مہائلبھیعل ہو سیت ہیں مجن می برامت اجگھی ہوئی سے اور ا سکی فو اناگ یکا با حصہان ٹل ضا ہوراے۔

اگرامت اہ فی ششصھی کے اد اکر ن ےک یک رکرکی سے ذ حداکی تاخی اود ا کی یدد انٹاک بل کھوائرا کک کی اق مت سفر کان کنا پچ رلوکوں کےفلوب ا کی انبوں کے درمیان ہیں ۔ولو ںکو نکی طرف پچجبرنے والا وی ہے۔

ین جم سکی دگوت دکی ے

٦

دحوتد دبین ایک فربیضہ ہے۔ اس فریضکواضجام دینے کے یی ضمرودرکی ‏ ےک ۴م اس دی نکی تقیقّت اس کے راج اورا کی روح سے لی واتف ہہوں جس سک دشوت چم د ناکود بی چاہے ہیں ۔کیو ںکہواققیت کے اشیردی نکائع تارف ہف سکراسھت ۔ بیدد دن ہے جس کے ذ ری ے دانسا نکی ابی نرہ شی ت ینکش بونا سے اوراس قد رو قج کی ما فقت گی ای زان ور سان ہے۔ دوسد دی نکامفجوم وفشاہ ےک انسا نکوع مع مس اف اندرو تق تکاعلم داصاس ہوجاۓ اوردہ ان نےکردی نکی یرد یکاملہوم اس کےسوااور نی کہ انسان اپنے آ پک بپچان نے اور اس کے نال نے اسے جویظمت کی ہے اسے وہ ضائ نہ ہونے دے۔اس دن کے انام یس انسا نکی اپنی چھلاگی اورال سکی خلاف ورزیی یس ا سکااپنائی ضان‌ے۔

دی نیکیاعلی مک مقصد یہ ےکہانسا نکواپٹی فطرت کے مطابقی زم گی بس رکرٹی آجائے اوروہ ال ط رز زنر یکواخقیا رک ےج سک علاش وج پییشہانسا نکوری ہے ۔ج سیا نے اسے ایارک ریا تھابقااورخوشتزر حیات ا لکی نی ی نبئی ۔ ا کی نکی نے فطری یا کی سیگ وجددرتےب اتفطفاقی اص لکررلیاسکہ دای وائی فو از شا انس کے جن میں گاگیں اور دہ رف ملاک طرب ھی مایا نہ جا گے۔ دی نکی رو یکا مطلب کی یہ ہوا ےک ہآ دی تاربگیوں 5 ری یس کی ۔ابوہ ب 2 این کے کیج ےئ گی طلپ اورآرڑو نی عبارت ہے شی خوشییاں اورس رٹ مقرب خداوندی اورحیات چاودال !-

دی نکی طرف دحوت دی کا مطلب مہ ےکہلوگو ںکو ای ےکر سےآشنا کیا جاے

اك ”کلا ےنبوت جلد پنجے جس ے بلنداس یک رکا رتو زنیی سکر کت اوریں اس یکا آرزومند بنایا جائئۓ یں کوتی تے انمان کے لے مطلو بین ہہوگتی۔ رین ووط ری زندگی اور الوب حیات ا سال ارجا ای رتا سے سک طرف و یکن کٹ چا ۔ جاحب وف اس کے لیے ایک جمالمیا نی اصاس بن جا جس سحےصص رفظ کر نا ابنافطر کی ابات ہے۔ اگ رکوگی اس ےص رفظ رک رتا سے میق تکی ڈگاہ میس ط لم او ربج رم نہ رےگا۔

دبین خداکی اطاع ت بھی ے اور دا کے نصوراورا کی اد سے لغ ت گی ہو نا تگیا- دیع بھی ہے اور لجھی۔ رد ین بآ دن مکواس کے مقام بلند ےآ ش اک رنا اور اے ہیی ور اوں سے تحبات دلاجا ہے دبین شنای تضیقت خودشنائی ملا فکوکی چز ٹیس ہے اسی لیے علامہحیداللد بین فراع دی نکوسیر باعن تی کرت ہیں۔اس سے ال نکی ار یگبرائ یکا خی انداز دکیاجاسکتا ہے دبین ب ےکا نام ہرک یں ہے۔ نہ یجنگ ماگ سکھا تا ہے۔دبین نام ہے لطافت اما لکا۔ دا کی جحراور ال سک عحبت دی نکی اصل اسائس ہے۔ خداکی یی ہھارگی اصل ز نکی ہے ریت ون دای حبت سےلبری: ہوٹی ہے۔ ال سج وشھا سے ا سکابھی پت چلنا ےک بندہ خداکاانچائی شک رکز ارہے۔ خدانے اس پر چوعفایا تکا بارش کی ے اس کا اسے پوراا ساس ہے۔ اس نے ذڑہکوآ غاب کے درج تک باچچایا اور اسے وہ با عطا کیا تس کا نصورگھ ینمی ںکیا جا سکتا تھا۔ اس نے انان کے شف لکواس کے حال سے زیادہمعتج اور پپربایا۔ انس نے موججودہ زندگیکوائس کے ستفشبنل ے والس تکیا۔ اود دطول کے درنیا گر رشن قائ ف بای کہ ندہ اپنے عالی کےآ ینہ میس اپنے شان داراور وچ رآ فرب تی کا مشاہرہ کرک سے می دہ نز سے جوم نکی زندکیوں یش ایما نک وت بی نک رکارفرماہوٹی ے۔اور دن یکو شک اوودر یب اود نے چٹ یکی گی سےبحجات دلالی ے۔اور ند زندگی یں موت کےبھی راز سے واتف ہو جا تا ہے۔دوجائن جا تا ےکہموت زن گی کے نات ہکا نام ہرک نیس بلنہ موت سے دوام حیا تک ابتقراہوٹی ےت

ہے بیشام زندگی می دوام زندگی

بیددین اخلا قگگی اورک زار ے لکن اخلاقی وہ جو اپۓے ان رآفایت لے

ہو ہوتا ے اورکرداروہ* جس می انسانوں کڑس دک یکا نیا تک وخ رک رن ےکی قوت ہوٹی

سے بل کر

نے کے 0 دی نکا

ہے۔ یہاں بی اور ےجوسکگی نیس پائی جالتی۔ بیہاں ےکی اور ادس شا می ہیں ہیں یہاں لقن ہہوتا ہے اخادہوتا ہے۔ یہاں زن دک یک عمار تک بیادخدا کک کی اور ا سک رضا پہرگیکئی ہوٹی سے :یس سے بڑحوک ری مضبوط چنا نکاگھ سو زی سںکر جکت۔ یہاں اس او شی نھیں۔ یہاں ای اکوئ یفن اورحی بن پایا جا تا جھے لوگو ںکی زا ہوں سے پچھ پان ےکی ضرورت یی تے۔

بیردود ری ے ری انساخی تکوش سک ضرورت ہت رانا نک فا ی اسیا : ضرور گی ےاورا کی اخلاقی اورما بی ضرور تگی۔ بد اندگی کےا ھے ہو ئے جن انب سال کاعل بھی ہے۔اوراسماٹی روج کے رب اورکون وسر تکا سا ما نچھی ہے۔ انسلام کے نام ےا می واتف یکین اسلا مکی متنویت اورا کی قرو تجبت 205ھ ھہ امت سل کی عھی ذ مرداری ہے ۔کاش ءا سک طرف جرد ےکی چییں فو نی ہو سے۔

)١(‏ عَی اَی هُریْرَة قال: قال رَسُولَ الله َنتّ: ما مِ مَولْدِ ال بر لی الُفْطِرَة فَأبَوَاهُ يُهَودَانه و یتَضرَاه و یمَجَسَانه کَمَا تنج الْبهِيْمَةُ بَهِيْمَةٌ جن لُ تُحسُوْن فِا بی جَاء؟ ثُمَفُولَ:فِطرَة الله لی فطرَ الس عَلَيْھَا لاَتَبَدِيْلَ لَِلَي الله ڈلک الدِیْنْ الْقَيْم. (ہخاری؛+سم) ترجمهھ: : رت الد ہریڈ سے ردایت ےک رسول خدا سے سا و وا برفطرت پہ پیدا ہوتا ہے۔ گرا کے ماں پاپ اسے ببودگی یا عیسائی با تگڑی بنا دی ہیں۔ جس طرح جاندروں کے بے تندرست وکائل جا فور پییرا ہو تے ہیں یئم ان می سکوگ ٹفش بات ہو؟“ اس کے بعد بآ مت طاو تکی:فطُرَةَ الله الٛیٰ فَطر الَاس عَلَيْهَا لا تدِيْلَ لِعَلق الله ذليٗ الو الع ”ال کی (بناکی ہوگی ) فطر تکااہجا حکھروشس پرأس نے لوگو ںکو پیداکیا۔ ای ہنائی ہوئی ساخت بد یکس جاعتی۔ بجی سیدھااوراستوار دن ہے (سوررم١۶۰)‏ تشریح: ال حدریث میں وا الفاظ یش ا کا انارک ایا ےک اسلام دن فطرت ے۔ انسا نک ہرفومولود جس فطرت پر پیرا ہوتا ہے اور جوصلاحیت نےکرد نیا سآ ا سے اسسلا مکی اس کےساتھانناکی مطابقت پاکی جالی ہے۔ یرک فطرت تتقیقت میں نیس رواٹ یکا تقا ضا کی ہے وداسلام کے سواکوگی اورد نی ہوسا ین ہتای کے کے ر۷ برست یاااس کے والد بی اعلام کے سوا اگ کی دوس ےد بن کے رو ہیں اتوہ اپنے ج ےکوی دن کے سا ئے میس ڈھال دپ یسل ہونے کے جائے یبد یسل وی اور ب کا یرون چاتا

۸ ”کلا منبوت جلد ہپنجے ہے۔اودال ںکی اص فطرت رے ہوكردہ جائی سے کر وخیال اوررت کے لفاظ سے اسے خدا کا وفاداراورطاعحتگز ار بن وب نکردنیایسر ہنا ای تین اس کے پالننل بیس دو خداکا ناف مان اوراپنی فطر ت کان ئخا لف ب نکررہ چاتا ہے۔ نی مگ نے اس میق تکووا کر نے کے لیے ار پاپوں لینی بھی بر یا اش یک مال ین فر ما یکہ مہ جافد دای ماں کے پیٹ ےج دسا م پیداہوتے ہیں ان ک ےم می کو ینف نیس ہواوداپنے بج وسال رکون ےکر بڑے ہوتے ہیں الا 7 عاز رج کے ششکار ہو ای اورا نکا اکوئی مضوض اع ہوجاۓ یک ایر 0 انمان کے اندراسل وقت پیدراہەوتا ے جب اسے ال 17 ضا لوت نے پک رک کر رای کے را تن پہڈال دیاچاتا ہے۔ نی مل نے اپنی با تکی تحمد بی وت حیی سورورو مکی دوآییت حلاوت فرماگی جنس میں الل نے انی ہناگی ہوگی فطر تکا حوالہ دی ہوت ےکا ےک انسا نکو ال فطر تکی پرو یکر نی جا ہے جس پر خدانے اسے پی کیا ے۔ مدا لبق اور ا کی منالی ہوئی فطرت میں یش مکی تبد بی روننیش ہیکت ۔انسان کے لے روتہ مچی ہکا ےک دہ خودسماخت مسا لک د مااہ بکونر کک کے اس دی نکواخقیا رکرے جو خداکی جاب ے ناڑل ہوا ہے اور جوا سکی ال فطرت کےکیان مطا شی ہے بس پر اس کے خدانے اسے پیدافرمایااے- (۲) و عَْ ابی مُرَبْرَةَاي رَسُوْل الله ای لبلَة اُسرِیَ یو ِء بِقََحَیْنٍ ِنْ حَمْر وَ لن نر الَيهِمَا تم اذ َء فَقَالَ بر اَلَمة لِل الَِیُْ دک لِلَفْطرَٰة وَلَوْ اََذت الْحمْر غَوْثُ امُتک. (ہاری) ترجمه: رت الو ہ ری سے موی ےک یش را نکی شب مقام ایلاءمٹش رسول الہپ کی خدمت ش دو پیا لے لاق گے ایک ش را بکا اور دوسراددد ہکا ۔آ نے ائن دوفو ںکی طرف دمیھا نچ ردود کو لے لیا۔ اس پر رت ج بل نے فرمایا:”خداکا گر سے جس ن ےآ پک فطر تکیطرفرمائیفرمائی۔اگ رآ رابک پیالہ نے لیت ذ کی اتک راو ہوجالی _' تشریح: ال صدیث مس دن فطر تکی مثال دودیہ سے دی گئی ہے اورک رای اورطلال کو شراب فی ےی رکیاگیا ہے۔ دودد می مھ پور خداحیت پاکی جال ہے ااس کے بیس شراب خر ب اخلاقی ب یں سحمت جسما لی کے ل بھی انچ کی محضرت رساں ہے ان مشالوں سے فو پا اںکی وضاحت ہو عِالی ےکہاسلام انمانوں کے لیے دودہ کی ط رح ایک نقت ےت

”گل _ نیرت جلونھیى ۹: اسلا مکی برک کا اھ طکر من یں ۔اس کے مق بے مس خی راسلا ئل میق اور خی اسلائیاکرد ظ انماٹی زندگی کے لے عا ھن ہیں ان کے ول سے تل رک لی ارتا نا ےاورٹہ ان کےذر یر سے انل عاشر دی امش عدل دق کا کن ہے۔ (۴) و عَنْ انس بن مَالِکِ قَال : قَالَ رَسُوْلُ اللہ ئگ : رآیث ذاٹ لَيلة فِيْمَا ری الام کانا فِیٰ دارِ غُقَبَة بی رافع فَاتینا برٌطب ىِنْ رب ابْنٍ طاب فاؤَلُ سی ہس مھ رس ۔۔- رسہییراور) ترچجم4: حخرت انس ین مالک سے دوایت ےک ہرسول خدا لگ نے ارشادفر مایا: ”یں نے اک نپ دیکھا شالت جن کیو وا نی دنا کر خ رح ون را سک خی یں۔اودہمارے پا ان دطا بک ت جو می لائیگئیں۔ یل نے ا کی بای رک یکہدنیاشش ہمارے لیے باندگی اور شرت می انام پیک ہے۔اودہ کرد ین جمارایہتراو رد ہ ہے“ تثٹ تشریح: تشریح: برعحدیث تالی سےکہ دنا م۲ ش یی سر بلنددی اور رفعت خدا کے رسولی اور اس کے نخان کے کی کک او امت گا سی ان ا مدکی ایام گے پارے یس فیصلہکیا جا ےگا انام تی ککبھ ی1 بپاادرآپ کے بپبروول کے لیے مقدر ہو کا ہے۔ خنداکے اف مان مرن اود ا یلوگ اس ون اھا م بدے دو چارہوں گے ۔ بل ران کے لیے ا سپ اکوگی مونحع نہ ہوگا انہو+اۓ جرمو ںکی ای یه ہے دب یبھیضیات تہ پا یں گے۔دیناتی میتی اسلام کٹل ف رما اککہ ای کعحدہاود مت بین دبین سے جو بیس عطا 90 ,0.0 وا اپنے پبروئو سکیس ربلندکی مز ت اور خرت می ان کے اخجام نی ککاضاصن ہے۔

حضور یلیل نے ىہ تاکن اپنے ایک خوا بکیاتتی کی عصورت میس بیائن فر مائے۔ لی اوررفع تکامطہو مآ پا نے لفظ راع سے اخذفر مایا اورلفظ تیر ےآ پان ےآخرت کے تیک اخجام کےعی لیے اور رط بن رطب اکن طاب" کی تادی لآپ نے بیف مال کرد بین جھ یں عطاف ا اہ دہ >ہتربین ہے۔ا کی پا کی گی اور کی مل شرنی سکیا مکنا خوا بک تی رکا بیشھی ایک ط ربق ےکرافطوں سے بطور فال مطل ب مھا .ابا طاب ایک الین کا نام ہے شس سے ایک ماع ک مکی ات وک الد

ا 'کلا منبوت جلد پنجے (6) ز عئْ اَی مُرْرَة عن الَيَ مه ال الِطْرَة حم او حَمْسّ من الفظرۃ الْحَمَانُ وَاَلاسْیِحْدَاذ و تفلیْم الاظَفَارِ و نتف الابطِ وَ فص الشٌارب. ٹڈ ترجمە: حخرت الہ ہر سے روایت ےک نی مل نے فر مایا فطرت پا زی ہیں یا بای زی غطرت یش سے ہیں :خق ہک رناءزمرناف ال موظ نا ءناخو نک غزا ءال کے بال اھیٹنا اورمو پچ کت ریا“ تشریح: یجن یآ دی اگراجچے ذوق اور پاک اورستخرىی طبع تکا حائل ہا لاز دہ ان پا نُوں چیزو ںکو پپن دک ےگا۔ اورال رح پہن دک ےگ اک ہگو ارہ چم پیدرای طود برا کی طبیعت کین مطا بی ہیں ان کے ل ےی تائیراور(ی مکی چنداں حاجج ت نل ۔ یہ پا یں چچزی ای ہیں :جن سے پ اکم گی اوھ کی عا مم ہوکی ہے۔مزیہ کان نی فا ۓبھی حاصل ہہ ئے ہیں ۔ چناں چرلنض ڈاکرو ںک یش ےک جن لوگوں کے نے ہو ہوتے ہیں دہ شر کم کے طا نین 8015) ےتفوظو رت ہیں

موی ںیکٹزوانے سےصفائی کے علادہ یھی خا کرد ہوتا ےکاد یہ کے جوف کے گلینڑ یس ایےے پارمونز پیدرا ہو تے ہیں جن کے لیے ہیردنی اشثرات اور بای بہت ضروری ے۔ موٹچیں بای اور ہو اکور وتی ہیں اس لے ا نکاکتردانا طھیفیاظ سے مفیدرہتا ے نے 2 کم وچوس انتک 20ا اکتردنا جا ےکہہون ٹکا را لیے

ایک دوسربی عد یٹ میں بی حاپپ گے یل نے ان پان زوں کےعلادہمزید یا رو ںکو فطرت میں شال فر مایا ہے دو ہیں :سریس مانگ الناجھس کےس پر پال ہول( مین بال ا جھے ہو ہوں پیٹھی نجوس رلک یک ناء ناک صا فک ناءمسوا ککا القزامء اور ای سے انت اکرنا۔ : از سی گنی فطریی اد تھے وق کے خی نع ماق ہیں ٹیپل کےا دشا ےآ کا رخ لی انداز ہکیاچاسکتا ےک ارت اورصفائی سخ راک یکواسلا مس درج پمن رتا ے۔ (۵) و عَنْ فَرَانٍّفَال: قال رَسُولَ اللہ كّ: قث لا بَجل لد ان بنعَهیَ: لوم رَجُل قَوَا َيْكُصُ لَفسَۂ بالدعاء دُونهُمْ فان قََل قد خَاهُم ول نر فِیبَیتِ قَبل ان مسَْقََ فَِن فَعْل فقَّذ دحل ء ولا يُعَلَی وَمُوَحَفِنْ

تی معن (اپوراؤو)

لاجر هوتی سلدیجی ا۳

قی جم4: طف رتبا ن ےردامت ‏ ےلو لخد پیک نے ا نکاماریے ہیں جی کے لیے رواییں ۔ چوس امام ہداس کے لیے چا ننین سکیا کو ںکوچچھوڑکرصرف اپنے بی لیے دعا گریۓروضرےی زی گدووازے ہوا ٤)بات‏ لے لی رگ کے ازجا گے اک رکوئی مرک تکرتا ہے نے یو ں کچھ کہ دہ اجازت کے بخیگھ کے اندرچلاگیا۔(جوااس کے لیے جائزنچیں )۔تیسرے یک شد یدضردرت لاتق سے باب یا پا خاش ہکی اورک گی قضاۓ عاجت سے پییلنمان ڑج نی ش رد کر دک نے یبال کے لیے چائزگییں _'' تشریح: ائن نے نین نات چا ی کی و دش ات کی اور لاتق یں امام جب دعاکرر ہا ہو ہہ بے مروثی اور لق یکی بات وگ یکردوصضرف اپنے لیے دع ما گے ۔ جراعت میں شائل دوسرے افراوکونظراندازکردے۔اسے چاہ ےک جب دعا ما کے ن بھی کے 9 ھ09۰۰ ہوگا کیہ ان کا ایج مقنفر یں کے سا تم ٹن بڑ ش ےگا اہشعیت کے لوت دبیھاجانے فا سکیا ازیت ےل یکوا کا زت ہوگا۔

اجازت شی ک ےگ میس چھامکزا خہایت تنج یک بات ے۔تضور ح لہ فرماتے ہی ںکہمہاند چھاکنا یما ےگویااجازت کے بخیرگھ بیس داخل ہ وگیا۔ یہ با تتگگا جان لین ضروریی ہ ےک پاب پاخانہکیشد بدعاجت ہو قضاۓ عاجت سے ینز نماز نہ بڑھھےء و ا ور ا رر زاداآئییںکر سک _ رتھلما تکس درو فطرکی ہیں اور ہار ۲وت اود ہا رگی اَی اس دارفا ظا رکھامکیاے اس بی باد گی ٹائ لمکم ے۔ (۹) و عَنِ الْمقدام بن مَعْدِیْكرِبٌ قَال: قال رَسُوْل الله َكه: مَا اَطعَمْتَ تفسک قَھُر لک ضلقاء ما اطعمت ولدک فَھر لگ صلاقةہ وَمَا اطعَمْتَ زَوُجُتک فَھُوَ لک صَدَقَةء وَمَا اَطْعَمْتٗ خَادِمَک فَھُوَ لک ضکقة (ار) ترجمه: ححضرت مقدام بن معل جرب سے روایت ےکہرسول اناگ نے فرمایا:” جوکھانا مکھا و دنھھوارے لیے صدقہ ہے اور جرکھانا تم این بچو ںلوکھطا و دوگ یمھا رے لیے صدقہ ہے اور جوقم اپنی بیو یکوا وو ہی یما رے لے صرتہ ہے اور جوکھا نام ایے ما مکوھا ا

بھارے لیے صدقہ ے؟

2 ”کلا منبوت جلد ہنجے تشریح: ضور ہلگ کےاس ارشاد کے بحداسلام کے دن فطرت ہونے میں سکوشیہ ہوسا ہے۔ بعد مث ای ےک ہم وین کے لے صرف وی انناقی صر یں ہے ہو وہ دوسرے عاجت مندو لک عاجت روائی یش اورماکیان وفقتراء خر خکرتا ہے بلہج مال دہ اپنے ائل و عیال بیقر کر تاہے اور جوکھا ناد اپٹی بک یا اپنے بچوں اوران نمادمو ںکوکھطا تا ہے ا سکاشار بھی خداکے بیہاں صدرقات یل ہوتا ہے یقت یہ ےکی وین کے ہل سے خواو اس سکاتحلق ا لک اپٹی ذائی ضرور ات دی سےکیوں نہ ہوا کے اطامع تک ار اور بن٤‏ صادقی ہو کا یا ظہارہواے۔

(ء) زع نان قانَ: قال رَسُول اللہ للّٰ: من صلی الاۃ فی جَاغز َكانما قام نشف اللَيْل و مَیْ صَلی الصُيْع فِیٗ جَمَاعَو َكانما صَلّی اللَيْلَ 1 ےر ترجم4: نحخرتعناغ سے روایت ےک رسول خدا ئل نے فر بایا: ”نج سسی نے عشاکی نماز پاجماعحت اداکی اس ن ےگو با نصف ش ب کک عباد تک ادرجنس نے ےگ کی نماز جماعت ے ادا گی سن گویاخھا شب عبادت می ںگز اری'“

تنشریح: بر اِک اہم عدیث ہے۔جھ بات اس عدیث مل بیان ہولی ہے دہ ایک ا مو گی ہے۔روایت میں وا یی خب بیدرارکی اورقیام لی لک فحضیلت بیان فا ہے سا پیم لوکوں ن ےآ پکی خدمت بیس رش لک اہ لوگ نت میں ۔د نپھر وک ےی کے کن تا ۔اں سن بآپ نے ربا یا کچ نے عشا مکی ٹمائیابضاععت ادا ای ےگویا نف شب عیادت می ںگڑارق ورس نے نما ز ٹچ باجماععت اداکی ال ن ےگویاخمام بی رات نماز یں گمز ای ۔ مطلب ہہ سے کیڑکھارے لیے بی قیام بل ےکی نماز باجاعت عشا اوج رک ادا روز جو رارنے سےمعلوم ہوا ےک بیدار کی حالت میں نمازاداکر کے چوس انا اپنے رب سے نہر کر ہے تو لق نین دکی حاارت میں مفنلع نویس ہوت بلنہ تلق باقی رہتا ہے حن تک کے لیے چو ںکہشب میس أٹھنا خہا یت دشوار ہے اس لیے اگردد این ایمان ولیقین می نکش ےو ا ںکا سونااوراستراحہ تک نا بھی عبادت ٹیل داخل ہے الہتہ جولوگ رات میل اھ سک نہوں اھیں

کا ری وہس ۳

تام بی لکاا ہنا مکرناجابے۔ا نال اس با تکاشمودت ہوگا ۳ کے لیے سا مان راحت ہے انی ںآ نے وا نے قیااعت کے ون کا اس فک رخیال رتا ےک دہ شب میس لیس دا گآ سے ےک کے اتن یکو رپ کوراص یکر نے میں مصروف ہوجاتے ہیں 000 ھی ہوتا ے۔ (۸) و عَنْ عَکِیٔم بن جزام ان ال قانز: زا زضزل الل زا انز من 7َعَنّ بَا فی الْعَاملَّة ِنْ صلة و نول لی ام بر قالَ عَكَِْ قَال رسُول الله ته: : سْلّمْتٌ غَلی مَا سَلَفَ مِنْ خَیْر. (ہخاری) ترجمهھ: حض گی بن تزالظ ےددایت ہے وہ تا یں کداتھوں نے عرش کیا : اے الد کے رسولہ ان امور کے پارے میں چییں بنا میں جو یس ز ماس جاللیت می سکرتا تھا۔ صل ری گمردن بچٹرانا اورصدقہ وقیرہءکیا جھے ان نزو ںکااجر گا ؟ رسول ادن لگ نے ارشادفرمایا: ”مان چھلا خوں بی پ سکم ہودۓ ہجوز رے ہو ئے زمانے می کے ہو تشریح: معلوم ہو اک صلہرکی کرد ن نٹ انی ( خلا کو زادکی دای )اورصدقہ وی رہ ئن اسلام ہے۔اسلام ان ایوں ‏ یکوف رون دینے کے لی ےآیا ہے۔اسلام اققیا رک رن ےکا مطلب می ہوتا ےک ہآ دی ان نگیو ںکوانخیارکرے۔اورا نکی طرف سے ہرگ خاٹل نہ ہ۔ بینکبیاں ات اءمہت ری وں کہ ریخ اسل قو لکرنے سے پ یھی ا طر۲ ٹیلیا ںکرتار با ےت ا سکی ینان مز شا جن هی ںی و کو ۳ تھا۔ ان ئگیو کا اج ون ا ب بھی ا سے عطاکیاجا ت گا (۹) و عَنِ ابْن عَائدٍ قال : قَال رَسُول الله تّه: یا غُمَرُ الک لانْسْال غنْ َغْمَال لاس والکن تال عَنِ الُفْطرَة. (رواٹجی فی شحب الا یمان ) ترجم4: مت ان عاکڑے رواییت ےک رسول ال ملک زایا ےک گے (ائل میں ) لوگوں کے اعمال کے بارے میں یس پو ھا جاۓ گا بللتم سے سوال فطرت (اسسلام) کے پارے میں ہوا“ تشریح: بی یگ انم عدثٹ ہے ددایت میں ےکہ نم جنگ ایک چنازے کے سمائھ

۴۳ ”کلا ےنبوت جلدہنجے تحرف نے مگئ ۔ جب جنازہرکھاگیا ق جحفرت گار نے عون سکیاارسول ابد ہآپ ا کی نماذ جنازہنہ پڑھھیں۔ نس ؤاسق تھا ۔ نیم نے لوکو ںکی طرف د ادنگ نا نیک اتی نے اخ سکواسلا مک کوٹ یکا کرت د یکھا ہے؟ ای ھن ت ےکہالکہ پان +یا رسول الا َ خداکی راویٹش ا نے پاسبالی >ھسیرجورارت ات ا دی و ہیر : کےارشا دک مغ ہوم بی ےکآ دب خواوٹل می سکتفاہی تی ہومیا ناگردوموسن ہا ا سک یکوتاہیوں کی وجہ سے اس کے ایما نکونظمراندا زی سک نا جا ہے ۔ یمان بی دہ اصسل فطرت سے جو روج حیاتءزندگ یکا اتصمل اورسماری اشیاء یل سب سے بڑ کر قد رو تج تک حائل ہے۔ من ہونے ےر کے ےکس نیش کے جو توق ہوتے ہیں ا نکو اداکمر نے میں سام لی ںکرنا چاہے۔ من می تک مغفر تک دع اک کی جا ہے اوراس کے بارے می سن نحن ےکا لینا بجی اسب ہے۔سی کے بارے یس فیص اکر نے کے لیے اس یکو د یھنا چایے جوااس کے دن دایما نکی مظہرہو۔ ہا ں کک اعمالیکانلقی ہے و ار ہمت بہت دق ہے۔ می نھولنا جا ہے ۔ ا عدبیث یل ہمارے لیے بتنیجگیا ےکرمیت کے برے اعمال اورال کے ظا ہریت کا کر تی لکنا جا ہے بللہ ا لک ابی بانقوں بیکوسا نے لا نا جا ہے ۔ ایک تک ہآ پا نے فرمایاچھی ے: اد کروا مَوَّْاكُمْ بالْحیر۔'غماپنے مردوں کا تج نکر ہ پھلاکی کے سا تق ھکر ت

بی نآمان

'.() عَی آنس بی الیک ان تی الله گان بَُوَْ:بُجاء بالکافر يَوَ اليَيَامَة فَیْقَال لَهُ اَرَایٔت لَوْكَانَ لک مِلٌء ال‌رْض ذَهَبًا اَكُنْتَ تفَیٰ بہ َيقُوْلَ نَعَمْ فَیقَال قذ کُنْتَ سُبْلّتَ مَاھُو ايْسَر مِنْ ڈلک. (خارق) ترجم4: رت ااس بن مالک سے دوایت ےکہ الد کے نیع فرمارسے تے :”جب قیامت کے رو زکافرکولایا جا ۓگا نے اس س کہا جات ےگا کہ بت اگ ھا رے پا ز می نک رسونا ہونان دکیائم (عذاب جات بانے کے لیے ) سے فعد یشیش دے دی ؟ ووعرت کر ےک اکلہ ہاں۔ائل پر ال ےکہاجات ےکم سےا ال سے بت بی لے اور مکی مطال ہہک انی تھا ۔'“

٠

لج بہت جلہممرز ۳

تشریح: تشریح: یی انی ناف انی اود شیک وج سےآ نج تم جن عذاب سے دو ار ہوہ ال سے جحوجوتومچھ یع .۔آف کن فظاب تے ہن کے نے تر زلزوکرْالگھارےپاض سڈ ےتلذر رض یازرای ×× کن ازم سے جوم طالہ ہک یا گیا تھاوہبببت بی پلکا تھا۔ مطالبہاس کے سوا اور پچ گی نہ تھا کرک اور خدا کی ناف انی سے بپیواورایک نمدا لع بنرے م نکررہو۔اوراستطاععت ہون چجھ دا کے رات یں بھی خر کرو تم اگمردنیا ای زندگی یل اپے جمکین یکو لیت تو دن می درد زع اَبیٔ مُریرَةٌ اَحيْرَُ أنَّ مرف َال فی الْمَمْجد َمَارَ اِلَيْه النَاسٰ ليْقعُوْا بہ + فقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ الله ّْ: دَغوٰۂ و اَمْرِیقُوْا لی بَولِه دنوب مّنَ الْمَاء او ِجُلا من الْمَاءِ فَإنمَا بعنتُمْ مُيَيِْيَْ وَلَمتبْعَنوَا مُعَيرِيْنَ. (متاری) ترجم4: حضرت ابو ہریرہ سے دواایت ہے دہ با نکر ت خی ںکرایک بد وکی سد یس پیتاب نے لا تو ات ما نے کے ےل ک ا کی طرف مدوڑے۔ روگ ال پگ ےن لین سے فرمایا:” اس چوڑ دوہ اس کے پاب پر ایک ڈول پالیٰ ببادو۔اں لی ےک تم آسانی پیدا مر نے وا کے جاک یی من کے کے کی ںین یز تشریح: مطلب بہ کہ دین مم لت نیں ہے۔ اسلام کے چیروئؤو کون سے پر ہی زکرنا چا ہے بے یھاری ذمددارگی ےکم آسمانیاں پیداکرو۔ لوگ ای نادانوں سے جن مشلات میں لا یں ان ملا کور خکرو۔ اسلا مآباہی ہے اناو ںکوم ٹا ت اورممنبتقوں سے نجات دلااتے گے لیے ۔اس لیے مرا فص نے نادائی سے مسر میں پا بکردیا تق کیا قیامت میا ران کفلسنجحاسی کے باتدل لیا ۴ے اک لوٹ ی یبا تکوبڑکیہ کراپنااوردوسرو لککاوقت اورقوت ضاك کر کہا ںک یکل مندی ے۔

)٣(‏ و عَنْ جَرِيْر بن عبُِ الله قال: ايعْتُ النبیٗ تن عَلّی السُمُع وَالطَاعَة َلقَِّیْ یما اسْمطَعْث وَالْضح لِگُلِ مُسلم. (بخارل)

ترجمه: خر جرمہزلن برا دای تکرتے خی پکہیا نے تیج سے بح دطاحعت اور ہرملما نکی تیر خواب یکر نے پر یع تک تو آپ نے بج ےکقین ف مال ی کی بیج گکہو ںکرن پدریجوے ہو سے

۲ کاج وس ہرز تٹ تشریح: ‏ ن گج یکپوک یس مر مھ ے ہو سے فقر: با تا ےک ہآ دیاصی کا اس ایا حد چو و ےو وت اکر وبی کے یی ش ظررسےنوو بھی بھی اس مین لایس ہوکیا۔ وہ خدا شک رگزارہوگا کرای نے اس پر اتاج بو چھڈالا ےج سکو وہ أُٹھاسکتا سے وو دی نکوحت یگھے کے جا ۓےھیکھی اسےمصیبرت نوز ںکر ےگا اوھ دن یش ت اراتا رک ےآ پکومصیبت میں ڈا نگا۔

(() ز عَن عَابفَةًقالك: ان يَقوْلَ رَسُوْلَ الله بن غُدزا , ال کا َطِبقََْ َِنٌ الله لہ مل عَتّی تَمَلوْ وَاَحَبٔ الصّلوۃ إلَی ای انت دُوُومْ عَليْه و إِن قَلّتْ وَكَاَ إِذَا صَلّی صَلوۃًدَاوَمَ عَلَيْھَا. (ہخاری) ترجمد: حضرت عائٹیے ردایت ےک رسول ال ماگ فرماتے تھے :”اتتان یم لکرو جتندکی تچھارے اندرطافقت ہو۔ اڈ یں أ کتاجا جب ت کفکنم ناکما ما3 'اورسب ےو پنماز یم لپک کے نز دیک دی جس پ بداوصت اخقیارکی جا اگ چردہکم بییوں ہ+ە-اورآپ جبکوگی ماز پڑت نواس پر داوم تفر ماتے_ تنشریح:ال حدیٹ شال بات پرزددد گیا ےک دبین ہرگ مطلو بیس ہ ےک ابنی طاقت سے ب ےکر لکرو۔الہت جو لکروااس پر بداومت اخقیا رکرو وو لنھارے اخلاقی و کردا رکا مظہرہوملسی ول جا با بیجا نکا مخ نہ ہو بطورمثال ال عحدیٹ ٹس تایاگیا ےکہ تضورم لگ ج بکوئی نماز پڑت فو اسے نکی سکرتے تے بللہراس پر حداومت فرماتے چھےہ جوا با تکاشموت ہوت کال نما زکی ابی ایک ہت ےک

(۵) و عَنْ جَابٍ قال :ال رَمُْلَ اللہ :لیس مِنَ الب الضَيَامُ فی السُفَر (ہفاری سم)

ترچ م4 : حضرت جار سے ردایت ےکر لِغدا میگ نے فربایا:”'سٹری روہ رکھنا پچ

کی ککام ہیں“

تشریح: :می فیس تے۔ دککھاک رای کی فش ڑ اہےاوداوکویں نے اس پرسا بک ررکھا

نس اتا اش ہس مسیتر

آ پانے دوبا تی جو ال عد بیث ماف لککئی ے-

کلاےنبوت جلد پنجمے_ چ

سفربیس روز درکھنا بیو ںچھی دشوار ہوا ے اورم وی اگ رخ تگ رٹ یکا ہونذ ف ٹیل روز ودار مال ہوکردہ جاتا ہے۔ ہ تی ککام دین ےکن دبین انسان کے لی ےکوگی مصمیبت ‏ نکرئیس تر اے۔ ا لک کا مآسانیاں فراب مکرنااورمشکلا تکور کنا ہے۔ای لی ےآ پا نے فرما امہ سفرییش روز ہرکھنا ھی ککا میں ہے۔ مت بلا وج اینےآ پک شقتون میس ہت اکرنا وین یں مطلو بی ۔الہبتہ اگ ری می اتی طاقت سےکہدو روز و رکوکر پاسمانی سفرک رکا ہے اس کے لیے ا سک اجازت ہے۔ دوسفمی لبھی روز و رک سا ہے ۔عحد یت میس اصلا ال تقیق تکااظہار متصورے ےک دشواری اورمشخقت ہزات خہوئی نی ککا میں ہے۔دشواربیوں اور شمقتو ںکود گن کککھنا درتقیقت راہبا فنص و رکی پیداوار ہے۔اوراسلام نے ر ہباضی تکوقتطعا نا چا تق راردیا ے۔ رہیانیت انما نکی فطرت کےخلاف ے اور جو چچ زفطرت کےغلاف ہوں ہعارادی یکیو ںکر ہیکت ہے۔ دی نول پیش انسا نکی فطر تکات ہمان اورشا رح ہون چا بے نہ ی کہا لک بنا مار فطرت کے دواگ کی مات ب ریو تچج- (۷) وَ عَنْ بی بر بن عَبِ الرَّحْمٰنِ عَنْبَُض اصحاب التبي عَلتّ قَال رَآیْتُ النبی عَلجه آَمَر الام فی سَفَرم عَامَ اح بِالْفطٌرِ و قال: تَقوَْالَِدُوَكُم.

(اإوراؤر)

ترچم4: رت الوگر بن عبدالرجمان سے م روک ےک ہنی مگ ےپ اصحاب ن ےکہ اہ نے میم ونس سا ل مہ ہواد یھ اک یآ پان لوگو ںکوسفریس روز دافطا رک ن ےکام دیاادرفرمایا:” اپنے شنوں سے ما لے کے لوت حاص٥‏ لکروں“ تشریح: سفی لوگ روزے سے تے۔ رمضا نکا ہی تھا۔ بڑھنوں سے ہنا بل ددجیل تھا- می نپ نے روز ون ڑد ہی اعم دےدیا ‏ ک۔گرشنوں سے جن کک ندب تآ چان نو مسلران پر قوت ےا نکامقا ہرک ری ۔روزے ےکآ دی مض فآ می جانا ہے اس لیے جہا کے موٹحخ پرروڑولوڑ و ۓ کی امازت 26 دیاگیاکہشنوں -:] و) وارکی یی نہآئے۔ اس سے معلوم ہو اک دین بیس ہمارگی تام پی ضرورنو کا لھاظط رک ھا گیا ہے۔ ای لیے دی نکوآ سا نکہاگیا ہے۔

کو تو وق

() و عَنْ عَائِشة زَوْ ج النبي عَلته اَخْبَرَتَةُ ان رَسُول الله بک قَال: مَا بن اثرثٰ تکزخ ل ضارۃ پا َمْية ھا لم یب له مز ضلویہ و کان نَوْمْهَعَلَيْه صَلَقَةً. (الوراؤر) ترجم4 :نی مل کی اہلیحضرت عا کڈ سے رواایت ےک رسول ال ھٹگ نے فرمایا:” جآ دی بھی رات یں نماز بڑہتار اھ پچھرا 92 سس بی کت رن نس کان نا وا ھا ا کا ۔ادداگی تید ہق راربا گی“

تشریح: تشریح: مطاب ہہ ےک تام یل اگرسی کےمعمولات می سے ہے وی رات ین کے فا کی وجرے دونماز کے لے نیس کات بھی اے یم شی لکا اج وو اب ےگا کیو ںک اکر دورات ٹیل نماز کے لیےکییں اھت مقول عذہ رکی وجہ ےکی اُٹھا ۔ الک وج ظفلت اورے پروائی ہز بڑگی۔اسے قیا مم ل کاٹ ا ب بھی ملا اور خیند سے استراح بھی ال نے حاص لکیا۔ یہ دا کالف‌ل ےک ا سک نینرکصدقہقراردیاگیا۔ ببحد بی چیا اس بات کا شوت ےک اسلام ٹیس بے چان ویش ۔ رہ آ یک فطرکی اور سان دبع ے۔ )۸(‏ عن ابی مُرَْرَةً ي اليَتّه قال: ان الین يُسْرْ ران بُمَاد التنَ اڈ الا غَلَيَء فسَةِڈُوْا و قَارِبوا و اَنشِرُوْا وَاسْعَِتوْا بالعدوَةِ وَالرَرْحَة رَ شْیْىٍ مِنْ الذُلْعَة. (اری) ترج م4 : رت الد بریر سے دوایت ےکہ نی مل نے فرمایا: ‏ بلا شب می دبین (اسلام) آساان ہے اورد بین سے ج بچھیکوکی مقابہکرےگاو ا سےملست دے دبگا۔ ارام سیر ے راغ برچلوںخرت پنری اورفلو ے وا ورخشل رہو( تھی نیا بت لیے گی )او ریگ کوچ للوہ شا مکواور بورات میں چ لک روح اص٥‏ لکروں'“ تشریح: معلوم ہو اکٹل کے لیے میدد بین ہا ی تآسان ہے۔اس می انان مکلف ہتس ا یکا سکی اسے استطاععت عاصل ہے۔اسی لیے شرت پیندی اورخلو فی الد بن سے لوگو ںکو ردکاگیا ہے۔ دی نیکوشرت پیندک یک ضرورت کی ۔شمرت پیندی اختیارکر نے والا بالآ خر عاجزو درماندہہوگررو جانا ہے۔ دن پر وہ قفا لکرسکا اس بھی رد ہو اتا ےا لی انان کے لے تع یق یہ ہوگاکردو دی کےسید ھھ ممادے راس کواخ یا رکرے۔ ڑم کے

کلا ےنبوت جلد پنجے ۲۹ غلواورشرت پیندئی سے از رے۔ ابق جا تک امیدر گے ادرخغوش ر ےہ ٛہیں اس مسافر کے٤‏ ظ راہ پل لک نا چابے جوشنڈرے وقت ‏ دشا سفرکرتا ہے اور ورات می بھی راستنہ لے کر لیے اور لیے سےلساسف ےکر کے بہ ری تآرام کے ساتقھ انی مضزل بر جات ے۔ ‏ و کسر بارش رت ای الاو لن تنا ا نے الخ روجھک پارکردہ جا تاے اورمنزگل اس سے دوردی زان ونس یا ماف ری جومشال دکی ہے دہنہایت پامعحی ہے۔ائ مل یس بہاشار ہکیامگیا ےکہ مد نیا ایک سر ہے ہار مضززل دناچ لآ خر تکیکام بای ہے۔اس من لکو پانے کے لی ےضردرکی ‏ ےک جارا سفرجارگی ر ہے۔اور ہماراررغ مضنزلی کےخالفسمت ہرگ ضہہو۔ ریز ندگی خد اکا اطاعت اورال 029 می شسکمزرے تع وشام اور پچجدرات کےآخری جے میں نو ا‌ لا بھی اجتراممکریں۔

"5 م"مو؛ُٴ۳0٭“" طض" ہس

یی سے

شی آفر ایر لی رون لم تضعٰ زاھ رون زین صلی الْهْرَئَُ ٹم زکب. (باریق) ترجم4: حضرت الس ین مالک سے ردایت ےک نی علنکج بآ قاب ڈھلنے سے پسلی سر کے لیے روانہ ہو ت ےپ اکھر کے وفن ت کک مو خر مات تچرائن دوفو ںکو ایک سا تج طا اکر پٹ ا اور ج بآ خیب ڈعل نک ہہوت بج رآ پ فہک نمازاداکر کے( سف ر کے لیے )سارہو تے۔ تشریح: ال سےانداز ءکیاجاسکتا ےکہاسلام کے پیروئوں کے لیے ان کے بین میں7 سالی او رہول کی امس درج کنا ای زی ای ہے۔سفرکی حالت میں ظہراورحص کی نماز میں مگ کے ادا گے ین اق کے یی ول رت 6غا کی یی تل مھت دتقیقت د بٹی احکام کے جومقاصد ہیں اصل دہ ہیں۔دہ مقاصد بد ل ےکی جات ۔ اعما کی ماہرکی شکاوں یں ضرورت خمتائضی ہون ان می نشج کا چاعکتی سے۔ شا جم اگ رکھیڑے ہوک مان اوانڑی کر شک فو یٹک راد اکم نان راز یا شا گی یاد سے فافل رٹ ےک اجاز کی الف ںین دقی تق خ دا کن بدا ود ال ل1 لق گزی خیارت ہے٤‏ اکن سے دست بردار ہو کی اجاز تکیے دیی ح اق ے۔

7 کلا منبوت جلد ہنجے )۱١(‏ ز عی ابی مُرَْرَةٌ عي اللَِي مه قال: ان الله تََاوَز عْ ائییْ ما حَدَقَّثُ بہ انقْمُهَا مَالمْ تَعْمَلُ او تتَكُلمْ. (جاری) ترجمه: جخرت ابو ہ ری سے ددایت ےک ہنی ماگ نے ارشا دفر مایا :”ای نے میرگی اممت کےلوگوں کے ان خیالا تکومتا فکردیاجواع کے دلوں یل پیراہول ج بت کک اس پل 0 ْ

تشریح: ولوں میں نالبند یدوم کے خیالات اگ خود سےآتے ہیں تو پر ینان ہون ےکی کرور یک خراآن کر فیس فر مان گا۔ ای خیالا تکی صیشی نل وساؤ نکی ےت شیطان دلوں بیس وسو سے ڈال سکتا ہے۔ ہیں ان پرو میں د 2 ہے خداوسوسو ںکومعاف کرد بتا ہے ۔لا ناگر ہم ا نکووزن دچتے ہیں ۔اا نکیل میں لا تے اگغنگوئوں میں ا ن کاپ چار کرت ہیں فو پرمہ یز یقن قائ لگرفت ہوگی۔ ینس پر جمارااپناکوگی اختیانیش اس پہ ارگ گرفت نہ ہوگا۔ دی کس درجہآسان اورفطربی ہے۔کاش ہم ا کی قددو ٹج تکو ور پر میں کرس ۓ_

)١(‏ عَنْ مُوْسَی بن نس عَن ابی ا رَسُؤل اللہ تل قال: لَفد تَرَكُمْ ِالمدِیَة اما مَا سِرْتم مَِيْرَا وَلأ اقم مِنْ تق ولا قطمنم من وَاد الا وَھُمْ مَعَكُم فلہ. قالڑا یا رَسُولَ الله و كیت يَكونوَْ مَعََا وَهُمْ بِالْمَيبنة؟ قال: عَبَسَتَهُمْ الْْرُ (اإوراؤر) ترجمد: حضرت موک بن انس اپنے والد ال سے روای تکرتے ہی ںکہرسول ادلد پگ نے (ایک ہا کے موم پر)فرمایا: نتم مد ینمی اللیےلوکو ںکویچھوڑۓ ہو وھ رے سے یں اور تم جھ پھر جککرتے ہواں اور جوواد یھی تم 0 سانش ریک ہیں ؟“لوگوں نے عون سکیاکہ ارول الل٠دہ‏ ہمارے ساتح ھک سے ہو سکتے ہیں جب کمدہد یٹیل ہیں؟ آ پا نے فرمایا:” د٤ع‏ دی وج ےرک یئ ہیں“

'کلا ےنبوت جلد ہنجے لق

تشریح: خدالوکوں کے ارادوں اورا نکی یتو ںکود بنا ہے۔ اگ رکوکی خداکے را تۓ میس ڈلنا اور جدو چہدکرن چاہتا سے اود ا لک رہ خوائشل ہوکی ےک خداکے دین کے فروخغ اود ال سک انام گطز وااا لگ کآرے ےا نشئلگروں ارسییرو ںی تھے نذدہ چہاد کے لیے سفراغخیارک پا ا ہے اور ہااس سلسل ہبی اے اپنا مال خر خرن کے موا حاصل ہو تے ہیں بج رجھی خداکے یہاں دو میا ہر یتیل الل دق راربا ا سے اورا کا شا ران لوگوں یش ہہوتا ہے جو خدا کے رات بی انا مال خر نکر کے ان سککاشموت تم جات ہی کرد خداکے ملس پورۓ ہیں اوہ کن ریا کول کے یم دو اسب چپجوف ریا نکر گاج کھت ہیں ۔خداکے یہاںا ینعی نکا شا ران ہی لوگوں یس ہوگا جن میس شائل ہون ےکی ای اوکوں 00

جب ہم خدا کے رسولی کے اس ارشاد پنغورکرتے اور وھ ہی ںکہ وین ہنع عاملمین رخدا کی رکیتیں اس نر رکشمادہدامکن می سن اس دین کےد بآ نارحمت ہونے یسیک کوکش با ینمی رنتی۔ )٢(‏ و عَن اَی مُوْسیٌ قال: َمغث الیل غَير مَرَّة ولا مَرَّتيْ يقُوْلَ: ِذًا كانٌ العبْد يَعْمَل عَمَلاً صَالِحا فَشَغَله عَنْهُ مرٌض او سَفَركیب لہ کصَالح

عو ےر رف

مَاكَانَ يَعْمَل وَهُوَ صحیح مُقیم (اپیراؤر) جو فعفرتاو وت ۶دا نر کے یکین نے کی کیاکی ای پا رئیش ہیفرماتے ہحوئے متا جب بد وکوئی کی کی٦‏ لک رتا سے پچھردہ بیاری مائی سف ری وج جضن کم کر سا را متا کے لی 7اس ول کروکت اوراتقا مکی حالت می لکرتار اے_“

تشریح: بعد یٹ چگی ا باتکاد ام شوت ےک الا مد بن رممت ہے۔ ینار بسفریاسی کی و سے اگرکوئی یکس وو ۰ای سکیا جا و حر گی جالت مین پگ یر وکرکر الا ہےذ خدا کل کے بی اج رع طاکرتا نان اون یک گھیئ۰ل تر ء,ھ" و0 ےک نل کک ےہ کی یھ شال مرے سض رکاوٹ یآ لی ے۔

سو کات

)٣(‏ و عَنْ جَابر بن عَبِّ الله قالَ: ان رَسُوْلَ ال لٹ سن بعموا رك و هُو یَسِیْر قَال قُتََِةُ صلی فسَلُمْتُ عَلَيْه فَاشَار إِلَي فَلمَا فَرَعٌ دَعَانیٰ قَالَ: الک سَلمْت ايفا و آنا أُصَلَِیْ وَھُو مُمَوْجَة حِیتَبْذِ یل الشُرْق.(ط) ترجم4: -ضرت جاب جن عبد اڈ ردایت ہے۔ دہ پیا نک۷ر تے ہی سک رسول الل مھ نے بے ای ککام سےکھجا۔ پچھمرمیس لو فک رآ پ کک بچا آ پل( سارک پہ ) چل درہے تھے .- تی کی ردایت ٹل ےک ہآ پنماز پا ہدرسے تے۔(خقل نمازسواری پر درست ھاہے یش ن ےآ پکوسلا مکیا۔آپ نے اشمارے سے جواب دیا۔آ پا جب نماز سے فار ہو ئے لے بے بلا ا اورفر مایا: ”تم نے ابھی بے سلا مکیا تھا او یٹ ہماز یڑ حر ہاتھا 2اس لے سلا کا جواب نہ دے کا عالا لک فآ پا دب جا تھا۔(ج بکرقلہ اد بکیطرف تھا)- تشرییح:اس حریٹ سےمعلوم ہواکرلنل نمازاوشٹی بای اورسوارکی پراس حاات میں پڑت سے ہیں ج بک سوار یرک ہہوئی نہ ہو۔ اس مس استلقال قب ہکاچھ یآ دی پابن رکٹ ر ہتا۔ چناں چہ ال عدیٹ ٹل بتایاگیا ےک ہپ چلتقی ہوئی اشن بہماز پہدر ہے سے او رآ پ کا رخ لی رو کین پلیہ دوسرکی جا تھا۔اں سے معلوم ہو اکہسواری پر جب نما 28714:57 کر نمکن ز ہو سی بھی مت ر غکرکےنماز اداکر کت ہیں ۔ اس لی ےک اصصل مقصد نو غداکی طرف ر نکر ہے چوسی نما سمت می مقیڈیڑس سے لین اتال قبہکوا ٹیہ نیا اہمیت عاصل ہے۔اسی لیے خر نمازوں میں امتتقبا لقبلہ ا زم ہے فو اٹل میں ا سک یکنکش رگ یکئی کرق کی طر ف گر غکریالکن نہ ہو ٹل نماز ترک شرکرے بلگ ا دیی یش تر غ کر کے نماز پڑت سنا ہو پڑھے۔ بنلدہنماز یل خداسے سب سے (یاد قریب ہوتا ہے ۔آد یکو ےك یہ ق بت جہا ںکشکن ہوعاصس لکرتار ہے۔ غخدااپ نتر بکادائکن بنروں کے لے ہمدوقت ون رکتتاے۔اسے ال کی رعمت کے سوااورکس یز ےکی رکیا جا سکتا ے !

( زع تام ا اي ماد بالشلوۃ فی لبْلَةذَاتِبَرِو رح فَقَال: الا الا صَلُوْا فی الرّحَالِ تم قَال : کان رَسُوْل الله ع ماش بَا مُرُ المُوّذْنَ اذا کان لَیْلَةُ بَارِفة ذَّاتَ مَطر تقو الأَصَلُوْا فی الرِحَالِ. زن 0

کلا ےنبوت جلد پنجے لا ترجمة: ححضرت انح سے ردایت ےکہاء نگھردشی الیک مانے ایک رات نما زکی اذ ان دا- بیردات سرد او رآندنگی یی (اذان کے بعد پارر) کیا رہ سے جنےگمروں میں تماز ارا کراو۔ پچ رکہا کہ رسول دہج شک جب رات رد لا کا: ہولی موذ نگم د ےک ”اذ ان کے بعد پکارک کرد اکر وکہراپنےگکھمروں یں نمازاداکرلو۔'“ ٤‏ تشریح: :سوک ے پقغ گرا2 پکا ری فک ھھوےپھ زاس پل ای رات ثہایت سرد ہے٤‏ اس کے علادہ بارش لبھی ہورہی ے۔ اڑی عالت ٹیں پر چانا ۱ از ا ا لک اان کے سا یر اعلا نکرایاجا تا ےک نما زکا وت ہوگیا ےکن موم ایا ےک۔اس می سکگمرسے نل نا ھا رے لیف دہ ہوگاء اس لیے نما اپنے اپ ےگھروں یں اواکرلو۔

اسلام کے تق بھی ا حکام ہیں خواوا نکاتلق عبادات ے ہو یاا نال مع شی امور سے پاسیا سی اورمتاشی مسائل سے ہو ۔آ پکوہرمحا لٹ خداکی رم تۂمایال دکھائی د ےگیا۔

)١(‏ تھی ان غمَوقال: قال رَسُولُ الله تٹّ: ا الَجْل لِیکُونَ مِن آغلِ الشلوۃزَالسْرم الکو وَالْحَع وَْممرَة عَي فكر هَم اعْر كُهَ رتا یُجُزی يَومَ الْقِيامَة ال بقَدرِ عَقْله (تیق) ترجمه: حر 2 و ا و ایک نس ے جوخاز بھی پڑھتا ہے روز وی رکنتاے کو لی دا اور وو اور پچ یک رتاے ببھالبظسام پان تام نی ککا مو ں کا ذکرفر مایا لین اسے قیامت کے روز ا سکیل کے مطا بی سس

تشریح: تشریح: بیحدیث اس جا تکا دانع شوت ےکینٹل وہ مکودین یس بفیادی ابعیت حاصل ھی وی اعد جس شور نعل او رھ ہوگی 1 اس روہ کپارا ت او تک اعمال لک اصصگل راٹس سراف اق تادت اود لفاغ کئ اکر کا -۔اورگگ رای کے مطاب دواجر وا بکابھی شف قرار پا گا۔

کلاےنبوت جلد پنجے )٢(‏ و عن ابی در قال: قَالَ رَسُوْلْ الله تَك: ا آبا ذَر لأَعَقُل كَالتَدبیْر وَلاَ وَرَعَ کَالّگّ وَلاَحَمَبَ کحُسْنِ الْعْلَي. صق) ترجم4: ضط رتابوزرڑےروایت ‏ ےکرو لخد کے نر ےو جن کوگی تق لکیںء اجقناب واحقیاط کے براب رکوگی تق یں اورسن' اغلاقی کے برای رکوئی ضر یں“ تشریح: می ابی ار اس حد یٹ میں پیش فرمالی اآئی ہے۔جو اہ تقر ےمان ابنے معال ید مطالب کے فاظا سے ببھلائ یک ایک بڑکی مین وشیل دنیا اس بیس دکھاکی دب ہے۔ اس سے ہو کر وائْش مندر یکا بات اورکیا ہی ےکہعفل ودی ے جیممطل ہوکر نہر ہے ذبیعقل حقییقت میں ددی ے جولک رون بر ےکام لیت ہواورزندرگی میں کت بی پر با نین مسا لکیوں نہ کھڑے ہوں نان وہ ان کےک لکی ت ہی رانخقیارکر نے بی تسا لکا روادار نہ ہو جم پر جتتا چنہروں ۓ وردیا سے اتا نازورفلاسف اورمفگ ریس دے کے ہیں فمرماھے ہی ںہ پرامٌوں اور 7 "مم" دوسرا میں ہوکنا یقت یہ ےکہابی خواہشات پرقابو رکھے ہوئے اور نا پہند ید وامور سے ابقتا رج ہو تی ککاموں میس گے ہناجی اسلام ہے۔ اور پک یہ با تکییسن اخلاتی کے برابرکوئی حصب وض بکھیں ہوسکناءاضسانی زندگی کے لیے دہ ڑم ل نظرہ (0۸0118) سے ےل ےر پرورو دواد پرآو بیز ا نکر ےکی ضرورت ہے۔اس سے تصرف بک أتضبات اورمظظمت د بر کی ے ۱ فا تقصورا تکیافی ہہوثی سے بکہانسانی زندگی ایک الیی ھے سےآشنا ہوثی سے جوزندگی کا اصل ج لکن زندگی ے۔ الّمُسْلم سب بنجس. (اپوراؤد) ترجمه: جضرت ضز نے روایمت ےک بی یں رن ے لا آباعذیننگ طرف ( لے ا ماف ہکرنے کے لے) ےت یں نے (مذ مھ رک و نے فرمایا 1[ کرک و

تعشرو اکر نپ بی تل کر ےکی اض لماعت

'کلا منبوت جلد پنجے ۲ تین س ریا یئن .نے دہ نایا کول بوجچانا۔ چنا رتچ حا تنگ اے- اس لیے نب کےساتھ ٹیل اوراس سے پا ملانے می ںکوکی اتیل سے بچھریموسن جہونا تو و تخیقت ایک الک گندگی اورنایاکی سے پاک ہو ےکا نام ہے جس سے بڑ کر نا پاکی دوسرکی نیس ہوکتی۔ہ در کک گندگی۔اس لیم وین کے لیک س کالفا استعا لکر نا اس کے رہ اوردرجہ کے منائی ہے۔ بیوں شر کک یکن دگی اود نا کی اس سیر وقیدہکی ناپ اکی اورکندی ے۔ عم کےواط سے و وھ یجس اورنا ۱ اک یں بوتا۔اں لیے اس کے پاس بین اوراس سے پاتھ ملانے سےاس سےکوئ یگندرگی پھ رکٹ یئیس ہوک ۔ (۸) و عن ابی ذَر عَنِ الْبيٰ َّه قَال: یُضبخ لی کل سُلاملی مَنِ ان اكَمَ صَلَقَةٌ تَسْلِْمَهُ لی مَنْ لی صَنَقَةٌ وَآَمرُه بالمعْرُوْفِ صَنَقَةً و نی عَن الْمگر صَتَقَة وَ اِمَاطةً الڈی عَنِ الطَرنق صَدَقَةٌ و بُضْعَةُ اَمْله صَلَقَةُ رَ کرفرڈک کی سر (اإوراوؤٗر) ترجمه: جحخرت الوڈڑ سے ردایت ےک می عأللّه لیک نے فرمایا: ”جب کی ہوک ےا آومی ے یم کے ہر ود ایک صدقہ لازم ہوتا ہے۔ ا ےد لا سار ےا ان صدقہ ےہ بھلائ یکا عم د ینا ایک صدقہ ہے اور برائی سے در وکنا ایک صدقہ ہے راتتے ے ایا د نے والی کو ہناد بنا ایک صدرۃ پوئى ا غ/ ا ایلصدۃ 4085+ ہاگ وس لسالس“ ۱ تشریح: انان کا ار لک جان خد اکپ ہو یں ہیں ان ض ما زتضو پل اس کے کم کا ہر پودادر ہرجھڑ خداگی رمت وعنایت ہے۔جد یاتتن بای سےکہ(بان مل زا کہ ےتھکیس پا ٹوب (00د 7 7یا جاتے ہیں کان می ساعت سے تحلق عضو با تکی راد ایک لاک سے۔ او رھ یں ری ااارۓ میں مددگا رتضویات :87ا) ا۸99 کی دنا اف سک کان ہے۔اں سے مبجھھ کت ہی ںکہ ہمارے وچجود کے مات داک یکس مد رعنایات ہإں-

ہر جب انسا نک سلامت اپ بس سے أُٹقنا ہا اس کے کم کا ہ لو رتا ضا تا ےک اس کے لیے خداک ےتھک ریس ایک صدق ہکرو۔ اب صدقو کی تحدادائی زیادہ ہو ےکہ

٦‏ ”کلا ےنبوت جلد ہنجے ا نکااداكکرنا انمانٰ کے سک بات نیل ہے ین بیرخدا کا خاع کم ہ ‏ ےکہ ہھاراہ رتی کل خدا کے بہاں صدقہقرار پا تا ہے سے وانے سے سلا مک نا :نیف دہ چچیزو کا رات سے ہٹاد یناء یہا لک کک ہاپتی ہیوئی کے سا تح منقار ب تجح صدقہ یل شحارہوتا ہے

لس حدیٹ مل ایک خائس بات فا کی ہےکہ چا ش تک دورکعتیں جب کوئی پڑہتتا ہےذ رفما زی معمول کیل ہے۔ بہنماز یں اکر خداکے یہاں قول ہو جا تی نگ یارندے نے اپرب کےاضمانا تکاشگر باداگردیا- )١(‏ ن ابی سَوید الْحْدرِی قال: قال رَسُولُ الله : وَالَِّیُ نف مُحَمَدِ یہ لَحَد ھُمْ آئمدیٰ بِمَنْرِلِہ فی الْجَنة مِنه بِمنِْلہ کان فی الڈُیا. ‏ (ارل) کرخا 90ت .""ە" ”اس ذاتکی فص سے تی ئک جان ہیاوگوں یش ے بیس جنت میں ا گھرکودٹیاکے اپ حم سح ڑیادہ چا ےگا" تنشریح: آدی ان ےگھ کواس لیے با ضا س ےکدد اس مر تا ہے رت ےکی وجہ سے دو اس سے فو لی ما وش ہوتا ہے۔ یہا ںک ککہائ ںکاگھ ال لک زن گی اوراس کے احساسما تکا ایک جز جن جانا ہے۔ اب ایما نکو جنت میں جوگھ عطا ہوگا دہ ا سگھ رد ٹیا ک ےگھ کے مقاٹے ٹس زیادہ پان ےگا۔ ا سکووہاں کے اور پا نۓ ج کی نشار نت ےی ایر بش اپنے دنا ےگھ کے ما بے یس زیادہرہ ڑکا ہے۔اورتقیق تجھی بھی ےکہ ہے اٹل ائیمات دیاش روکربھیآخر تک زندیگمذارتے ہیں۔ دنیا ےگ مکودہ ایک عارشی قیامگاہ سے زیادہ اییت یں دی ۔ا نکا حال ال پرد یکا ہوتا ہے جم سکادل رد می روک بھی اپ ےگ کی طر فکحھنیار بتاے۔

بچی ور ےک ہم د کھت ہی ںکتضور مگ نے دزیا س ےگ رکوزیاد ہآ راستتہ یراس ترکرنا ینیل فرمایا۔ ال لیےکہ یہاس با تک علاصت ہوگ یک ہآ دی اپنے عائشی تا مگادے نی جم وی ول ٭ ٠ی‏ ےر اے۔ یہ نز اسے اپنے اصل یگ سے ہب ےگانہ اعت ہے۔ دا اھ رت اس الما

لا ےرت سے ۱ 2 ہون چا ےک صاف معلوم ہوکہاس می قیا مکرنے والا کیل اور جانے کیککریں ہے۔ اکا صورت مل ظاہرےک دہ سگحھ سے یے وو تیر با کے والا ہے فی مو لی ول جنچ یکیو ںکر نے ککتاے۔

مر یھت ہی ںک ہآ دی یکا اکم راورا کااینا اھر ہاش کے وق وشوش اوراس کے رہقانات کا مظ رہوعا سے ۔ میس یں کے ئا می پَ کےسامافو ںکی فراوای نظ رت ۓےگی۔ موکوقی نوازلوگوں کے یہا ںآ پکو موی کےآلات ستار یرہ رھ ہوتئۓ دکھاگی دمیں ات ان چززو ںکود کوک را کی خصی تک پور فصو یآپ کے ساس ےآ جا ےگا

ال ایمان کے ئمانات اوران کے احماسسات وجذ بات خداوآخرت سے ب ےگانہ اں ے یختاف رج یں( ن ۴اض ابا ت ار اتال روامسجنےس ان ہے د نیا میں و نا خوش لگوار جا فیس می لآ ہی جائی ہیں جنت کے بارے میق رن میں ارشاوہوا ہے: لا وَسمعوَ فا موا ول ک انا نت میں افواوریھوٹ یں میں کے ایک لہ فرایا: ا تشم ناڈ( جنت می سکوئی لو بات ریس کے مین جن تک فضا کی زگی ول ار اک وگی۔دہاں دہزندگی اپٹ یکا ہشل می میس رآ ۓگی جن سیق رم ںقم نے دتاکی مدکی می ںک ویش کی و گی . دا ین ان بل ایما نآخر تک زندگی جک یکوش لک رتے ہیں۔ از کر علاوت اور کیک اعمالی کے ذر لیر سے وہ اپ او پآ خر کویننی انگ یوطارق رھت ون جشنن نے پ کر کی تز اود ددرت پٹ حا انور یی کیا اکا شیا طی نک شش مہوت ےکرانسان ز نگ کے پائل :اق تصوربرقا نع ہوجاے-

ال ابمان دیاش خر تک ز ند کمزارن ےک پش سط حکرتے ہیں ۔آخرت کی زندگ یک ایک ہفیادئی تصوصصیت ہہ ہے دوس راپ قر ب٠‏ خداوندی ہے۔ دنا ی بھی اٹل ایان ول اورطا تو یں خد اکا قرب جلاش کر تے ہیں خرت میں سا سک ط رح ک کالہ میا 7 0 0 کی ط رج زندی می شال ہوگی۔دنیاشش بھی اس نج تکو پانے کے ےلیم دک یگئی ےک خد اک جرآآن یادکرہ- وَادُکُرُوا الله کا کیڑا۔ ال رکو توب خوب بادکرو۔ مین ے 70 . یداو رتحیدییں اگ را سک عبت شال ن ہو ا ےتید چیا ںسکہہ ت۔

۲ کلا ےنبوت جلد پنجم

دناش اپنے ر بکو پان اعم دی کیا ےکر دیامش؟ یی ہوگی ا سک نشانوں اور أ سک ا سک نشانیوں میں ال سکی رمتو ںکود نکی و کرت رت اپ دیھو گے۔ دا بھی اس سے "کلام ہوتے ہو۔آخرت می گی ہی مکلائ یکا شرف یں حال ہوگا 0 ,99ھ ۷ رتشن صا نکی رفا ق تھی حاصل ہوگی۔ائل یمان کے لیے دنا ٹس سب سےحبوب اور پہند یدہ مسج میں ہولی ہیں ۔ میں تقیقت میں دنا شآخر تکانونہ ہیں ۔آخرت میں بادشاای صرف خمداکی ہوگی ء کی حال مساچدکا ھی ہے۔مساجدرشصر فخردا کی دا کی جانٰٰے۔ا سلٰٰ 779 0 جا ور و ور سے طا فا تکمتا ہے۔آخرت لقائۓے رب یکا دوسرانام ہے۔ الخ شآخرت اورآرت یش مذ کن اگ را کے جذ بات داضراسمات او یقنائوں کےگان+طاِنّ ہوگا ہعارے لیےض رددی سے کہم دای پہقا لی ہوک نہر ہیں۔ ہھارکی روح آخرت ہ یکوابنا کا شانہبنائۓ- (۲) و عَنْ عُقيَةبن او قال: سَیئث رَسُوْلَ الله پاش يَقول: : کل امُرو فی ظِل صدقته ہ تی یٔقَصی بَیْنَ الناسس۔ (منرا) ترجمه: تع مامتا ن کرت ںی نے ول مک ڈرو نے 7 رے' سے

تشریح: ترضح اف روات ان ےزال طل ومن یو القَِمَّة صدقتة(ام ) قیامت ے

روزمک نکا ساب ا کا صدقہ ہوگا۔“معلوم ہو اکم و نکاصدقہ قوامت میس اس کے لیے سا یکا کا مكر ےگا صدقہ در ےک اس نے دنیا نئویسزی نل سھکورلی اں دن صد کی برکت سے محییبت ال سے دورر ےگی ۔عصد قہ تام کیک اعمال میس بذیادیی اءمی تکا عال ہے۔صد کرنے وا لے کاو للکشادہ ہوتا ے۔ فاضصی اس کا ذیادکی وصصف تا ہے۔اں لیے پیٹ نی سکی جات کرد ددوسرے اعمال خرس گی جج ان گا۔

اس حریٹ سے معلوم ہواکہ عالم آخرت ہت پلوئوں سے اس موجودہ عالم سے خلف ے۔ یہال ضرور تک زی خدانے پیل سے فرب مکردی ہیں دی ان سے فائندہ ُٹھاتا ےمان دہا کا معالمہ یہاں ےحٹلف ہوگا۔ دو ع لم امتخا نگا یس جا قرار ہوگا۔ اس

”کلا ےنبوت جلد ہنجے ك۸ قرارگاہ می ایمان ول اوراخلاقی وکردارجن کے ساتح ہم دنا سے رخصت ہہوئے جہوں کے داں کےاسباب مکل مین جانمیں گے۔ یہاں مان ئی وی اسباب وگول لکونمایاں شل ہے دہاں

ائمان اوراغلائی ای ون ا پیل تن ۔

زشن ہ ہھاری ضرور تکی زی یمجن اود انی دخیرہ لے سے موجود ہیں جن ند پراگر ہلت وقت کے بھی قیا مکنا ہو سجن اورکھانے یے اود سی کی چس ساتھ لے انی پڑی یگی۔اس لے ان یز ںک ضرورت چائد بے کے بش نیس ہوجائی ءا نکا اتظا مک نا پڑ ےگا اور برا تنظام ز ین سے ہ یکنا ہوگا۔ اکم پم مہا منظام ہک یں نے چا دک دنا “ہی قبو لی سک رسکی ۔ ہم بلاک ہوکرد جا نہیں گے۔ائی طرع آغرت کے لیے سا مانامیں ایا موجودہ دنا می می سکرنا ہوگا۔ جو لو کفآخر تک تار یکر لت ہیں ا نکوآخر تک فضا پالگل سا زگار ٹ ےی ۔ا نکی دہال مارآ رز وی بھی ری ہو ںکی۔

من جس طرع آخرت یس ٹیہ سے پبیلہ اور جنت می داشل ہونے سے پیل صدقہ کےسایییش ہہوگا ای ط رح موک نکو ریا تیاز دنا سپھی حاصل ہے دہ بیہال اصلا یمان د تل بی کے سا ریس ہت ہے دوسرکی مادیی جچ ز نا ان کرو ےکی رگ انار لکل نے( ےرا یخیت اور ورو٣ل‏ بر ہے اا سک تام لف احادمٹ ےل ہے ڑا صدق ری مو کوٹ کرت ہے۔ نی ایک عد یٹ ین ےا ملما نی ملا نکوکیٹراپہنادرے نذ دہ انرکی ططاظت بیس ر ےگا ۔ ض٠ت‏ نمی)باوراں طر کی روایات اس پر شاہد ہی سک اس دنا می لبھی ائل ایما نکوصدق ہکا سا یضر ہوتاے۔ ان ڈنل دنت را سے وائشگیکا دج انام ہے بداسے واٹشگی اہ اشرانت ساط ے سی بھی راحت بن سام س ےکم نیس ہوکتی۔ ایک ای عقیقت سے جج ےمسو ںکرن ےکی

فروزورےج۔ (۳) و عَن رید بن حَالِدِ إِلْجُْهَيِيْ قال: قال رَسُوْل الله َّ: مَنْ اویٰ صَالَةً َهُوَ ضال مَالَم يَْرْفهَا. (م)

ترجم4: نحضرتز بیجن خال دن فی سے روایت ےک رسول خدان ےر ناخ شی نشی لے ہو ۓے چافورکورکولیادہخود پھن کگیاہے ج بت ککائ لک پان شک رائے

8 کلا منبوت جلد پنجے

تشریح: تشریح: [ سی کوکوئی بھککا ہواجانونل جا و ا کا فرش ہوتا ےکہدہ ا لکاعام اعلان کراۓ جاک دومن سکا جاور ہوا ےت رہو کے اوردہ سے ا ےگھ نے جات مین اگ بھکے 0 0ج0 نےگھری باند ‏ رکتا ے۔اورخا مو در بتا ےکراصل مال ککوخر ذو تمکرادد ہنکس ان ھائورے فاندہ اھ نے تھا ز جنر ات ںہ ہیودا از بانورتھا ا سے انز رک والان خود یک کگیا۔ جافور کے امکل مان کاٹ صرف چائورگح ہوا تھا یہاں ا نف نے تو خوۃکوضان عکردیا۔ ایی ےآد لک خداکی ڈگا وم سکوئی قرو قب تنہیں تیاور عام انسا نبھی ال ںکا ار ابی لک سکنے ۔ اس سے بر ھکر خسار ےکا بات او دکیا ہت ے۔

حیقت پنری

)١(‏ عَْ ابی هُرَيْرَةقَالَ: قیْل یا رَسُوْل الله مَنْ اَكَرَمْ لاِ؟ قال: ََقَاكُم. الا لیس عَنْ هذا لنَسْأَلک قال: يف تی الله بن َِي الله بن خَلِیْلِ الله الوْا لیس عَنْ هذّا لنسُالک. قَال: فَمَن مَغادن الَْرَب تَسالزتَی عيَارّهُمْ فی الجَامّة حازم نی الاشام را قش ر) ترجم4: حضرت ابو ہر سے ددایت ‏ ےکہلوگوں ن کہا کہ اے ایند کے رسول ہ لوگوں سب سے بڑ ھکر کون ہے؟ آپ نے فرمایا:”'جوقم می سب سے زیادہ(اللدکا) ڈر رکتا ہے۔'انھوں نے عمش لکیا؟ ہم یآپ سےکیں پو چھت ۔فر ماق چھرسب می ںحرم ححنرت لوف ہیں جوالہ کے ھی او نی کے بے اویل اللہ کے پتے ہیں افنھوں نے عمخ لکیاک ہم بیکئل پو ھت ۔فرما اک چرم عرب کے معاون ( تال )کے بارے میں بجھ سے کیو در ہے ہو۔ان یل جوز مانتہ جا ہلیت ٹیل اجئھے تے وبی اسلام می بھی اج ہیں جب ۴7 یں پچ اض کین

تشریح: اس حریث سےمعلوم ہو اک لوگوں اورٹییو ںکی مال معاون( کان )کی ٦ے‏ کائئیں سو ن ےکی ہوٹی ہیں یمن لو سے او ریت سکو ک ےکی بہولی ہیں ٹیک یی حال انسانوں اور خماندافوں اورٹیلو ںکابھی ہوتا ہے گن خماندانوں میس شباعت سخاوتہ غیبر تجھی خو بیاں

پیدرأٹی طور پر پائی انی ہیں۔عرب میں قرلیش خاندا نکا بجی حال تھا ۔ترٹیش جاہلیت اوراسلام دوینوں یش نمایاں ر ہے۔ جوانمانی اخلاقیات کے لیا طط ےک میس کہت تم وہ اسلام می سپچھی ہر خابت ہوا۔ انساٹی اوراخلاقی خ بیو ںکواسلام نے مز پان ال عطا اگییں۔چناں چا سلامش دانل ہوکرانساٹی جھ ہر ےآ راستہ الیے لوگوں نے دہکارناے انام دی میں 7رت تران رہ جالی ہیں ۔ذالی اوصاف جب دین دایمان کے سات ہ مآ بک ہوجاتے ہیں تو نو زی نو رکا متطرسات ےآ ا ہے کسی قوم با فردکی ذائی شراف تک دن وامان کے ای رخداکی امش کوئی رر یں ہونن۔

رپ الفت

)١(‏ عَی نس بن مالک قال: قَالَ الَِیْبَّ: لاجد اذ خَلاَوَة یمان تی بب امو امب ال ِله و تی ان يف فی انار اََبُ لی مِنْ ان يُرُجع إلّی الکُفرِ بَعُد اِذُ انقَنَةُ ۂ اللہ و خی بَكون ال ول خث ان مِمّا سِوَاہُمَا. (ہناری) ترجصد: حضرت الس بن مالک سے ددایت ےکہ می ملک نے فر مایا شکوئ یٹس ایما نکی علاو تی پا گا ا یا ےمحب تکمر ےو الد کی کے لی ےکمرے اور آگ میں ڈال دیا جانا اسے اس سے زیادہپپندہوککف مکی طرف وائیں ہوج بک ئل نے ا یو سپ و شس سج تے جج روب ہو جا نات

تشریح: یع ءثتال لا ےک یمان ایک لے بے ہے شاید بد نیاکی ہر سے بک رلز یذ ہے لکن ایا نکی یلت ال وقتفیب ہو سے ج بآ دی کا ایمان ال در کا ہوچا ےئ دای عبت ہچ کی ا کی زندگی یں اصس لکارفمائی ہو۔ بی ا کی ز دی می اص پحرک نے ہو اش دہ انی سے عحب تکرتا ہے بییحبتتگگی اڈدجی کے لیے ہو۔ اورایڈراوررسول اے

سے ےزیاد ہجوب ہوں ٠‏

اس حدیث سےمعلوم ہو اک انڈداوررسول پرایمان سے مطلو جس ان برق نکرنا

ارگ کلا ےنبوت جلد پنجر یں بللہ ان سے اشائی عب تکانلقی رکھنا ےکیو ںکہ اس کے بی شہایما نک لت اور وپ ا ےاور راس کےاغ میتی ایا نکاصت مان ے۔ چنال چ ایک روایت

یش واج طور پر نی مل نے نت ملگوخطا بک تے ہو نے فرماا ای ےئا ےار مک یں ہو سکتے ج بکک مھ کی ھا ری ابی جان ےگ بڑ ےکرجوبنوجاؤں۔ (خادل)

)٢(‏ رَعَنْ عَبْدِ اللَهٌ٘ عَنِ النبي عَلة اَنه قال: الْمَرْهمَع مَنْ اَحَبٌ. ‏ (بخارك) ترَحمَة: رت صبدالل سے ردایت ج ےک ہی مھ نے ارشادفر اما دی ان مک اط بہوگا یچس سے ووححب تکرتاے ہے۔ تنشریح: ایک ردایت جس ےک ایٹش نی مل کی خدمت می حاض ہوک رر کیا کہ ارول اللہ قاص تکب تا ہوگ؟ آ پا نے فر مایا : تجھ پان کر نے انس کے لیےکیاسامات کمردرکھا ہے؟ اس ن ےکہاکگوکی سا ما نکی کیا ہے سوا ے اس ک ےک یی الیقداوراس کے رسول ےعحب کرت ہوں۔آ پا نے فرمایا اق مع من احیبّت۔ ف2 ال کے سا ہوگا نیس سے عحب تکرتا ہے صھا ےو جب معلوم ہو اک ہآ پانے یہ بات ہرایگ کے لیف مکی ےبد ال کے ساتھ ہہوکا یس تع عبت کت ےو اس دن نی جوغوٹی حاصل ہہولی دو اس ے ے اگکرح۔اصل ہوئ یش نو صرف اس وت جب وہایمان لآ ۓ تے۔ ۴س یہاں بی بات ٹین نظ رد ےکرساتجح ہو ےکا مطلب یں بہوت اک ہس بکا درچٍ اور ھرتبہبالئل ایک ہو جات گا ء بل سا ہو ن کا مطلب ہہ ےکدہ ہابھم ایک دوسرے ے دور نیل ہہوں گے۔ میں ایک دوسر ےکی محیت اوررفافت حاصل ہہوگی مان برکرشمہ پگ کعحب تکا ہوگا۔ اگ رکوئی خدااوراس کے رسو لک عحب تکا دوک طکرتا ےگ خدا اور اس کے اجک مکی اے کوئی پروانڑیں ۔ خدااوراس کےرسو لکی نا فرمانیوں ہی بی ا سکی زندگی بسرہوتی اذ دہ اۓ نوک می ںجھو ار ادپاۓگا۔ (۴) عن ابی رر قان: قال رشزل الہ ڈی: رم اللہيزليَْم يمَة ا الْمَحَابُونَ بجَلاَلیٰ اليْزْمَاإِلهُمْ فی طِلَی يَْمَ لطِلَ ا طِلّیٰ. )۳٣(۰-‏ ترجمه: دا سے دایٹ کول ال پک نےکر اک قیامت کے روالد فرمان ےگا ہکہاں ہیں دولوگ جوم رت اعت وجلا لگا وجرےأ ایس می اک فوضرے سے

”کلا ےنبوت جلد ہنجمے عحبتکرتے تے؟ آمج می نیش اپنے سامہ بل تکردو ںگا ۔آ رن میہرے سام کے سواکوگی سا یت زج

تشریح: آغ زت سے ایی رہ‌اران تل اگل ساب تہ ہوگا ارت 2رگ دارالجزا ہے برسا بیشن لوگو ںکون|س رہ وگاان یں و ولک بھی شائل جہوں کے ود خیائیس با ہم اڈ کے لیے عبت رت تھے دہ جات ےک دا یحم تک نتقاضا بی ہوتا ےک چم اس کے بنرول گوییفظرانداز شک یں ان کے لے دخی وا یکا جذبراپے انددموجودہواور ہی جذ یگ ھی سردنہ ہونے پائے ۔اوردا جو خداکے فا داراور اطاعح تگز ار بنرے ہیں نیس خدا ند راتا ہے یں ہھ بھی زی ریس ۔ ان سے می بھی عبت اور الفت ہد۔ اور ا عحبت اتی کے جی ےکوگی خو وف نت ام زکررجی ہو۔ بلہ بی مخداکی خوش ود اور کی رضاکے لیے ہو۔ بیبعد یت بای ےک غخداکو اپ بنروں سےکنفامگب صلی ہے۔ اور اسلا مکوزندگی کے معاملات اص ٹلوٹعحب تک یکارفر ماک ی مطلوب ے۔

رت ات

)١(‏ عَیْ ابی سَعِیْدِ إِلُحْذرِيّ قَال: قَالَ رَسُوْلُ الله تكّ: بَا آنا ناب رَیْتُ

وھ ے9

لاس بُعْرَصُوْن عَلیٗ َعَلَيَا فُمْصٌ يَنھا مَا یلع انی وَمِهَا مَادُوْنَ ذلک و غُرِض عَلَیٌ غُمَر بن الْحَطَابِ وَ عَلیْهِ قمیْصُ يَجْرُه قَالُوا فَمَا اَوَلٰتَ ذڈلک ا رَسُوْلَ اللٰہ؟ قَالَ الین (ارگ) ترجم4: ضطرت او“ خدري ے رواہت ےکہ رسول اول حل نے رما کن ہے (خواب میں ) دیھا کر لوک غیرے سان یٹ سی چارے ہیں اوران ز جم )یں ہیں ۔ٹا یی قو صرف پپتا فو ںکک ہی ہیں اور ان سے نچ ہیں ۔اورعم بن خطا بھی ۱ میرے سا تن نی سی گے ان کےجم پر جوٹیس ہے(وہ اتا سپا سے 6 دہ ا ےھت ہو ئے لیے ہیں۔' لوکوں نے عت شک امہ یارسول اللہ ا سکیا رکیاہے؟ آ پا نے فر مایا:” ان سکی تی ردین ہے ْ

تنشریح: ربحد یٹ اورد وسر یکفئی ہی ای حدیشگیں ہیں جن یں ا سکی وضاح تک کی ےکہ

۴م ”كلا ےنبوت جلد ہنجے دبین جن سکی طرف ند اکے رسولکولوگو ںکودکوت دہی امم ہوا ہے ال سکیا ایک نمایاں حقثیت لقتء داکی رحمت اورا کی نوازش لک ہے۔ دی نکیا یم اس بیاظ بھی بہوکی جا ےکرد بن ایک ذمدداریی بینیل ہے بلردہ ایک بڑ انت بھی ہے۔ای لیے دی نکی حدیٹ میں دودث ےج رکاگیا ہا کیل اس کے لی ہکھانے کے دستخوان پہ بلائے جا ےکی مال ٹین فر ما یگئی ہے۔ اس سلسلہیش ہم یہاں صرف ایک عد ٹیلف لکن چاہیں گے جس میں دی نکوکئی پہلڑوں سے خداکے نی مپنگ ن ےنم تقر اردیاے نمی نف مات ہیں :

رك ا0ا الف ار فو راع ز زین کب بر

مَطاب, فَأوَلْتُ ان الرٍفعَة لا فی الڈنیا وَالْعَاقِيَةً فی الَأخرَةِ

َإِنَ دِیتتا قد طابْ. (اپوراؤر)

نس نے رات میں خواب می د ریگ اکہ می لگو یا بن دانع کےگھ میس ہہول اور

ےرب بن مطا بک یجود(ج ری نگ مک یمجور سے ) عطاکیاکئی ۔فو مس نے اس

کیاتتیر بک یکہ بلندی دائٹش ہمارے لیے ہے اوراضجام ہیرگ یآخرت یس ہمارے

لیے مقر ہے اور بلاشیہجماراد ین مبت رن ہے"

حدبیٹ میں اگردی نکی جیرف ماا ےق ایک مہرب نآحیر ہے فیس ےنم کی تفائطت بیکیں ہوٹی بل دوہ ضحم کے لیے باعمشوز ین تھی ہے ابو دا و دکی حد بیث میں نو صاف الفاظ ش۲ لآ پا نے ظا ہرفر مایا ےمد ری نکیا بردولت دخیائش ہمارے لیے رفعت اور بلندی گی کئی ےج سکووکی پی ہی ںکرسکا. ہآ خر تکیکام با یھی نی مھ کے لاۓ ہو دبین ے والستت سے۔ سو پےے دیحوت از ھارے نے احفکختت ہے۔ اب لعلم جاتے ہی ںکنخوا بک یتب رئیم پگ نے دارعقۃ بئ راخ “اور یا برُطبِ بُ بن مطاب“ کے الما کی ری بل فرالی ے۔

اظای وگردار

پر و پھ کے ےر کے 6 ےھر ہے و وم . عَلوالله 7 و سس )١(‏ عَنْ عَبْدِ الله بن تعَمْرو قال: قال رَسُوْل الله َلكّڈ: اِنٗ مِنْ خِیَا رِكُم

اَخْسَنکُمْ اَخْلاَقًا. (ہاری+م)

کلا ےنبوت جلد ہنجے

ترجم4 :ضر تعبدالل بن رڈ سے دوایت سےکہرحول خدا مگ نے ارشا دفر مایا :”نتم میں ا ا و ا 0 ا

تشرییح: تس انف کےاہتھ ہن کی اصل پان می ےراس کے اخلاقی ایگ ہوں۔اظلاق کے فحاظا سے وو نا ہت رانسان ہوگاء دبین کے تہ نظر ےبھی دو اتنا بی اہر مانا جا ت ےگا د بین و رتفیقت اخلاتی وگروار ب یکا دوسرانام ہے۔ الہ اسلام نے اخلائ یکا چونور پچ کیا ےوہ مات وٹ ہے۔اس کے دائر ہیں انسا نکی ودک یآ جالی ہے۔اسلام کے نز دیک برا خلا اور کرداررھی ج ےک ہم خداۓ واحد پرا یمان لائمیں اوراس کے احمانات راس ک ےٹک رکم ارہوں_۔ اوال سکی صی نکی ہوئی زنک یک سیدڑھی را بر یلک وشن لک یں۔

ار وہ یہ کے صلوالله ے ہ۔ َ حعہہۃ حا و و فا مو ا )٢(‏ و عَنْ جابر ان النبی مل قال: ان الله بَعقِیُ لِعَمّام مَگارِم الخْلاق و کمَالِ مَحَاسِنِ الفعَالِ. (شرئ لع )

قَ جمد:حضرت جابڑے ردایت ےکی مھ نے فر ایا:* اڈدنے بے اغلا تی خوبیوں اور ایشھ کا مو ںکوپورار نے کے لی ےبھا سے“

تشریح: م[نی مہ بات جان لی ےکا ےک ٹر دنا شکوئی ہجوب دکھانے کے لیس جیا جاتا۔ووانسالی دای جس اس ےآ تا ےک ہو ولوگوں کے اخلاق واعرال سنوارے اوراخلاقی و کردار کےلیاظط سے ایل دوبلند سے بلند متا کک بے

ہی کی و گن ور ا کے ےط ہےر وق ظا شال و رای ہو ور وت ھا عق )٣(‏ و عَنْ ابی هُرَیْرَة قال: قال رَسُول الله لثبه: بُعلت لاتَهَم حَُسُن الاخلاق.

. (اھے) ترجم4: رت الو ہررأ ےردایت ےک رو لِخدا نک نے فر مایا :”بسن اخلاقی گی تی کے لیے پاگیاے““ تنشرییح:ال عدبیٹ یآ بی با تکیگئی ےک بر دیاش الج کام کے لآ ا ہے رآ اغاق یگیل ہے۔اغلاقی بی وین ہے اورد ین اخلاقی ہے۔ و بین ہم سض س کا اخلاقی نہ جن کاو وفیقت یں درین سے بہت دور ہے۔ دتیا یں لوک ا ےخواو سب سے بڑ کرد بن دار یگنت ہوں۔ ۱

61 کلا ےنبوت جلد پنجے

تورہالیتاں

پر سی و مو سو سوا ی

اطلے 7 از امن رازم ز الیز ز لیخ اھَء او ق الله تا 2 مر افنک فیک علا زع ہدک عی کا ر 3 َِفِکَ عَلَيْک عَق قَضُم وَاَقطزوَصَلِ ونم (اپیراؤر) ترجم4: ططرت عا کے روایت ےکہرسول اللد حپ نے عثان بن مظعو ا نکو پاا چا اور فمایا:“ اےعثان ءکیائم می رےط ری ےکونا لین کر تے و دہ و نے :یں +اے الد کے رسول ء یں آپ ہی کےط رن کو یہن دکرتا ہوں۔آ با نے فرمایا: ”یس سوتا بھی نہوں اورنما زچھی بڑہتا ہوں روز و رکھتا ہوں اورک بھی رتا اورورٹول ے نکا کچھ یکرت ہوں بے ےعثان ءخدا سے ڈرو ھا رکی بیوگ یکا گیتم پا ہے ؟کھا رےمہما نکا بج یم بر ہے۔ او ھا رے اپ نے سی ری ہے۔ابذراروز و رجھوجھی اور بھی رکھو ہما زچھی ڑلواورسویاگھ کرو _'“ تشرییح: معلوم ہواکرنٹس شی اورز ہروعخبارت میں فلواختیا رک رن اسلام کےخلاف ہے۔ مس اتی عحبادت اورز بد بن میں مطلوب ہے جن سیت تی یم پل کی نت ےہول ی ہ۔ یہ ہرگ درست ٹیس ےکآ دی اٹل وعیال اورا ننس کےتقو نکی طرف ے پالل خائل ہو جائے اورایۓے آ پکوز ہرود یا ض کی نذ رکردے۔ اس سال میں ب یکریم یلگ کی سنت بی ہمارے لیے اس ردنا ہے۔آ پ کی سن تاورط ری سے ہہ ٹف کر جوطر بی یھی اختیا رکیا جات ےگا اسلا مکی نگاہ سس لال رع مسل۔

بیطریقی قررظطرت 09 ےک ہآ دٹی سو ۓےبھی اور رات یں قیا مبھی رتا عو تر فا مئ ز7 ایا نکر ےکرصائم الد ہ رین جاۓ اور پیش روز ہبی رکتارے۔آ دی بہ یدگ ہو ںکاح یت ہے اورآنے وا لے ہمان ںا جھیتن ےاورسب سے ٹک رخ دای ذا تکاجگ اتی ہے۔عبادت اود یا ضت ہس ال عدنک درست کاو بر جولڑوگوں کے اوران عقوت عاد ہوتے نہوں ا ںکی ود الناست وہ

1+ ۸0) ' اٹل نہ ہو۔ اور الما نہ کرد ہعبادت اور یاضت ہیکوسب بک نے ۔آ د یکو ہک دنا چا بے ززمگ یی نگیو بی یک می مققت کے بل ےکارفرماہیں ان بیس رت انی ای کک طرف ےجھی اجقناب جم ہے۔ (۶) و عَنْ آنس بُن مَالِکب قَال: قَال اِن رَسُوْلَ اللہ اَل کان بقل لا تَوَدُْا علی اْقُِکُم فَیْمْتَهَ عَلَیْكُمْ فان قومَا شََدُزا لی الفْيِهِمْ فَمَََ الله عَلَهمْ فیک بَفيُمْ فی الصُوّابع وَالدِیارِ رَمبَابَة إبَْدَغُوْمَا مَا کنا عَلَيْهِمم (اپوراؤٗر) تر جم :جضرت الس من مالک سے ردایت ےکرسول خدا عیفر مار ہے تھے : انی جانون پش نکر ددرت پش ہوگ یکیو ں کین لوگوں نے اپنے اد شی کی ناد نے الن پش کیا۔ان تق ایاج گر جائں اورکروں می لخد کاشاد ہے )رایت کم )آنھوں نے ود ای ہم نے ان پرف نمی سکاھی۔“

تشریح: : ای حدبیث نے دا ورپ بتاد یکا سلام می ایی ددول یک یکوئ یکائش بیس سے مس کے عفی رک دنیااور رک ات ہو بید ہباغیت ے جو اسلام کے راج اوراس کے متقاصد کے پالئل خلاف ہے۔ اپے او یش کولا نر مکرنا ہی اگ دی کب را پچھرد بین انمان کے لیے ایک محبیبت ہوا۔ اے الال ڈنگ کا گار ۴ امتغاب شش کہا جاسکع۔ اوشہ ڑخدگی کے لے اس سے رہ نمائی حاضصل کی جاقی ے۔ بدعیثوں کے متھوں اور عیساموں کا کان چوں )یا خانقاٹش گر ہباضمیت کھائی جال اذ دع بیز ےجس ےق مو ںکو پیش رو گیا ہے۔ جب لوگوں نے خوددی اپنے او یتیل مک بیو پچ رخدان بھی یں ان کے حال پریچھوڑدیاکروہ ہہ زگ قولی شک اور ہباننیت و یکونحجا تکاذ ر لمت رہیں۔اسلام نے رہہپانمیت کومشاۓ غنداون دی کےخلاف بتایا۔ اور ای پبردو لکور ہباغیت سے دوررکھا۔ در ہبا نمی تک بایا نز کک نے روا امو ں کر نشی گا ہوں میں د کے چاسکن ہی ں کم َ‫ یلوگ ونیا یتو ںکو اہین اوی تا مکر لن ب یکو اصسل دن دارگی اور ن مر ہب کھت ہیں ۔ عالا يکد بن نرک سے بڑ ھکر پا کانام ے۔

۸" لاجر وت علفہتژر

ر تم کی رعایمت

)١(‏ عَن جرف :ال رَسُوْل الله ئٹٹ: سََرَون رَتكُمْ کما تَرَوْنَ ھذا لا تُسَامُونَ فی روہ فان اعم اَل لوا علی صَلوة قب طُلوْع امس و قبْلَ غرُوبِهَا فَافعَلوا تم قرَأ و سَیٔخ مد رَبَک قبْل طُلُوُع الُمْسِ رَ قَبْل الْغْرُوْب, (ہناریسم) ترجم4: رت بج رب ےرواہت ےکہرسول او ملا نے فرمایا: ”نم قیاامت کے روز اہین ربکواسی رح دیکھوے جیے اس (جا نر )کور کھت ہو۔لوگوں کے بجوم سے اس کے د کٹ شس کوئی رکاوٹ ٹیٹی نہ ےکی ۔اگرقم ےلکن ہوتذ سورج کن سے پل کا اوراس کے ڈوبنے سے پیلک نما زی محافق تکرو “پگ رآپبانے بیآیتحلاوت فرمائی:” نے ر بک ج کین کرو لو عآ غاب سے پیل اورانس کے نحروب ہونے سے پیل

تنشریح: آسمان مس چودہو بس تار کا جا ند نک در ہاتھاءاسے دوک رآپ نے ف رما میں قامت کے روز اپنے ر بکادیدار ای ط رع عاصل ہہوگا۔ جن سط رح اس چان دکوایک ساتی کت الک د کے ہیں نین اس ےکی کے یکین می سکوئی دقت یی کی ںآ میک اسی رح لوک قامت کے دن اپنے ر بکوای کی رکاوٹ کے وناھیں کے_ راو رحصرکی نمازو ںکااجمام ۲ ناما ہے زہپ کےا بدا تی ون حور طلوق ہوۓ والا ےگھرووسور کو 0/0000 الکن و انت لکش سکوانھوں تے انا رب تر اردیاے اسے زوا یں ۔دوای کےآ گ ےبد ہکم ارہوتے ہیں۔ ہال دای سور کی ایک ہمایاں حقیت ہے۔اس کےگلوع ہونے پر بیس دن شس رہوتا ہے اورااس کےنھروب ہو نے بررات ہولی ہے۔اوردن اوررات دوتوںل تی ا یضرورت انا نکڑے۔اورا نکادارو ارح کےعلورع اورںروپ ہہ نے بر سے ا ا نما ےکس ورپ یا چا ند سب ایک خداکے یں ای سکنکھےییجارک خابت نی گے لع تا سو کوک دو این +گتا۔ ۱

شت یج زگ

)١(‏ وَعَنْ ابی اد قان حم اڑا عَنِ الصّلوۃ قَال ابی الله قَبَضَ َرَْاعَكُمٍْ حِيْنَ شَاءَ وَ رَكَهَا جِیْنَ شَاءَ فَقَضَوْا حَوَِجَھُمْ و تَوَضوُوْا لی اَنْ لت خی وَابیَضت فقامِ َصَلَی. (بخاری) تر جم :جضرت الوقادڈ سے ردایت ہ ےک لگ سو گے اورماز( تک کی )تا موکئی نو نی مل نے ارشادفر مایا : خحدانے جب چا تھا رکی روتو ںکوپش سک رلیااور جب چاہادای ں/دیا۔ چنال چہ لوک انی ضروریات ے فارر ہہوے اور وضوکیا۔ بیہا ں٠‏ کک سوررج طللوع ہوک رسفی در ہوگیا ٍ آپکھنڑے ہو اورنماز ھی تشریح:آن بھی ہے خدا نین دکی عالت میں کا زی پل سن کرات ے۔ چان پر قطی عَلَيْهَا المَوتَ و یُرّسلُ الاخُریٰ إلی اَجَلِ مُسَمٌٌی۔(از٣م)‏

”دی روجو ںکوا نکی موت کے وقتشین کرتا ےء او رین سکی مو ت کی 11کیا سے کی خینرکی حوالت مج رت کر لیا سے .پچ رج کی وت کا ٹیا کردا ہے ا روک رکنتاہے اوردوسرو ںکو ایک متقر روف تکک کے لے کچموڑ د یت سے لپن خمرا مو تکا تر برای یش کو کراتا ےک ہآد یمبجھھ لٹ ےک خداجب چاسے اسے اپنے قیضے میس نے نے اور ا سک سمارگی آزاد یتم ہوکردہ جاۓے ۔مرنے کے بد دیی و موجودہوتا سےا نآ ز انیس خدا کے یش میں ہہوتا ہے مرنے کے بح دآ دی جس دیشر جتا ہے اے کن کے لیے وھ رکی متا بک دمیا کاٹ ہے۔آ دی یکی غیند جب ٹوٹ جائی ےکن گویا اسے دوبارہدنیائی۲ لئ دیاگیا۔ اس پھرارادہ و لکی 1 زادی میس گنی ۔یان الخ مفیقی موت سےنے اسے ایک دن دو ار ہونا بی پڑےگاء جس کے بعد دای واہ یکینایش بای نیس راتی۔ ٣(‏ وَعَنْ ابی مر اکن قَال رَسُزْلَ الله غگے: إِذًا ا ارب الزَمَانُ لم تکڈ دب ریا ومن جُزء مَنْ سِتَة و ارتَعْنَ جُرْءَ ١ای‏ الو (بفاری) ترجمھ حضرت الد ہ ری سے ردایت ےک رسول خدا مگ نے فرمایا: ”جب قا مت ڑب ہوگی نے مس نکا خوا ببجھوٹا یں ہوگا اور مز ن کا خواب نبوت کے چھ اش سجموں میں سے للسے۔۔“

۵۰ کلا منبوت جلد پنجمے تشریح: امت ہہدن ۵و ھ2ئءھ, .7 یہس یتال 7 سآ جانٗیں کے .کسی کے لیت وصداقت کے ایارک ناش باتی نر ےکی ۔حضو رہپ سے اس ارشاد سے معلوم ہوتا ‏ ےکہ قیاصت کے قریب ز ما ےکی یتصوعیبت ہوگ یک من بے خواب دچھےگا۔ دو خواب میں جو پحھد یج ےگا ا سک تی رمایاں طود پر ساس ےآجات گیا تین مس شارت ےش کی ورس ہاو د نکش تب ٹوگی۔

ال حدبیٹ یس ایک بہت اہم اورو روگ کی بات فر ماک یکئی ہے۔م وک نکاخواب بوت کا چم ای ستموں ٹیل ایک حصہہوتا ہے ۔ من کے بے خوا بکونبوت سے ای ککونرمشا ہت عاصل ہوثی سے۔خواب می ںآ دی یکا اپناکوگی ون نیش بہوتا۔ دوہی د ےگا جوا سے 'دکھایا جا ئۓ گا۔ ھی عال نبو تکابھی ہے اس میس بی یکا اہن اکوکی اش لیس ہہوتا۔ سار نوازش خدائی ہولی ہے ۔خواب کے ذ ریہ ےآ دیکوٹنض ای ہا تی معلوم ہو ای ہیں جن کے جا کاکوٹی مان گی زریوا ران لرقا بلق رٹرت لئ ساد ڈنل ہر روب من اس کے باوجددوٹی دنبوت ایک اوری یز سے جن کا خر صرف ایک بھی یکو حاصل ہوتا ہے ٹین من کے ہے خواب ا یکا شموت شرور ہیں ماڈئی ذ را کے علاوکم دمشتکا ایا رکون ہے جو ماگ نون مادیی ذ راع سےکیں زیادود ہکلم اورمھترہو۔ دوز رہ ہے وت اور وی اب یکا ال تاٹی ج بک نت سکونوت سے وازتا اذ خیب رمادی ذر بعر ادرنی رای مر ےق سے ال تک اپنا ام جیا تا ہے۔ اہ سکونجہ بک اصطلا شی وقی ورسمال تکککتے ہیں

وعرتےوین

)١(‏ عَنْ اَبیٔ مَُيرَةَ قال: سَممث رَسُولَ اللہ تّه یَُولُ: آنا اَی الس پان مَرْيم وَال‌لبيَاءُ اَولاذُعَلابٍ لیس بَیبیٔ وَبَيْنة نبی. (ہفارل) رس ضر ا کت رین نے ضول ا ار ےرت ور سا تنس این مریم (حضر تھی ) کے قریب سب لوگوں سے زیادہ ہوں۔قھام اخمیاء با م علالٰ بعالْ ک ےش ) ہیں اورمیرےاورشی کے درمیا نکوئی یں ے؟

تشرییح: تی مل کے ارارک مطلب بی ےک رٹ حخرت یی کے بہت قرجب ہول میرے

'کلا ےنبوت جلد پنجے ۵۱

اوران کے درممان اورکوئی نی سک را ہے بوں انا شیہم السلا ام کے تما میک دوسرنے سے بے عدقرعب ہی ںکیو ںک ہو ہآ لی میں علاتی بھائی کے تل ہیں ۔علانی بھائی وہ ہو تے ہیں ج نکی ائفیں اتک اک ضرورہولی ہیں بین باپ ان بھی کا ایک ہوتا ہے۔ ای رح انمیا شیہم السلام مداکی طرف ے جودین لےک رآ تے ر سے ہیں دودبین اپٹی اصسل اور بذیادی لمات اورعقا دو نظریات کے بحاظ سے ایک فیا در اے۔الہمتہ چو ںکہائویا مخنلف ز مانوں اورخلف عالات اور لف تو موں یس مبحوث ہو ہیں اس لیے ان کے فروگی مسائ لبھی ملف ر سے ہیں ء اس لیے ان کے ہا فردگی اھک بھی خقلف ہا جا میں گے۔ یہ بالگ لیک فطری بات ہے۔ایبا بہونای چا بیے۔ ۱

ہمد وا صلی زوا اور غضییھ بھی ہوں گے وحدتادیا نکا نیہ ہلل خلط ے۔ بفیادی اخّلا فا ت یک ونا بر متحددد بن کاامکان پیراہوتاٰاے۔ اگکران دینوں یل بیادیی اوراصولی اختاف صرے سے موجوددی ژہو ا ا انا کن اف دب یف فی ون یں گے ۔اس لیے ابی صورت یں وحدستاد ا نکانت رہ بن کر نے کے بہجائۓ وعدم تد بی نکی با کم کی جا ہے۔

ملف ادیان کے درمیاناگر نیدی قا تاور بنیادئی تحلیمات ٹل الا فات پایاچاتا ہے نے اس صورت میں ان سب ادیا نکوضْ ہنا نہ ہوگاءکیو ںکیتقی اورسائیوں کے باہم ران ےکا ہ سوریھیڈئی ںکرسا۔

ریمع کی تع ودای

)١(‏ عنْ انس بن مَالِک قَال: قال رَسُوْلُ الله تن :فمیْ الم عَليْه خَيْرَٔ وَجَبَت لَه الْجَنة وَءَ مَْ اَم علیہ سوا رَجََت لَه الا مم هُهَدَاء الله فی الارُض.انتَمْ هُهَدَاءُ اللفی رض انم شُهَذَاءُ الله فی ارس .ض۷0 ترجم4:ضخرت الس بن نا کے روایت ےک رسول اود پگ نے ارشاد وفرماا: نیس لوم نے اپچھا لال کے لیے نت وانپ او ئا ابا اس پردوزغ داجب ہ وکیا زن یس ال کےگواہ ہو ہم زین یش الد کےگواہ ہو ہم ز ین میں الد ک ےگواہ ہو“

07 'کلا منبوت جلد پنجے تشریح: روایچوں سے معلوم ہوتا ےکہ نیا ھٹگ نے مہ بات ایک نخائس موٹع برفر ما تھی ۱ نپ گنما نے ای گے ہے ناف ےآات رگاس ایت چیاوۓ نی کی را ےکا انہارکیا تھا۔ حدی ث کا بینقرہ جفیادکی ابمیت کا عائل ے: اتمم شُهَدَاءُ الله فی رض (تم ز۳ن میں الد کےگواہ ہو )۔صھا کرام رضوان او تی اس کے اوٰین خخاطب ہیں ۔جیکن تقیقت ہہ ےک درجہ پر درج رتا مسلمانوں یا اصت مل کی حیثیت اس زین یل شٛہداء اللہ ]نی داکیطرف سےمفرکوادیا شا یق نکی ہے۔شہادتتتن لین یق یک یگواہی دی ملمافو ںکیشصھی ذمہرداری ہہوکی ہے۔ ا ذمہرداریکی طرف سےقفل تی حالات می بھی درس تگیں سے۔مسلمانو ںکا فرش ےک خدانے جس اہم منصب برای سکع کیا ہے اس سے رگ ال نرہیں۔ ووائ حا مک ذ دی کے پرایک میدان یش قیادت بار فا یکر می آھیں می اورکگکری ہ ڑم ک یکم راہیوں اورضلاتوں سے پا لکرت ےآ ش اکمریں۔ اس شہادتیت کا منصھی زم دار یکا ذکرق رآن می بھی وا الفاظ یل ف رما گیا ہے۔'شلا ایک مہ ارشمادہواے: (کرہ:۸)

اےامان لائے والدہ ال کے ل ےگوہ ہوک رانصا فک طاظلتکر نے وا نے ہو“ ایک دوسرکی کیفرمایاگیا:

وُکذڈلک جَعَلنْكُمْ ام وَسَطا لَِگُونْوا شُهَدَاءَ عَلَی النَاسِ

ویکونَ الرَسُوْلَ عَلَيْكمْ شَهِيْدا (البۃر,::۲٣۱)‏

”ورای طر ہم نے صعیں ایک درمیانی امت بنائی ہے کت سارے انسانوں ہے

نک یگواجی ان مکرنے وانے ہنوءاوررسو لم رگواچیاقائ مکمر نے والا ہو“

انی کآ یت میں ببالفاظطآۓ ہیں : لیكُونَ الرْسُوٴل شهِیْذًا عَلليكُم و تکونوْا شُهَدَآءَ عَل الاس

(اج:۸ء) کرسو لم پرگواہ ہواورقم انساتول گواو ہو“

ہے و تو ۱ے فا ڈ2 پوپ ٤و‏ بے اق و 7 ملواللے ۸ہ 2 کے و (۴) و عَنْ ابی مُرَیْرَةَ فِْمَا اَعَلمْ عَنْ رَسُوْلِ الله عَلثّ قَال:اِنٌ الله يَتَعَتٌُ لهلذہ الَمَّة عَلی راس کل مِائة سِنة مَنْ يیُجِتَذ لَهَا دِيتھَا. (اپوراؤر)

ترجمه: حضرت ابو ہریٹڈ یا نکرتے ہی ںکرمی رم و لقن میں رسول ادل لگ ے ارشاد خر مایا :”اراس امت کے لیے ہرحمدکی کے سر ے برا یش سکوچدا 07 رہ کے دی نکیاتجد یکر ےگا۔“ تشریح: ین وین کنا زم کر ےگا ا نکی پڑھردگ یکو دو رکر ےگا لوگوں ٹس ایک روں پچھ و گا ان میں ناعز م وتصولہ پی اک ےگا۔ دن اسلا مکی رو سےحخرت مرح خدرا کے آ نرک نی ہیں ۔آ با کے بععدا بکوئی ی1 نے والاننیس ہےاورن دک نی ےآ ن ےک اضرورت پائی جال ہے۔ ابا کے بحدقیامت دی قائ ہوگی جس می اوگوں کے بارے جس بیفیصلہ کیا جات ےگاکہاان می لکو نخس خرا یا بے پا یاں رتو ںکا غ٠‏ ہے اورکون خداکی اہ یش جم ۱ ےون کے ےس ا کیب ےھ شی دی ےگا

انانو کی رونمائی اورا نکی ہرایت کے لے اصو می طور برق رآ نکاٹی سے اود پچھر ران کے بعد نی مدکی نضلیمات ہعا گی ددم ہیں ۔ اس کے علادہىی ھٹگ سے براو راست زس ہس یس سی بی ہیں۔

الک میس شی ںنکہدشت بدل چاتا ہے اورز ما ےکی رش می ںتبد پا 1 ل٤جانی‏ ےگ ان اس سب کے پاوجود انا نکی اغلاقی وروعای اورضضیاٹی ضروریا ٹنیس بڑجیں۔ اس لیے قامتکک کے لے انسا نکی ہدایت کے ل ےق رآزن اور نی مال کی تقلیما تکانی ہیں ۔ اس نے انی شر ازے ےک کے نے مات ات الات یی سڈنا اض سکیا وا وو ون اور ۓۓ نے مسائ یورخا مات دتیاگوسا تشگ ل1ھ کین اس کے لی ضردریئی ںکہ ئل دین می سکوکی تبد بی لا گی جاۓ اورا سک تیممات پنظ خال کی ضرور تنسو کی جائۓے- ضرورت اگر ہولی تو صرف ا لک یکددی نک تد ید ہوکی رےمڑقی تۓ حالات اورجد بد بی منظر یش ومن ءا کے ققا شوہ ای سکیا یودن او زا لک یی :0تت اکنا جاے- 5 کہ سنۓ عالات یل د بین کے اسےکام اور ال کی اتامت کے برے ہونیان۔ دم متقصھرے سس کے یی راس حد یث میں یوعد دفر ما گیا سےکہز مان کا ہرایک صدی ے

کلا منبوت جلد پنجم سرے پراممت لبیل ایرد پیراہوں کے جودی نک یتر یکا فرییض انام دی گے سوودین کے سام کے ےکی من ری گے۔لوگوں ےکر ول میں جوخرابیاں پیدراہوگئی ہو ںگی دہ ان خراوں اوران برعات سے دی نکو پا کک میں کے اورامم کی مشکلا تکوش کر میں گے۔ وہ دنا کے سا سے لوم اورامت کے سا نے پنوس دی نکونکھا رکرٹپی لک بی گے دی نت ان کے ڈرلوہرے پیی شر وجاز ہ ہوتا رےگا اوراں کسی اف مک کی طاری رز كگہوان شگاوں مہا ت کی رٹ کر میں کے جو حالا ت اورز ما نے کے پدراکردوہوں گے دوہ _کی و ری اور یکیارناموں سے بطای تک دکھا یں گ ےک اسلا مکوکی جا مد او ٹیر کیل ے بللہ اس کے بنس اسلام ایک تکی(۸0۷:92د بن ہے جواپنے اندرارتقائی شان لیے ہوتئۓ عیب انما نک یھی وگ ری نی بی بلن رکیوں نہ ہوجاے اورا لک تقیقات وت بات میں غیرسموی اضافہکیوں نہہوجاۓ ؛ خداکی دومائ یکا ضرورت منددہ پیش ر ےگا ۔دبین ت ثی کی راو می شکوئی رکاو فکھ یی سکرتا۔سبیرت وکردا رکینجیہرد بین کے بفیادئی مقاصد میں شال +0ھ علاووزندگی کےترام ہی شعبوں میں خواو ا س کال معاشرت سے ہو یا معحیشت اورسیاست ے اعلامانسا نک روما یکرتا جا ۱ ارگوا ےکہ بی ح پش کاوعدہاورا ہو رہا۔ ہر2 ور یل امت میل ا ےمچددین بدا ہوۓ جنھوں نے تج بدردی نکی شی خدمت اضجام دی اورآیند ہجھی اییے جرد پیداہوں گے جو بخدمت انام دی کے حور جنگ نے ایک اہم پش نکوئی ریکھی فر مکی ےک امت سلمہ لاز ]ایک گر دہپییشہتن پرقائ اورقن کے لیے رک مل ر ہےگا۔ ایا مصھی نہ وہہ پور کی وی امت راو تق سے برکشنۃ ہوجاۓ اوت جھنل ماصض یکا افسانہ بک نھ دہ جائے۔ دی ن تن (اسلام) شال رك لورڈرمموسپڈن میں موجودر ےگا اک با نا کا بیعذد زا ئل سماعت نہوگاکراسے اذ عق نکی طلبیمیکن دنام لکہیں ام نکاوجودباقی ہنیس رہگیاتھا۔اں یں شی سکہآ رج اسلام کےسوادنگر برا ہب خی رممتندہوکررہ ھے ہیں۔ان یش اڑسی متذادہ غی یھی اورتضل وانصاف کے خلاف بات پاگی جانی ہیں جھاس با ت کا من شوت فرابھمک ری ہی سک رون نے ممتف ہیں اورقہا نکی پیردئی ب کی جانتی ہے۔دولوگو ںکڑق سے شنا تو کیاکرتے دولوگو سکون سے برکش نک رن ےکا خدمت اضام دےر ہے ہیں لان اسلا مکی شل

”کلا منبوت ج لد ہنجے ۵ھ بی اق نآ بھی ان بن کے لیے رشن اورتاباں ہے۔ائل باش لآ جع خانف یں و سی سے۔ وہ ا کی وشفی میں نمایت بے پا کی کےسا تق اخلاقی عدو دن کک پاما لک تے دکھاکی دینے ہیں ۔

ران ئن لا پگ رشن ےکک رک لس ات لات لن مہرب تبد مایا ںآآکی ہیں۔ ۓ ےم سان الات ہے لوگو ںکوس ال نیج بے قرآن ایک خویش ز مانے میں نازل ہواے او رٹم اسلام مکی تحلیمات و ہدیا تگگا ہہ ا ہ ایک خاصص دوراور ماع ضم کے ماحول ےت رکھی ہیں۔ چناں چیق رآآن اور نی مکی تحلیمات دہدرایات ٹیل ز مان ےکا بچھاپ نمایاں دکھائی دق ہے۔ یہاں بیسوال پیرا وت ےکہ اسلام کے یرد ین باعلماء ان ےئل حم کے عالا ت می جن ٹس ق رآ نکیاغزول ہوا ہے اورجن یں نی غپلگ نے اپنے پی رو لک دہ ماگی فرمائی ہے کیو ںکر مشاۓ خداوند یکو یکن یل کا میا ےم نارق رات رک ی رنڈ ری سا2 ا نک دب گ ےک الا مکوئی جامد رہب یں ےکدہز ما کا ات نردے کے۔ وہ پیش اور پردور مین اشما مد فرائ یکر ےگااودازت ےج یھی اکاز رڈن خر ارنئیش ذما اکا گی یٹ گا تالی ےک عالا ت خواءکتنا بت یکیوں نہ برگل جا میں انسا نکی رایت کے لیے اسلا مکاٹی ہے۔ ضرور تصرف ا لک ہوگ یکہردبین مم اگ رداجتچادادرتفعقہ سےکام لیا جاے ۔ اسلائیتحلیما تک جاعحیت اوزال کش رک گج رائیان پش جا گار ہار ںگا۔

() و عَنْ مُعَاذِ بن جَبَلٍ أَن رَسُوْل الله نت لم بَعَكة إِلی الَيميٍ قال: یت تفص ِ٥ا‏ عَرَض لُک فَصَاء؟ قالَ الُضِیبکتَاب الله قال: َِ لم تَجذ فِیٔ کتَاب الل؟ قَالَ فَبِسْنَة رَسُوْلِ الله قال: ا یں سُنَة رَسُوْلِ الله؟ قَال:َجھڈ زَابي وَلا او قال فرب رَسُولَ الله نت عَلی صَذرہ وَقَال الَْمْة لِله لی وق رَسُوٴل رَسُولِ الله لِمَايرُصی یہ رَسُولُ الله

(التمری ااودا ود الداری) ترجمه: رت مواز بی نل سے دوایت ےکہ جب رسول اللہ مگ نے میں من بھیچا نو مراف نر مار ا ےکی مار لاوز پیٹ وگال زس کا بلط

شْ کلا منبوت جلد بنجے کرو گے؟“'انھوں نے عو سکیاکہ میس اشک یکتاب کے مطابق فیصلمکروںگا۔آ پا نے فرمایا: اگ تاب اللرمیش راج )یں اس کے تخل قکوئ یکم نہ لے؟“' افصوں نے عون کیاکہ پچ ریس ارد کے رسو لکی سنت کے مطابقی فیص .کرو ںگا ۔آ نے فر مایا او راگم راد کے رسول کی سنت می ھی میں اس کے بارے می عم دہدابیت نیل کے؟ 'اھوں نے عون سک اک پھر اپٹی راۓ اودقیاس ےکام ےکمراہہچاوکرو گا اوراس می کو یکوتا پیک سکرو گا۔ اس پر رسول اللہ پل نے ان کے سی ےکوٹھو کت ہو شابانھی دی اورفر مایا :حجراو رش سے اس دشر کے لیے جس نے رسول ال کےفرستادےکواس با تکئ شی عطافر ای جورسول خداکوپند ے۔“ تنشریح: بعد یٹ بای ےک انا نکی گگراورنف لکوڑھی دین میس ایک نا مقام حاصل ے۔ دب نکی یادئی تحلیمات اوراس کے اصولو ںکی رشن می نل ونم سکم نےکر ا علم ان مسا لکو پا سای ع لک سک ہیں اورددان معاعلات اور قضایا کے یج کچھ یکر سک ہیں جو پالئل ہی نے کے ہہوں گے۔ جن ن کا ذک کاب وسنت بیس شدصراح ہے کیا گیا ے اور کیا جاسکنا تھا۔ ححضرت معاذ بن اج لک وکتاب وسنت کےیلم او رتخقہ پیلد بین یس ایک انقیازی متقام حاصل تھا دہ اس با تکو رخ لی جات ج ےک کوکی فیصلرطلب معاملہاگر سا نۓۓ1: لوھپ نف ث1 کتاب وس کی طرف رج ر غکرنا جا ہے۔اگردہاںچمی ںکوئی دا ہدایت ٹیل کےا نچ راب د

ا۔م

و و سے ام لک ےکر اس کے بارے می ںکوگی یصلہکیا جا ۓگا۔ ضرینی افش نے تی مگ لےے مو الات کے چو ات نے میں وکا نوع از اسلائی عطرارع کےمین مطا بی تھے ای لے می منللگ نے اہ رر تفر مایا۔

دن کن دک تس نکی دیون لیکن ود ان دی حر رق ان رگا۳ سے کر ورس ار رکون نے ایسیدگل اد ات پااروں مسا پل سے ہیں جن کۓتحل کراب وسنت مل دا سح طور پروی رایت مو جودنت 7

دگوت دن

۹ھ

گوت رین

فکوت دی نکی ابمہت

)١(‏ عَن عَبْد الله بن عَمْرِقال: قال رَسُوْلْ الله َكّ: َلعُوا یی ول ايَةٍ (بخاری) ترج م4 : نر تعبد اش ن گرڈ سے ردایت ےک رسل یر ےا ٹر پر طرف سے مایا خواووہا]) ایت ہو تشریح: نشریح: لئ می مک رہ ںک مد درگ کہ1 بنا کے پا مکوعا مک یں اور ْ ہش وص کش کے کے پا ایک جآ یت کا عم ادا کو درو ں پت لکرے. پائھا تک ےجب ای کے پا مل کاڈ ٹر ہوجا ےگا اس وفت وہ ذگوت ولغ کا کام شر و عکھرےگا۔ جس کے پاش دی نکی جو با تھی وه آاے چ اکر نہر کے بللہا سک ویش می ہوک دولوگو ںکک ین تاکہزیادہ سے زیادہ لگ اس ے فائحد ہاش یں۔ آج ہھرمسلمافوں کے پاس ایک ب یآبی ت یی :تورم کا مایا ہوالوداتر آن اور دین اپنی کال شل می موجود ہے۔ پھر می می مک یکتئی بی ناف ماٹی ہو یکہ میں اسے دوسرد تک پان ےک یلک رنہ ہو۔ جب ہمارے پل ایگ ىیآیت ہوا ےکی چھیاکراپنے اس رکھنا بہت گل لہ اسے دوسروں کک جانا صروری نے و رن جس سم یو ۹٦‏ آیات ںو رہم اسےاپنے ہی پا تفر اوراسے دوسرد تک ن با نے کا بد ڑم ہوگاء ا کاانداز و پرٹح سکرسکتا ے۔

0 "کلاےنبوت جلد ہنجے ( ان مغ عن اي لٹ قال: َاللہ لان بھی الله دک رَججلاً وَاحِذًا و لک نت حُمُر الَعم. (اوراؤّر) ترجمهھ ححخرت ابین سر سے روایت ہ ےک رسول خدا مه ےا شا وا ا ای امم دا ار رق رفاؤ ےنگ اواب رر تق گارے لس زان کاہرے؟

تشریح: اس عدیث یل دقوت دی نکی تزغیب د لگن سے اور بتا گیا ےک یکوگی ا سکیا مکو یز نف ام رک کے اکر جواری گنو نے ای و نکو اہ ضا جائے اشن یں 97 ە,/ ص9 9 080“٭“. نے ا لیے دگی ےک ربوں بی سرخغ اوٹ بہت مھت ھے جاتے ر ہے ہیں ۔ دوا نکو بہت عمزیز رکھتے جھے۔

چا ایک اور پپلو سے وکھیں۔انسا نکی قرو قج تکا مق بل دنا کی دوسرکی چز سی ہی سکرکتیں خواہ را ہرد وکننی بی لچت یکیوں نہ ہوں۔ اس زی نکی اس می قبت نے جے انمانککتے میں اسے پلاکت اور رگم راہی سے ب اکم ہرای تک راہ پرلگانا 0-771 ےا لکاانداز پٹ سکرسکتا ے۔

() و عَنْ انس قَال: قال رسضول اللہ بائشه : لغَدوَةٌ فی سَبیْلِ الله او رَرْحَةٌ خیْرْ مَنَ الدُنَیَا وَمَا فِْهَا. (م) ترجمهھ: ححخرت لغ سےروابیت ‏ ےک رسول اللد نگ نے فر مایا:” ال دکی راو می سی یاشا کو یناد نااورد اٹ جو یج ےسب سے؟ہتر سے

تشریح: ال عدیٹ می بھی راووق کی مرگرمیو ںکی فضیلت بیا نک گن ہے۔ دی ناف نکی اشماعت اورال سکیس بلندکی کے لے ج وش سپ یکی جات ۓکی ود سب داوف نکیا سرکرمیوں میں ااول ول رجحامیزوری سام ےئک سضھی یز اس ے بڑ کرغش تس تکوکی دوس انئی ہو سکتا۔دنیااورد نا کی ساارکی جم عارنشی اورفا لی یں لن دین کے لیے مؤی نکی جدو جہد دائی قد رو تج تکی عائل سے ۔اپے ال دا عیاش مجاہرانہ مردار کےسبب سے یک نکوآ زی لے ا ےر و یں

)٥(‏ و عَیْ ای عَیْسٍ ا رَسُوْلَ الله تل قال: مَا اغيَرّث قَدما عَبٍْ فِیٔ سَبِيْل 7 سم ا (ہناری) ترجم4: ححضرت اوس ےروایت أ[(2٭٭8. اق ایا نون در کے ام ف کرد من فا دہ رت ور یئآ یچ ےکی“

تنشریح:سشنی اگرہم جات ہی ںکہ دوز غ کی انگ بمکونکچھوے اور ہم خداکے عذ اب سے فو ہیں چرخ داکی راو میں پییں مرک مکل ہو اڈ ےگا۔ دا وق کی مشکلا تکواکیرکر نا پڑے گا۔ دا کی دراہ یس پئی ہکا نچھ یت ےکی اور ہمارے قد مگردآلوداور ہما ےکپٹڑے بھی مہو کت ہہیں۔ بہاوراں طرح گی دی چڑوں گی روا ےل ہیں خداکی راہ میں جدوچمد کر ہوگی۔ بھی دہ اصل اورشنی راوکل ےجس پرچ لک رہم جنت کے شی وت ہیں اوراہۓے آ پکودوڈ غکیآاگ سے بھا کت ہیں-

(۵) ز عَیْ ابی هُريرةَلَ : قال رَسُوْل الله کٹ يلع الَار رَجُل بی مِنْ َشیّة الله نی يَوۃ اللْیْ فی الصُرُعء ولا عم عالی عَبٍٰ ری مبِيْلِ الله و هُحَان 2 (تزی) ترجم4٭: نفخرت الا ہ ریا ےروایت ےک ہرسول او مل 20 لان وو مین ۳ف ٣لت‏ ےسسو بنا سیگ شووااں دچاپلے ا بندے پرائشھ کے رات کا غباراوردوزخککاویعوا یں ہو سکت _“

تنشریح: ال حدیٹ یش مؤن کے اندرون نی اس کےقل بک حالت جیا نک گنی ہے اور یہ بھی ا یمیا ےکی لکی دنیالٹ ا سک ز نگ ی ار غکیاہوتا ہے؟ اس کےقل بکا ال می ہ ےک جب خدا کا خوف اس پر طاری ہوتا ےو ا سکی تع کل جائی ے اورد ہرد پڑتا ہے۔ اس کے ہہ انویی گور اس .مار بے رہق تی شاظطز کن ےکا لا ہواددد ھن شی دای ںی جا ٹیک ای طط رخ اس کے دز رغ میس جانے کےا مرکا نک ان سیآ +وزاریی اور پان ےت کردیا۔ مد اے ڈرنے والوں کے بے میا چھیاخش لن ری ے۔

٦‏ اج بوسابشسھ مس

دنا ۓل میں من خداکاسپاجی ہہوتا ہے۔ دہ خداکی راہ شش مرگ مل ہوتا ہے خدا کے رات کے تیاراورمکان کودہ ا لآرام اورراحت کے مقاے یس زیادہ ند کر ےگا جھ آرام اورراحت اے ا پناس گریوں یھ ٗ0 کے قیام اوراعلاء کلت الل رک یکوئ یکر ہو_

ان روایت کے مسج ہنس روایا تکتب احادیمٹ جس اوک یلق ہیں نال یکی ایک روایت میں بے الفا بھی منقول ہو ۓے لن فی متخری مُنْلم 22 (کی ناک ) کے دوفو ںختقنوں میں ( درا کی را ہکا خپار اوج مکا تھواں )بھی بھی ین انان ہوسکتے ۔نسائی یک ایک ردایت میں بی الفاظ لت ؤں: فی وف عَبْد انڈا و يَحْتيع الشُمُ وَالْیْمَان فی :2 عَبد رفا یھر ےک رتشن (تد اگ زا کا خباراو جم مکا ظراں) : مھ بیک جانئیں ہو کت اوردسی بنرے کے ول می بھی حیس وینل اورایمان جع نیس ہو ست ۔

(زع گن رواخوں مل ۳ ےوہ بی س ےک ہم دای راہ کا خپاراو رجہ ما نقواں دونوںل ہی نے کن کے یی نہ تن رک ان اسیا یں ہو تا 7 ار دنیا شش دای راو یٹ اپٹی جا نکھپاۓ اورط رح طر حکی مصینقو کو پرداش کر چم رجب وہ دناسے اپنے رب کے پا وائیں ہو ال لکااتتقبا لجنم کے دعومیں سے ہو۔

ہم ہے را نکی آزمائنش

وا ےو ا ہے یے ے و علاله و 6 کت ا یب و نم تا ا سی او ا )١(‏ عَنْ سَعُدٍ قال: سُیل النبی نے ای الناس اشذ بَلا٤؟‏ قال الانبيَاءُ ٹم مل فَالمَُلُ بْعلیَ الرَجْلَ حَسَبَ دِئٔیه فإِن کان فی دِیٔیه صُلَبًا شع بَلاه ‏ و ِن کا فِیٔ دی رِقةهَونَ عَليْهِقمَا َال کڈللک ختی يَمُيِیمَالَه هنْبٌ,

(نرمی امن ماج ) نَ و صَاالَ خی ا

ترجم4: جتخرتمعر ےروایت ےکی خیش سے در اف تکیاگیاکرلوگوں کان سب سے زیادہآز مل سک ہوئی ہے؟ با نے فرمایا:اخمیا کی ۔ بچھراس کے بعددرحہ پردرحہ جو ن١ل‏ ہو۔آد یک یآز مان بھی ا سکی دینداری کے مطابی ہہوکی ہے۔اگمردہ اپنے دبین مخت سے وا ںکی1ز مان ش بی حتت ہوی ہے اور ارد اپے دبین میں نیم ہے ا کی مکی بھی بی

”کلاےنبوت جلد پنجے اتا

ہوئی ہے۔.آز مائٹو ںکا یی درد تا سے یہا لک ککدہ ال ط رب چلتا رتا ہ ےک کوک یناد اس پیش رہتا۔ے“

تشرد یح :دی نکی راد ٹن ا لِایمان کی آز ای لاز اہول ہے۔ اک ش ادن ےن کی بھی اسے پین نکی کر میں ےک دی نع نکوف روغ حاصصل ہو۔اس لیے دہ اب لاق کی راہ یش میشہ رکا شکھڑزبیکرتے رت ہیں دی نکی راوئی س7ز مائش ای لج سس وھ رہش یی یی ہے۔اگردہاپنے دین برہابیتمضبڑی کے سا جح قائم رجے ہیں اور دی نب نکی طرف دگوت دیے سے فا لیس ہو تے ۔ ا لکام یل نہ دہشت ےکام لیے ہیں اور تق نکی قیجت برای پل سے مال تکرتے ہیں نو ایے لوگو ںکا سخ تآز ان سے دو چارہونا:اگمز مہ ہے۔ ایس سلملہ میں سب سے پییلنمایا ںگرددانمیا مہم السلا مکا ہے۔ پچرددرجہ پردرجہلوگو ںکی ا نکی ابٹی دی ہشیت کے مطاب قآز کش ہوتی ہے راو نکیآزمائنٹوںکادورسی نی یشکل میں چتا رجتاہے۔ خداکے ہے اوشلع بنرے اود تو یی سے زین ہا رم زندگیگمز ارر ہے ہوتے ہی ںکران پرخدا کوک امنیس ہوتا۔ ہآ ماش می پور ےأتر تے ہیں ۔ باعل ھی تن سے پچھیرنے می ںکام یا ب یں ہوتا ۔ووا یذ ہداز ںگی رف ےکی خاں لاگ )٢(‏ و عَنْ خَبَابٌ قال: آئیْت التَبیٗ لب و ھُو مُمَوبد بُرَةَ وَهُوَ فی ظِلِ الْكغبَة و قذ لیا ِن الَشُشْرِکِيْنَ شَِة فَقُلتَ الأنَڈغوا الله قد وَهُوَمُحْمَرٌ وَجْهَه فََالَ لق کانَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَْمْمْط بِمِشَاط الْدِيْدِ مَا دُوْنَ ععظایہ مِنْ َخم ا عَضَبِ مَا يَْرفّه ڈلک عَنْ وثیہ وَیُُصَم انار لی مَفْرَق راب يشَقبالَین ما َصْرفه دک عَن یہ الله وم الله نذا الْمْر حَتَی یم یرَ؛لرٌاکبٔ مِنْ صَنْعَاءَ إلی حَضَر مَوتَ مَا يَعَاف إِلٗ الله (بخاری) ترجم4: مضرت خبابٔ ما نکر تے ہی ںکہیس نی مکی خدمت یں حاض ہوا ہآ پب اس وق تکیہلگاۓ ہے چیادر یرکب کے سامہ لتق ریف فرماتھے۔؟ یل مرکو ںکی طرف ے بہت اذی تچ ھی اس لیےگون کیا کیا آپادحانن فرماتے ؟ یک نکر بیٹھ گ ےآ پ کاچ رہ سرن ہوگیا چک رع نے فرمایا: تم سے پیل ای کن سکا عالی می وت کہا لاب ما رگاشت یا

پ) مہ

۰" س0 پھوں کے یلو ےک یکنکصیاں چلا ت ےلین ىہ جن زجھی اسے اس کے دن سے مہ شا ئی تی اوورسی مع ربز کوک دوگکڑےکردے جات تھ وریز انس ان ک ےد نت ڈ رایت اور خدا ادا د بی نکو پپاداکھہ کے رہ ےگا بیہا لی کک ایک سوارصنتہاء ےنت مو تک اس رع بیخوف ہوک کر ےکا اس شواک اروگ تشریح: مج روابوں میں مَا ححافث ال اللة سے بعد بے الفاظ بھی ممقول ہوۓ ہیں: والَدِت عَلی عَنَي و لَکَتکُم لوت شی اییاالکن وامان قائم ہوگاک دوردرازسف رش بھی1 دی یکو را شی کا خوف ظز ہوک یا گرا خوف ہوگا و انی ایمروں کس اشن اک ووان بقل ۃاررے۔ ۱

اس حديیث سےگئی با یں معلوم ہوی ہیں ۔اس سےمعلوم ہہوتا ےبد ین دیما نکی دوات وو دوات ےجنس ےی حالت می سکھی وت پردارنیس ہوا پامکنا۔ غواو اس کے لیے آدٹ یکوآرے سے چچبردیا جاۓ یا ال کےگوشت و بڑست میں لو ےک یکنگھصیاں بیکیوں نہ وس تکردگی جائئیں .تار ایی مناظظ رش لکرنے سے قاصر نمیں ‏ ےکستم یراہ لکذرنے اٹل ایمان ‏ ےمم کے دوکڑےکرد ےمان دہ اپنے دن پآ شرکی دم کک قائم رہے۔دہ جاتۓے تھےکردی نکی راوٹش اس طر حکی مصعیبتموں کی ی1 نکوئی خی رمتو قح یں ے۔

اس حدییث سے یمعلوم ہواکرد یناف نکی جدوجہد می جات پینری رواکییں ہے۔ بے کام نہایتصبروشیاتکا طالب ہے ۔کام مال ان ھی صے می آلی ہے جودین کے لیے سسل رگم رت ہیں اوردی نکی راہ یل دو خی سم بی صب رونا تکاشوت دی ہیں ۔

ایک اہم بات اس حدیت سے بیگھی معلوم ہوٹ کہ قام ان واماں درمخقیقت قام دن سے والستۃ ہے ۔د یقن کے ا اب ہو ےکا مطلب بی ےکہز مین میں الکن وامان نا ہو لئگوں کےدلوں مم جس ایک خداکا خوف ہو۔ دہ ہورع کلم وم سےتفوظوہوں۔ ٣(‏ زَ عَن معَاوَِةقالَ سمفث الَىٔ ءَكِّهيَقولَ: لا َال مِنْ امی ام قَابمَةٌ

بر الله لأيَضرّهُمْ مُْ خَدلَهُموَلَأمَنْ خَالقَهُمْ حَمی يَأِی ار الله وَهُمْ عَلی ڈلک. ( ہار ی ؛سم)

کلام نبوت جلد پنجے 12۵ تریح سار تس رایت ےو کت یں ریف نے خی نورق اج ور سن اک 'میرگی امت مر برابر ایک الی اگرو موجودر ےگا جو ال کے دی نکی محافظت واتقاممت یس لگار ےگا جولوگ ا لکا ات نہردمیں کے دا کا یھ رگا نک ریش کے اورتہ و ولگ جوا ک حالف ہہوں گے اسے با ءک مل گے۔ بیہا لک کفکہائل کا بیص لآ جاے اورد می ن کا گر دہ این ال عحاات پرقائم ر ےگا

تشریح: بعد یت تال سجےکرائ لق آز مائنڑں ے دوچار ہوں گے نکی اتی ںبھی ہو ںگی۔ا نکی معاونت اوردفاقت سے ائڈکارحگ گکیاجات ےگا ان ال خالشت اوررکاوٹوں کے پا جودخدایرستو لکا ای کگردہ پیش دی نکی محافظت یل گار ہےگا۔عالات کے حاظ سے دب کے جویھی تھا ہوں کے دو یں پور اکر ن ےک وشن شکرےگگا۔ اس رہ دی نوم نکی حافطت اوراقام تکی جدوجہد بییشہہولی ر ےکی یہا لت کک قیامص تک کٹ یآ جائۓ-

دکو کا نتارکف

)١(‏ عَنِ اب عَبَاسٍ ان رَسُوْلَ 21 لما بَعَکَ مُعَاذًا لی اليْمَنِ قَال: !نک تقْدُمْ علی قوْم اَهلِ تاب فَلَيكنْ َو مَا تد ُغَوَہْ غُوّْھُم اليهِ عِبَاكَة الله قَإِذًا عَرَقُوْا الله فََخَِرُهُمْ ان الله قد فرَض عَلَيهِم عَمْسَ صَلوَاتِ فِیيَوِهِمْ و لبلهِمَ قَاذا تو ہر 3 الله عَرٌرَجَل قد فَرَض عَلَيْهھِمْ زکوۂ َزَخْذ مِنْ َمُوَاِهِم فَترَد عَلی ُقَرَايْهِم اذا اطاغُوا با ف>َْذُ مِنهُم و توق ق کرائم آمُوَالِهم. (ح) ترجمهھ: حطرت این عبا ‏ سے دوابیت ‏ ےکہرسول الل مگ نے جب معا ومن بھیچا تو فرمایا :”نم ام قوم کے پاس جار ہوجوائ لکتا تاب سے سب سے پپیلے جس ہچ زی طرفم یں ذکوت ددووابلرکی عبادت ہے۔ پچ رجب دواللکو پان یں ذا نکو بنا گار نے ان کے 29 0 س "ا" اکر نیس و اتھیں تناک انز پل نے ان پر زکو ھی فرش لک ہے جوان کے مال سےےلی جائۓ گی اوران ھی کے

٦‏ کلا منبوت جلد پنجے ض ە9ئ9ەەع)( ۵ك پ96.6ص9ص"۶۶9 ة و سے ات تشریح:الحدیث سےمعلوم ہو اک نی حلگ جو ذکوت دہیے کے لیے دنام ستش ریف لائے تھے۔ اص وہ کو تکیایا؟ آ پک دحوت اس کے سوا اور رنڈ کرلک ایک خداىے بنرے جم نکر ہیں۔ دہ اپے مد کو پان لی اورتھیں یمعلوم ہو جا ۓےکرخدا تقو ق ان پہکیا میں ؟ اورا سے پتروں کے تلق ے انا اکا ژہدارٰ+ولٰ ہسے۔ خحداکا تروں پیل ے ۶ج اسے پپچانیں اورا کی عیادت اور بصت لکواپنااوٗیشن فرش بکھییں۔عبادت اورخماز کے جواوقات مقر ہیں ان اوقات شی دہ این رب ک ےآ ھےججدور بیز ہوں ۔نمازسب سے اپ م اور ناد یقن سے دا کا جس کااداک نا ہرائ دعام کے لیے ضردرکی ہے۔ہماز پٹ جن کے بحدآدی یآ زاوکئیں ہوجاتاکردہ جوچا ‏ ےکمرے بلک خودا لک نمازائ لک تنقاضی سےکدوز گی کےتیام بیشججوں یش خداکامعاورفماں بردارب نکررہے۔ا لکی نافرمائوں سےا ےکودوررکھے_

خداکے بندوں کے تقو یکا عنوان زکو ‏ ہے۔صاحب استطاعت لوگوں پر زکو ڈنل ہے۔ کات مائص طور سے نقراء وم ماکان اور عاجت مندول پخر کا جا ۓگا۔ بفار یکا ایک ردایت ٹیل برا لفا ظط ےکی یں :َو حَدُ مِنْ اَعييَئِهمَ وَترد فِیٴ فُقراءِ میتی زگ قوم کے مال داروں سے کی جا ےگ اوران کیفتراء خر کیا جال ۓےگی۔ زکو ةوصمو لکر نے والو ںکوا سک کید یگئی ےک وہ زکو ‏ وصو لکر تے وققت ا ںکا ال رگ رر وە‌زلا+وش چون نکر اج مال لی ےکیکیشش شک میں۔اس سے لوکو ںکی د نی ہوگی ان ک ےت کی ا مس دار یی ضروری ے- )(‏ عن اہر زن بد ال کال :کان رز اللہ برض تَفْسۂ علی لاس بِالمَوْقفِ فَقَالَ: الا رَجُل يَحمليی لی قَوہہ فان فرش قد معُویَ اَنْ أبْلَعٌ کلام رَبیٔ. (اپوراؤر) ترجم4: ضرت جابر جن عبداڈڈ سے روایت سےکہرسول اللہ حلل موقف میں لوگوں کے ما ےا یآ پ کو نکر کے جج بے نے فماا: ”مک یاکوئی یئن ہے جو بے اٹ ھا انی

کلا منبوت جلد پنجم ے٦‏

قوم کے امس نے کیو ںکیرق ریش نے یھ اس سے روک دیا ےہ انے ربکا کلام لوک ںتک باچھا 0 تنشریح: موف یڑقی وف فک مہ مرادعرفا تکامیران سے جہاں نچ کے موق برقام ہی اع شع ہوتے ہیں ۔آ پ اس خوا یش کاکس تا ی سے اظہارکررے ہی ںککوئ ینف کو اپ توم یش لے جاۓ اکپ خداکا ام ا تو کک پٹ یا کی ۔اورووقوم ہریت ےنیل اب ہوکردنیاوآخرت یی لکام بالپیا سے گ مکنارہو کے ۔آ پا کینے س ےک ”لی نے بے اس سے دوک دیا ےکہ بی اہین ر بکا کلام لوگو کیک پہچاوں معلوم ہو اک اصلا خداکاپغام آپ مد اک ى یکلام کے ذر مہ سے باپار ہے تے۔ پنام رسای کے ا طر کے سے کر ربق ک رتوربی اجک لان رای مد ک کلام مان سے روک ر سے ےا ےب ماخ ےک جولوگ خداکاظاممکن سیت ہوں اا نت کآ نے جایاجاۓ کہا نک کآ بے خد اکا کلام کو تکا سب سے موشرعلربقہ می ہوسکا ےک یت رن کے ذد یی سے پا من عا مکیا جائے۔ دا اتی دگدت با ا مکی جووضاحت فرما ےگا ال سے ہبتر وضاحت اورتز جا یکن یں ہے۔ اور پیا مکوموڑ بنانے کے لیے اس سے ہر اسکوب وانڈا زی ینک ن ٹیس جو شدانے ات ےکلام میں انخیارفر مایا ے۔ () و عَنْ ای هریْرَة ما نَحُی فی المَسُجد اذ عَرَج عَلیْتا رسُولَ الله کٹ فقَال: انطلِقُوْا إلی يَهُوُد فَحَرَجُتا مَعَةُ تی چٹتا بت الْمِذْرَاسِ فقام ای نت قَنَادَاھُمْ یا مَعْشَرَ يَهُوْدَ اَسْلِمُوْا تَسْلمُوْا. فَقالُوْا: قَذ بَلَْتَ يَا ابا الْقَایِمء فقَالَ: الک أِيْڈ. تُمَ قَالھَا الايِية. فَقَلُوْا: قَذ بَلَعْتَ یا با القایِسم. (بنارل) ترجمل: ضرت الد ہریڈ سے دوایت ےک ہم لوک مسر میں پیٹ ےک رسول ادن مل ہکلارے پا ستشریف لا ۔اورفر مایا:”نیہودکی طرف جیلو ب مآ با کے سا تھے بیہا سک کہ ہیت المدرال جج یا کے ہو نے اذدھ ںآواز دی اک ناے جماعت بببو دم اسلام لےآ و خوظارہوگے۔ ھوں ‏ ےکہاکراےالوالقاسم (مي) آپ نے پذاح چیادیا۔

'کلا ےنبوت جلد پنجے آ نے فر مایا:” یی میا متدتھا۔سچمردوسرکی بادآ پا نے بچیاحکمات یذ ان لوگوں ن ےکہا کراےالوالقاسم ہ( پل ) آپانے پا کچادیا۔ تشریح: بی ایک عدی ٹک حصہ ے۔ ای عدیث میس کے تل۷ بیبود کے جلائشن سے جانےکاذکرآیاہے تھے ہم نےعطوالات کےخوف ٹف نی لکیا۔آپانے بیو دکی ش ارول اوران گی رایشردوانیوں کے بعد جب یر فیصلفرمایاکہ ودک جلاؤش نکر دیا جا قذ اس مو رگج یآ بت نے یں اسلام لا لو بیذکت دی او رکھا اکراسلا قجو لکرلوا یی انس رافاتردے۔آ خخرت کے علادود یی لچھ یت فو ظا مامون رہو گے ۔بیان بہودنے ججواب می سکہاہکہراےابوالظاسم ہے ور یکنیت ہے ) پان پغام بنیادیا۔آپ انی ذمدداری ود یکر گے۔

پا نے فر مایا ہگ مگ میا جات ہی ںکہ پا مک کپ جاے ۔ جتھ پر رالفرامم نہ آن ےکی نے پغام بٹانے با ھی دقومتد اسلام دہیے میں نغفلت سےکام لیا۔ بش نے پا پیا ا گےاےقجو لکرن یار رن کانسمیں اخقیارے۔ (۸) وَ عَنْه قال: قَال رَسُوْلُ اللہ ثََّه: مَیْ دعی إلّی الھُدی کَانَ لُ مِنْ انج مل اُُوْرمَنْ تبعَة ليَنهُص ڈلک مِنُ أجُوْرِمِمْ شیا وَمَنْ ةعی إلٰی صَلالَ کان عَليْه مِنَ الام مل ائام مَنْ تَبعه لاىَنقْص ڈالِک مِنْ انم شَيْتا. ۴ص ترجم4: حضرت الد ہ رر سے ردایت ےکر لِ خدا مگ نے فر اا: وص دای تی رف وت دےلو اسے ان کے برابراجروڈذ اب لگا جوا سکا(ہرایت ٹیس ) اتا حگر میں ے اورائں ے اتا کر نے والوں کے اہج می ںکوئی :۰َ۷)'ٗ رم راہ یکی طرف دگوت د ےگا نذا پران کے برا گناہ ہوگا جو( فلالت اورکم رای می ا سکی یوک بی کے اور ای ے پروی ار نے والوں ک ڑا یکو ید ول“ تن زدی: ا ملا خ رپا اہی .ان لے ا کی وک وت ای الک مک لتق ای تک رف وت دبی۔اسلامکواخقیار سے اغی رر می میس انا نکی اصلا ہ تی ہے اورند وہہ یکام پل سک مکنا ہوسکتا ہے۔دکو تکی جوفضیلت اس عد یٹ ٹل بیان ہل ے

کلا ےنبوت جلد پنجے 1٦۹‏

دو غیرعمولی ہے کسی دائی) نیک وقوت پر ےل بھی لی ککہیں گے اور ال کی و کی پڈ آزنس گ اود شیین دس فا فا تا لاد اش کرابت ٣ل‏ ہوگاکیوں کرالناس بک ہرایت اورراست روگ یکا اٹ رک دی ے۔

خحویت الی ال ہرگ کی رح اسلا مکی دو تکی اور یختلف ری ہیں_خلا وت ال لش وت الی الا یمان ءذکوت ال امفظ ہووت الی ایا وت ای اشی او رکوت الی دارالسلام قرو

گ را یج کے ھتان کات ہے اودلوگو ںکوکم راہ یکی طرف لانا ےو جن لو کبھی ا سک یت یک و زغیب سےگم راہ ہوں گے ان کے صے می جتنا گناہ ےگا اس کےیشل تام را یک طرف بلانے والے کے صھے می سآ ےگا کیو ںکہدجی ان لوگوں کیاکم اہی اورضلال تکااصل سبب اور رر پ|اے۔

کرت ا ی الا یمان )١(‏ عَي العََاس بی عبْد المُطَلبٍ قال: قال رَسُول الله بت پ: ذاق طعُم لإیمان مَنْ رَضیَ بالله رَبّا و بالاسُلام دنا وّبِمُحَمَدِ رَمُولا 02

ترجم4: ححخرتع با ری نعبد ال مطلب ے روابیہت ےک رسول او نے ارشادفرمایا: ا نٹ نے ایما نکا ذ اک ہکچگولیا شس نے اللرکواپناربء اسلا مکواپنا بین اورممرگواپنارسول وی کے ساشھ ما نلیا“ تثٹ تشریح:اسلا مکی دقوت کے ببت سے بپہو ہیں ۔ یا دکی لور پر ری ذکوت ایما نکی گت ے۔ ایمان کے خی رافلام کے رات میں ا اک تر بھی چلنامکننئیں ہے۔اسلا مکی مات ت کی ائ مان کی بزیادیکنڑی ہوٹی ہے۔ائی لیے الام انسانع سے پہلا مطالبہ یک رتا ےکد اسلام کے یی کردو تال ہا یمان لا تے۔ خداکواپنا رب اوہ الیمکر ےاسلا مکوسا دی نہ وکراسے :رن دی یں اخقیارکرے اورتحضرت مجح ھکی رسالم کیل رکم رے جو خدالکی طرف سے جماری دوفمائی کے لیے مت ہہوئے ہیں۔

یمان وی مسر ہے نس میں د لکی خوگی اورمسرت شائل بہو ۔آ دی ایمان لانے میس

میتی گار یچھننیں کے الگا ححوزت شا اپ وٹ یکو انا نک علاددت اورلزت حا ٣ل‏ یل ۔_اوردہيھا نلرزدلّ اک اسب سےلز بت لصو رک ےگا

ایا نکی دو تکا ذکرترآر نال صاف الفاظ م لکیا گیا ے: رتا اِننا سَمِعْتَا مُنَادِیّا َادِیٰ ِلَایْمَان ان 'انوا بر بر ٭َقامنا -(ا لگران:۱۹۳) ہعارے رب نے ایک پچارنے وا کوایما نکی طرف بل تے سنا اپنے رب پرایمائن لا 2ہو چم ایمان لآ ئے۔ 3

ضشوتا ی الاسلام ۱

)١(‏ عَنْ انس قَال: کانَ عَلامَيهُوِیيَہْ حم ابی کت مض قاتاه ابی بت يَُوذُهُ فَفْعَدَ عِند رَابِه فَقَال لەُ: اَسْلِمء فَْ فنظر إِلی اَبيْهِ وََهُوَ عِنلۂ فَقَالَ: اطع با الَْاسٍم فَاسّلم فخرج النبی ناش بے و هُو یَقُوْلَ: الْكَمد لله الڈی ادا الاو (ہفاری) ترجمد: حضرت ال کے ہی ںک ہیک بیہودییل ڑکا نی ح کی خدم تکیاکرت تھا۔ دہ بجر ان می ملا ںی عیادتانشریف نل گے ءاوداس کے پانے ہشکر پا نے اس ےق ما کہ ”اسلام قبو لک نے“ لڑ کے نے اپے با پکی طرف دریکھا جو اس کےقریب بی موجودتھا۔ پاپ ن ےکہاک۔اوالقاسم ( می حضر تہ )کی اطاعح تک ]شی ا نکی اسلا مکی دو تقو لک نے چناں چلڑ کے نے اسلا قو لکرلیا۔ یا پل دا ے باہ رن آ پک ذبان ھ4 ىیل لات تھے ہر مکی ریف الل کے لیے ہے مس نے اس ل(لڑ کے کو دو رخ ےنحیات دگی۔“ تشریح: بعد یٹ تا ی ےکی لن اس کے لس قررگگرمندرجے تے یلو کشم 7 نگ سے پ ےک ۔آ پا یو دییلڑ ‏ ےکا ار ٹل ا نکیا عیادت کے لیے جات ہیں نے سب سے زیادوگک رآ پکوائ سک ہوک کیل بے پچاراسلاءقّول بے اق ردمیاے رخصت ہہوجاۓ اور آخرت می خداکی رگتوں رد ہہوکرر ہے اورال کا وکا ناجفت کے ہا ےد راد یائے۔ اس حدیث سےمعلوم ہونا ےکردائی اپنے داعیا نف رالکن کی طرف ےی حال بش تھینحفلت سےکامم نہ نے جب اور چہا بھی ان سکواسلا مکی دعو تکا مو لے وہ اسم وش کو

کلاےنبوت جلد پنجے اے

ہرز ضائع نہ ہونے دے۔شابدکوئی بندو ال سک یکیشش سے اسلام قبو لکر نے اور ال کی زندگی ھرومیوںء نا کا میول اورغرا -.٦‏ سے تفوظا ہوجاۓے ۔ داعماشہسرگرمیو لک قد دو تج تکا انداز*ہرصتا ںآ دٹی بخو یک رسکتاے۔ زکوت ال الد )١(‏ عَیْ ہی الر٥َاٍقال:‏ قال رَسُوْلُ اللهتكّه: جوا الله يَعْفِرلّكُم, (اص اظررٹی)

ترجم4: نضرت اودرداءً ےروایت ےک رسول اللہ میلک نے فرمایا:” ال رکا ات را مکرووہ کوںقیر قشرد ییح:انیا شیہم السلام بمی شا یق مو ایک ال کی طرف بلاتے د ہے ہیں۔اا نکی دگو تکا ال ید ہا ےک راوگ اپنے خالقی ور بکوپپیانیں ا سکیوظم تکایں احساس ہو دوالڈہ پرایمان لانجیں اود ا کی بندگی اختیا رک میں ۔ ال کے علادہ شا نکاکوئی لی سے اور شکوگی دوسا ان کا رب اورمجبود ہوسکتا ہے۔ اس لیے وہ عیسو ہوک ایک خدا کی عباد تک مس اور شر ککی آلودکیوں سے اپنے دا نکو پک رع

اس حدبیث می لکہاکیا ےک انسا نکا اون فی ریہ ہ ےک دہ خداکیمظمت اور بز ری کو پھیشراپنے ٹین رر ھھے۔ اس ینلم رات ا کی طرف سے ای گھہ کے بھی زاشل نہو۔ رانا نا ضفواظ ا مکی طرف فا لیس ہوتا اور خر اک مت کے جوگھی نا سے ہوتے ہیں ددا نکو ہو راکرتا نود ہ داوم بالن با نۓگا۔ دہ ا کی خطا کو لکومحا فک۷رد ےگا اورارے اپنے داسن ررمعت سے ڈوک لےگا۔ پا اگل یی دو کو تی جوف ح علیہ السلاام نے ا ناو کے سان ٹین یک یی ۔ رت فورح نے اف قوم سے شکابی تہکرتے ہوئے بب یکہا تھامَالہمُ لا ےو الہ وَقَاا۔(ح:۳٢)‏ ھی ںکیاہوکیا ےک (اپنے دلوں مج ) اللھ کے لی ےکی وقا رشحم فکیائے کی رھت ا سکیفخظمت ا با تک اض ےکیقم ئل دک بندکی قد ا کاڈ ررکواورغی کی ینوخ گیا )اطاعحتکرد۔ دو می ںہ یک می ںھار ےکنا ہوں سے پا کک تگا۔(آن کر و و اطِيمُوْن یعِْرْلّكُمْ مِنْ دوَيككم(وں:٣م)‏

٢ے‏ کلا منبوت جلد ہنجے دالیم ریم کےتحت زندگ یک قمام دی شیت ےآ جاتے ہیں ۔ ناں چر لی کی خوش نود دی کے ےی ےب تکر بھی خدائی یم کیم مس دائل ہے ۔حد یٹ ہے: مَا اجب عَبْدٌ عَبََ لد ِا اَكْرمَ رَبَه ۶ ۶ق اتی پر نے ےسک یھر خی ولا ز نے ابے رب گزد لک الیم پگ ری مکی ض () و عَنْ یر بین نیو مُرْسَلاقَال: قال رَسُوْلْ اللہ تَّ: مَا اُوُجی إلَیاَنْ اَجُمَع الال و کو مِنْ الَاجرِٔن وَ لک أُوُجی َ اِلَیٗ اَنّ سَبَخُ بَححمُدِ رُبک و کن مِن السَاجدِبٔی. وَاغیٔد رک عتی یک الین (شرع‌ا.) ترجم4: حفرت یرب ننسلا روایی تکرتے ہیں کہ رسول اللد مگ ے ار شا دق ا ”نمی رکی رف یوین سکیاگئ یکہمیش مال ش کروں اورتا جر ہنوں بلک یرک طرف وگی ےکی ے کیم اپنے ر بکام کر داو رر اہو جا ءاداپے ر بک گی گرب یہا ں کک کہ ج۶ لپ دڈھارے اٹآ 7

تشریح: ہرس کصممدے مم راکفا درگ سر ہیں ہے۔ مال یادوا تکی حشیت متصدحیاتکی ار ا ال اذانکی ایک دنو ضرورت ہے اس سے ا ٹکار سکیا جاسکتا ۔ انی لیے ما لکو تیج یکہاگیا ے ینگ رکوئ ینس مال اورتبارت ہ یکوز نگ یکا حاصل اوراص لقصودحیا تہ ٹیٹےاز اے نلاات او کم رائی کے وا اور کہ سکت ۔ انا پیم السا مکی ہعشت ینس خوش کے لے ہوکی اورا نکی رف جس مقصد کے لیے دق یکی ائی گ۔ یناور ہے چناں چہ ى ریم عفر ماتے کیرک رف مدانے وکا ہج ےک ہکعی اپنے ر بکیاصفات اورال کےمن وکا کا ع فان ا 7 اپ ر بکا محام اوت بیو ںکا شعور ہو کے اورنھا ری ز بان پر بے سا خ نج کےکمات اتی ہوں۔اوراں سےگھ ھا رے و لکوسکی نہ ہو ادرقم اس کےآ کے پچ جا اس کےآ س وریز ہوک را کا اظہارکر وک مت اور بڈائی اون ومالی سےا یکی ذات متصف ے۔ دنا اگ رہیں سن وخ یکی جحلک پائی جانی اذ دہ خداکا عطہاورا سکی صفات اش ٹحخض ہے۔اریصورت ٹیل عبادت اور بندگی کے سو ھا رکی ند یکوادر لہ ہرک نیل ہونا جا ہے پھر

"کلا ےنبوت جلد پنجے 7

ریطرزٹل عارضی ہرگز نہ ہو بلگ ہآ خر د مج کتجھارا یی عرزٹل ہو۔ اس لف نل تقیقت سے روگ ر دای بل اورکفر کے سوااور نیس ہوسا )٣(‏ و عَنْ ابی الدَزاءٌ قَالَ: قَال رَسُوْلُ الله ءَػّه: قَالَ الله تعَالی:الَیٰ وَالْجیُ وَالائْسٔ فِیٔ بَا عظ"ٔم اَعلی وبڈ عَيْریْ وَارزُق و يَشُکُر عَِْیٌ. (اعی نی شحب الا یمان ) ترجمه: خخرت الودرداءٌ ے رواییت ےک رسول ال مل نے فرما اک اتال یکا ارشاد ےک می راء جن اورانسا نکا محاملہ ایک پھارکی (انسول ناک ) خ رکی یت رکتا ہے۔ پیداٹش کرت ہوں اور بندگی اور بہعنل وم رےسوادوصر ےک یکرتا ہے اورروزکی می د تا ہوں اوزش روہ میرےسوادوس ر ےکی اداکرتاے۔ تشریح: 0 2 ۶ حوالدیاے۔ برع مث تال ےکاس سے بڑادددناک اوراغسو اک عادشراو کی ہو کیرش ہوں یا اس وو خداکے وا تق قکوف امش لکرٹچٹھیں۔ خداا نکاخالی ےگمرووعبادت اور برع سی اورک کر ن پان خدائی ا نکورزقی دبا ےگ رشک رگ اریاں ساارگیاد یی اور ستانے پا رکرن ےلگ جا یں ۔ جن واأس کے لے تقو لطرزکل یہ کرد خداکی بندگی اخقیارک میں اوراس کےیشک رکز ار بد وب نکر ربہیں۔ یجس ط رب روزیی عطاکرنے وا ل ےکا شک اوک رنا ایک معتقول اور اخلاق یل ہے۔ ال سےککیکوامیارنیں ہیکت ٹجیک اىی رع اس خدا کے لیے دل می عحب تکا پیراہہونا ایک فطری اك ےی نے یں وجو دا ہے اور میں نل او مد شعورےواڑا ے۔ مرش اورگہادرت درتیقت عحبت ب یکی انی ضحل ہے مد اکے لی محب تکی بی اخائی شکل مطلو ب بھی ے۔ (٣)وَءَ‏ عَنِ ابْن عَبَاسَ قَال: محنث خلف ابی مت يَوُمَا فَقَال: ا غُلامَ, إخحفظ لن يَعتف اخفظ الله تجذۂ ۂ تَجَاَک وَإِذًا سَألَك فَاسُال الله و ِذا اسْتَعَنْتٌ فَاسْتعِن ب بالله۔ (تمللصگ) ترجمه: حفریت ابع عا نا یکرت مو کرلک روڑن می پیل کی سواری بآ پ کے یہ میڑھا ہوا تھ اک ہآ نے فرمایا :”نل کے! اپ رکا خیال رھد ھا را خیال رھ ےگا۔ ال کا

ََ ”کلا منبوت جلد ہنجمے خیالریھیق اسےا پنے رو بر پا گے ج بت ماگون لے انگواور جب تم عددچا ہو لٹ سے یرد الب رو“ تشرییں: بی ایک لویل عد یٹ کا اہم حصہ ہے۔فر مایا جار پا ےکتم ال کا خیالل دکھو۔ ا ےنظر اندازشدکرو۔ااس سے نال نہہو۔ ہرحالت ٹیل اس کےتقو قایس پا دلحاظ ہونا جا ہیے۔ ان کی پئی طلب اگ نھھارےاندرہونو می پحروم نیس ر ےگا تم ان کا شیا رکھو گے اذ قادہ بھیاھھاراخیال رکھگا۔اس کے لیے بکھی بن شیک ل نی سکو میں متقام مشاہر+عطافمائۓے۔ ینیم انی ما ومحرت 7,۸۸,۳29 بنہاپے رد پانے لگ جا کگویائم اے اپ گی آگھوں سے د پور ہے ہ۔اوراس کےسا ئے و را شیا وکا لد سو ہوں_

ایم بان اورماورمضلقہستیقکوچچھوڈک سی اور رو سکرن نہیں ہو لا ماوتو ۱ کكقاس رق سخفل٢‏ خلاموڈی ےط بفکمروو ھا افو عافل ہوگا تھا رکی مددکا سا ما نف راپ مکرنااس کے لے رجوبھی مشیئل یں ہے۔ ٥(‏ ا رَعَن عَائِمَةً َالّٰ: كَانٗ رَسُرّل وت ِذًا َمَرَهُمْ َمَرَهُمْ مِنَ العْمَال ما بُطيْقُوْنَ قَالوا: ا سنا کَهَيْتتک یا رَسُولَ الله ام الله عفر لک مَا_ ِ اَنقَاكُمْ و اَعْلمَكُمْ 7 آنَا: (ہاری) ترجمد: حضرت عا ٹنیا نکرثی ہی ںکرسول اون ہپ جب لوگو ںکوم دی ان دی اخمال کاعھ د نے ج نکی لوکوں کے اندرطا قت اورقوت ہولی ۔ گول ن کہ اکر اے الد کے رسول :چم آپ شی یں ہیں ۔آ بب کے نو ا گے ےس بگناہ ائڈد نے معاف فرمادپے ہیں۔ اس برآپ غضب ناک ہہوے ہا ل کک ہآ پکاخحصہآپ کے پچر سنا ہرہور ہاتھا۔ رآ پا نے فرمایا: ”نس تم سے زیادہ( اد سے ڈرتا اورخم سے زیادہائڈرکیٹ جا:تاہوں_“ تشریح: بےعدیث ای ےکا ےآ پکومشقت میں ڈالنا برذا ت خود ہرگ زمطلو نہیں ہے ۔آدیی اس ابی طاقت اورصلاحیت کے بیاظط سے مکلف ہے د بین نے اس لو کو انسا نکی بد ےا تارن آ یا ہے جس کے یچ انسان د بک وکیا تھا۔ شر تک رذ ات خودمطلوب اور

کلا ےمنبوت جلد پنجم ۵ے

مخفرت کے لیے لا زی قرارد ینا ایک ایی جسارت ےکہاس پر نی مشنگ خحضب ناک ہو یئ اورفر ما اکہ مشھےتم سے زیادہذ مددارک یکا ا اس اورڈر ہے اور می تم سے زیادہ الڈدکو جامتا اور اسے بپباضا ہوں ۔لتق ک یکا وواضورغایا سے ج تھا رےذبنوں میں جیما ہواہے۔ دی نکونا خوش مگ٠وار‏ بو ھ بنا کو ی تقو گ نہیں ہے۔ اگ رمشقتوں بی کا نا تق کی ہہوتا قو اس کت ٗی میں خرا کا رسول کی سے تچ کے روسکتا تھا الیل کا رسول سب سے ہا دہ ال لا جانا اوراے پا تا ے_ اوزیلم بازندمیشنی خداکو جانا ہی اصل دن ہے۔ اگ ریلم باوٹد کے تا تے وہ ہوتے 2 کھت ہولو ء2 خداکے ٹب یکواس می کی سے تیچ ہرگ نہ ات ۔رسو لک زندگی اورا سکاط ریکل بینھا رے لیے اسدودے۔

ال حاظ سے برایک اہم عدیٹ سےکراس مھ لعل بالشرکودی نکی اصصل بیادقر ارد گیا ہے ۔حقیقت می ےکہاصل دین اورا سکی رو عم با دش( خداکو جاننا اور انتا ۲ی ہے۔ش را اورقوا نین اورضواراد تق یقت ۂلم باشہ کےتقاتے ہیں ۔ مد اکوجانۓ سے دل میں ا سکا خوف اور موی بداہتا سے او ربچ رانسا نکوا سک ینک لان ہوئی ےک روہ زندگی کے محاطلات مل دہ روبیتہ احقیارکرے جو خدا کی ناراش یکا موجب ہوتاے خدانے زندگی کے ہرشے کے لیے اصول و ضوالبادرے دپے یں نج نکا پاس وھاظارکھنا ان لوگوں کے لی ےضردرکی ہے جو خحداکی رضااو را کی خول نودی کے طا لب ہوں۔ دا کے عطاکردہاصول وضوا با او رق انی نکی شی ت ای کال نظام زندی کیا ہے یس کےا مک یآرزودیا موک نکی سب سے بٹڑ یآرزوہوٹی ے۔ (۷) و عَی عَبْل الله بن عَمَررٌ قال: قال رَسُوْلَ الله تِّ: وا الرَّحْمٰنَ: وَ اَطَعمُوا الطْعَامَ و اَقْدُو السُّلام تَدخُْلوا الجتة بسلام. وی ترجمه: نر کپر ایر نگرہٗ ہۓ زوایت ےک رسول ان مکی نے فرمایا: ”را نکی عبادتکروء(چھوگو ںکو)کھا ھطا اورسلا مک یکر وہس اتی کےساتھ جنت میس دال ہو چا گے“ تشریح: یجن اسلا مکی دگوت پالئل فطرکی. سادہ اورآسان ہے۔ میددہ دحیت سے جس سکو ہر ز نج کنا ہے۔ اوراس کے قا ئل قیول ہونے کوٹ بھی اکا نی سک رسلا ۔ اسلا مکی دحوت ال میس دیحوت الی الد ہے دکوت الی اکا تا ضا وت ہےک۔انسان زندگی ٹیس خداکی مرضیا تو

٦ے‏ ”کلا ےنبوت جلد پنجے جھے۔ فداکودہاپنا آقا اورسجبودقر اردے۔اوراس کے پیند سے ہو ۓ ط نک لکواپتی زندگ یکا شا :نانے_ دہ مد أگواپنا ]تا نسورکرے اور ش دا کے سوا وو یکواینا مب ددویھی شہ جیائے۔ ا لگ اطاعت کے ذ ر لچ ے| چا کیااک نت تی ےپ لا باد کرے۔سوسائی بیس ا بھم لا مکوردانجع دے. پش دوصر ےکا چھلائی اورا کی لی اور عاِ تکا خواپال : ہو ۔کھوکوں اورتاہ عوا ٗی لوگو ںی پرینانوںکودل _-َِ ,۰و0[١كخم0۴‏ ےالن الکو ںکودورکرنے کے لی ےکوشاں ہو ۔بچھوکو ںلوکھا کھاا ۓ اورمنکوں کے لی ےکیٹرے فراہ مکھرے۔ ان سے ہعدددںی سے یی یآ ئے میں خی ہرک نہ ھھے۔ امیں ابنا پھال یجکنت ہے ان نکی یکو ناف ور لن یی * کی اورولوں یں ات جانے وا لی ہیں اسلا مکی

بی تلعمات ! کاضل یتقلیما تکلا عام ہوکیس ۔اورازما نکوخوونغرمصی مہ ککظری اور ےی اور

بے دددگی کے امرائش سےضجات دلا کی جا کے

(ك) رَ عَنْ عَائِسَةً فَلَُ: قال رسزل الله بت ٹ: اُغِبْدُوا رَكُمْ وَکُرمُوا اَحَاكُمْ. (ا) ترجمهھ: حرت عائڑ سے ردایت ےکہرسول خدائ نے ارشادفرلا کے پل عبادرتکردادراپے بھائ یک یی مین کرو

تنشرییح: ہیی ک طول حد یٹ کااہھ حرے۔ بعد یٹ نے موم ٹس پائل دانع ےی 0 م7 لو ای بندو ال کے آ گےبجدہ ریز ہواوراپے جب عحبودی تکواس پر شا رکرنے ٹل در نہکرے۔ ہارے لے شرددکی ہےکہ تصرف مرک ہا لک اطاعت اورڈرماں برداگی سے پھمگ ری شدک بی برا کے ساد ساتج ہم اس کے پہستاریھی ہیں۔ خداکے بعدہم پا کے سو لاخ جتا ہے۔کیکن ال کا یق نیس ہوت کہم اس ک ےآ گے جب وگمزارن ےک جانہیں اود ا سکی سرن ہااچغعلکاکہوتل ملاظ وت ایانم پر 0,0004 ۔ جب دالدی کک یرم ہم پرواجب ہو رسو لکیاتلیم وگریم ہم پرواجج بکیوں نہہوگی ۔خداکےرسول نے جواصانات دٹیاۓے انساخییت پر سے ہیں ہمارے لیے دی جےک ےمم انکیٹ رام ذرکرس اورخی لن اطع پک ریم سکوتیتصورنرہونے دیں۔

کلاےنبوت جلد پنجہ ےے

دیحوت الی النرکین )١(‏ عَنْ جابر بن عَبل ال ال: کان رَسُوْلُ الله تہ يَهرِض تَفْسَة عَلی الس بالمَوقَفِ فَقَال: الا رَجُلُ يحمليیٔ ال وہ قَإِنٌ فرشا قد مَنعوْنِیانْ لغ کلام رَبّى. (الیراؤر) ق دقن عضرت پان پا سے زوایت ےک رسولل الخ اے آ پکوموقف (عرفات )یش لوگکوں کے سا تن یی ۷رر سے جے پافرماتے تےکک کے جو یھ نے لے اہ قو م کے پائ کیو ں کیج ریش نے مجھے می رے رب کےکظا مکول(لوکو ںکک ) بچیانے سے روک دیاڑے۔ تشریح: بعد بث تال ےکہ ذحوت اسسلاٹ یکا ای ک۶وان بحوت الی الق رآ نکی ہے۔ مجن لو ںکوکلا سم ر بکی طرف بلانا۔ ا لق ری چو ں کب رآ نک مخالشتکرر ہے تے۔طرں طر ےہک میں ملوث ہونے کی وجرے دوش رآن کے پا مو سن کو تار تے۔ سی ماپ َو کہاگ رق ریش خداکےکلام فیس سن جات نے دوس رے با لکوخد اک تنا بت رآ نک طرف دگوت دی جاۓ شا وی قی کو شی حاصل ہوجاۓ اورد وق کرو لمکر نے اوردود بی تق نکی اشاعت کاذرایجحی بن کے_

اس حدبیث سےمعلوم ہوتا ےک نمی ع ال کو امن ےکس ف رلک و تھا۔ جرآن اور وٹ رپوا سکینگررتاھ یکیس طر خدا کا ام زیاد سے زیادولوگوں کک سے اورلوگو ںکورا ون بر می ےکا شرف حاصل ہو سے _

ذََت الا )١(‏ ع ای مَمُزُِ ات قال: قال رَسُولْ اللہ : مَیْ دلّ علٰی

حر قَلَه مئْل اَجْرِ فاعله ے:۔ ترجمھ (حضرت اوس و افص سے ایت ہک رسول ال نے ارشافر 2

۸ے کلام نبوت جلد پنجے چعلائ کی راد بتاۓ اسے اتنای اجروڈ اب لگا جتنا اس چھلا کی او رخ رکوی لا اخقیارکرنے وا ن کو ےکا“ تشریح: ىا ایک لویل حدیث کا اہم حصہ ہے۔ال سے جیراوربھلاٹی کی ایت ہخ ‏ دانج ہوی ہے۔ خر یا پھلال کی طرف دنمائ یکرنے والو ںکوخ شخب ری دینے ہہت ۓکہا جار ا ےکہ چھلائی کے رات پر کے وا نے اورچھلاک یکواخ اکر نے وا نے ےکوجواجر وو اب حاصل ہوگا دو اجرو اب ان کویھی حل ہوا سے ےت :ما بعلائ یکا رف رہ ڈماکی یپوی ن7 اس کے بھماگی اخقیارک رن ےا اص سبب پھلا کی کی طرف ال سکیا روما یکر نے والای ے۔ یہاں می بات ی رر ہ ےک تیر اورسارکی بھلا تین ٥ق‏ رنصقی ہیں۔ جو لئ کا کا جج یآ پ انام دیں کے اس ےج نکوطافقت اورقوات ےگ ٹیک ای رب جو بردے کا ھی ےجا میں ے وواٹی فطرت کےلیاط ےت کی خلت کے سوا اور ھکیس ہو ھت ۔ رآن ج صاف ارشاد ہوا ے: کاو لوا عَلَىٰ الب وَالتّقُویٰ ره شاو نوا لی لثم وَالْعُدُوَان (التر::۶)' تی اورنتو يیٰ یسام ایک دوسرے کے سا تج ناو نکروہ اہن گناہ فی )اورزیادتی ےکا یش ایک دوسرے سےتماون دگرا۔“

وکوت ال النشا ا

() عَنْ نس بُنٍ مَاللک قال: قال لی پا ش: لا یَجد أَحَدٌ خَلاوَّة الإیْمان نی یُجبٔ المَرةلأيُحّة ال لہ و حَتی ان بُهّدَفَ فی الَارِاَحَبُالَیهِمِنْ أنْ جع لی الکفر بَغذ وذ اَقََۂ اللهہ و حَتی یَگُونَ الله وَ رَسُوْله اَحَبٌ ال

32 ھ2

مما سواھما. (بقاری) نر جم4: حعخرت ال ئن مال سے ردایت ےک نی مگ نے قربایا: نکوئ ینس اما نکی لڑے ےو٘وص لات یی خرن رت اق کرجا از ج بک کآگ می ڈالا جانا ا سے اس سے زیادہ ہن نہ ہوک و ہکفرکی طرف وائیل ہوج گار این سے اسےمحجات دلا لی ے۔اور ج کک الد اورال یکا رسول اسے دوسری خمام چچزوں سے بے ھک رکروب تہ ہوں"

کل منبوت جلد پنجے 9۹ے تشریح: ال حر یث سے معلوم ہ اک اسلام جس چزرکی طرف لوگو ںکوشحوت ٠‏ با سے وہکوئی نک نے ہرکڑنئیں سے یقت یر ےکہدنیایلذ یذ سے لغ یذ ادرشی ری سے شی ری ترحے بھی ایما نکی علاو تکامقا ہنی سک تی ایما نکی سرشماری اوراس سے حاصل نشاط وسرورکی کیفی تکوالفاظطا یل بیا نکیا سکیا جاسکتا۔ اس نشاط اورلزت بن یکیفی تکا اندازہ ال ےکیا اکنا کیم نآ گ می جیا پنرکرکما لین دو اپ ائمان سے دست پردائٹیش ہوکتا۔ ۱ خدااورائس کے رسول برا سکا اما ننس اعتادو لقن ک ےی نیس بہوتابہبابمانمحبت اور آروللغورت ال رفخہرے وا ے۔ اور پہبت ال در جشد یداو دگری ہل لی سکی تشم دا یکوئی چس ہی (۷) و عَنْ ابی أُمَامَة او رَجُلاسَاَلَ رَسُوْل الله عَلكّه مَا اليْمَا؟ فَالَ:إِذَا نک خُسَنٹک و سَاۃ تک سَیّئک فَأنكَ مُوْمِن. قال: ال الله قُمَا اَلاثُم؟ قَال: اذا اک فی نفک سی فَدغةُ. (۱) ترجم4: ضطرت الو أ ام ےروایہت ھبھ,ت2 نے رسول الگ سے ٹپ بچاکہائیمان کیا ہے؟ آب نے فرمایا: ”جب مگ یکر کے میں خی ہواور بد یکر کےتم برا سو ںکر وت تم من ہو اس نے در یاف تکیاکہ یا رسول الہ ہگنا ہکیاہے؟ آپا نے ارشادذرمایا: ”نج بکوئی چیزنھھارے ول می ںسکھلک اورتر نڈد پیدر اکر ے29( ول کرد ہگناد سے ) ا کچھوڑ دو“ تنشریح: یشنی نک یکر کےکھیں طانییت اورمسرت حاصل ہو تھی احساس وشعو کی ابنی دنا فرماں وشارا ں ظ٦‏ ے۔اوراگرکوئی انح لم سےسرزدہوجاۓ جوگنا واورسحصی تکانتل وت رسی‌جزورا گل کی قباح تکوخم فو رآ مس ںکرلون جا کہ اما تھا رے ول میل موجود ہے ۔تقیقت مہ ہہ ےکہایما نکیا بردوا تآدٹی می اود بدگی کے درمیان اتبازک رکا ے_ خداکا چو توف ایک من کے دل میں رونا سے وہ وی فی می سیل ازس کا

جج موک نکی پاکی دفطرت خودایک ای ےآ ینہ کے ما من سے یج ےگا دواورمحصی تکا کا سا دعب ہگھ یگوارانیل ہ وکا ۔ بی وجہ ےکہ بر تقاضاۓ بشر حیت یع سے اگ کول گناہ سرزدہوجاتا سے نے فورأاس کے ول می س مکش پیداہوکی ےاوردہ تر ڈد یں جتلا ہوچاتا ے۔

:0 "کلا ےنبوت جلد پنجے_ زکءز یی ےملک زگ نوطی بک ےک بلک لغبتلع دا بھی بھانپ لیا ے۔ کت ال الہریی )١(‏ عن اَبیٔ مُرَيْرَّة ا رَسُوْلَ الله قَال: مَنْ دَغا لی هُدیٗ کَانَ لَه من لاجر مغ أجُوْر مَنْ تبَعَه فص ذڈلک مِن أُجُورِهِمْ شَبْغَا وَمَنْ دع إلی ضْلاَلٍَ گان عَليْه َِ الام ىْل ام مَنْتََعَه افص ڈلک مِنْ 'لَايهمْ شَيْنَا. ے

ترجم4: رت الہ ہرى٤ٗ‏ ے روایت ےک رسول ار پا نے فرمایا: ‏ مض نخس نے راوراس تکی طرف دگوت دکی اسے ان گی لوگوں کے پرابراج ےگا جنخھوں نے ال کی دکوت پر راؤ اس اف لیارگی ہدگی پیٹ را ک ےک ان کے اہقروں مرکو ھی ہو اورش رٹنس نگ رای کی طرف دذوت دک اس پرا نچھی لوگوں کے پرا گناہ ہوگاجنھوں نے ال سکی پیرو کیا دگی بخیر نی کان کے گناہوں ش کو یک یہر“ تشریح:اسام کی جکوت رد رفحیقت بی مشنی راو راس تک طرف دکوت ہے۔اس و تک الف جو دو تھی ہوگی دولاز راو رات سےپٹی ہوئی ویج سکی پروی یکا جا بھی مر نیس ہوسا ۔آ دی با ہداءی تک پچرو یکا سے با پچھردہ جہواو ہہ یکا روہ یکر رہ چاتا ے۔ ہریت یارادراست وتی ےج سکی طرف نی مه نے خداکےعم سے ر؛ہمائیفرماکی ہے۔

ال عدیت میں داعمیان جن کے لیے اس با تکیا خوش لخب رکا دک جارجی ےکا نکی وت پر جج لو بھی راہ راست اخقا رک رس گے ان سب کے اج کے برا خدا یں اج رعظا فرما ۓگا۔ اورا کی وج ے ا نکیا دگات پر لبیک کین والوں کے اج وٹ اب میں یاض مک یی بھی نی کی جات ۓگی۔اس کے برخلاف ضلالت اورکم راہ کی طرف بلانے والو ںکااضچام ‏ ہوگا کان سب کےگن ہوں کے برا ب رگناد ان کے سے می سک ت گا جخھوں نے ال نکی دعوت پر گکم رای ایارک وی اس لیےکران کےکم رای می پڑن ےکا ال سبب ود یاگم رای اکیطرف وگحوت دئۓ وانے ہی رے ہیںسگم رای اخقیارکرنے والوں کے گاہوں می سی مک کی

غ کی جال ےگ یکیو ںکراھوں نے دا کی دی ہہوئ یعقل او رہہ سےکامکیش لیا_ اور ہرایت کے متقا ہمہ یش اپنے لے فلالت او رکم راد یکو بین دکیا۔ وق ای او )١(‏ عَیْ ابی مُوملیٌ قال ال َن: مََلُ الَدِی یَدکْررَبه وَالَدیْ لاَيَذ گر مَقلَ الْحيْ وَالمَیّتِ. (ہفاری) ترجم4:ظرت ا٣ی‏ سے رداعت ہے ےکی پ نے ارشا وڈ مایا جیٹس ای رب کویاد کرتاے اور جھ بای کرت ا نکی مال زند ہاو رمرد وک یىی ے_“ تشریع ؤ- ول نے اھر اروگ ھ گیا لطر ف ےوائلےدہشل رد کے ہے۔ حداکی یاددی اصل زمدگی ہے جس کی طرف اسلام نے لوگو ںکوذکوت دگی ہے۔ جچھ تنس جع طور رف داکوجاضنااورال سےا گا و سے شدال لک زندگیکاشعورین جانا ہے۔اورشداکی ادا کی زندگیکااصمل س باہیقراد پا نا ہے۔ دہ اپنے ر بلویھ یع یداو رن لکیاشکل میں یاد کرت ہا ودای وکا کی بے پایاں رتوں اورنوازشو ںکود ےکر دا اشک ریز ارہوتا اورا سک یاد می کو ہو جا تا ے_۔

اسلام کے سسارے بی اکا مکی روح اورا نکا شا دا کا ذکراور ال ںکی یاد کے سوا اور ھٹیس ہے جس سام ل کا مرک اپنے ربکا خیالی اورال کی رضا ھی نہ دیق تکی ڈگاہ یش اس لکیکوئی قرو قم تھی ہدکتح۔ ہزمحاولہ یں ششاتۓ ربکا پاش دلفاظرنا نشی کر ے۔ خحداکی صفات اوراس کےکاما ت خودا پے ہیں جوا کا تقاض ار تے ہی ںک ہآ دی داکواپی تو کا عرکز قراردے نے۔داکویادکر نے کے جو اسالیب ہیں آھھیں سے اسلائی زندگ یتیل پا ہے۔ چنال چترآن میں ہے اقم الصلوۃ لِِیٰ۔( میری یاد کے ل یما زقائ مکرو) ایک فرمایا: و ذکر اسم رہ فصَلی(اودا نے اپنے ربکا نام یادکیائیک نماز بھی )۔معلوم ہو اک نماز اصصل یں تقاضاۓ ذکر اعم رب ے۔ روزے کے سلسلہ میں ارشاد ہوا ہے َِتبرُوْا لی تا ہدام (اور جھ برای تتحھیں دی ےئ کے مطا لق الل دی بڑائی کا اعتراف واظہارکرو)ںع ک تفر مایا :

ایت حر کو پور یج 1یا ا ہر ار ود ادف سش اد قر) جوکو چک جڑ ] طس نز حصر جاو کچ آاکد و خرجر 8۴ا ۳4۳ 3 جو ہی یکچ رات ون :جو کر ار ہہ ر)

ا اع ا یا جو

1۴۸ مم پل ا مر >د-ت ”ي مرج واق کو سیت وع تی مم م6۴۶ خر ا تی و پرجیجایراجاتاہ ونس فیا جح 0 میلو ا7 سر رہ او 007 و ینوخ ند 77ہ ۲یو وہ 0 ہرم ۶۵۶۶ء ہم و ےمم م٣۳‏ مر )ہمہ مو یمر مر ہو وک کک“ ند 0 ۷ ۱ 600ف ام مم ضب" خی نام مرا م7 بر

--+ 1‏ ر۱۸ ری 7 ۶۱2 ما لے ال مہ رضستس-س- ئل

رم یچ چم اکر ات ہی 7 رر( کلان) رھ

او اک لوت سا راع اس نے ابیز ہس تاد

و او ا و خاقای یں اعد مک ا ری

نک ے مودکویضی ا اک ا

دی ۔۔ متسقف دج ۸۷

'کلا ےنبوت جلد پنجے ۸۳

ترجم4: نضرت الو ٣ی‏ ےروایت ےئنس نی گنک پا ںآ یااددااسں ن ےکہاکہ ا رسول ایدہ الیل دکی راہ شی لڑن ےک یکیا صورت ہے اس ل ےک ہم بیس ےکوکی غحضب اورقصہ کےسبب سےلڑتا ہے او کی می تکی وجہ سے لت ہے؟ آپ نے اپناس را کی طرف ؛ُٹھیا اور نے مرکعف اس وج ےاُھایا کو کٹا ہ وھ بر براقا مایا جیٹس اس ہے مسىو سم

تشریح: لک ڑائی اور جنگ کے ؟ پچ فضب داککاریاا پت اقم وم کک بے با عمای تکا ج بکارفرما ہوتا ہے۔ائی ج رگن ےگ۷رد٭ میراان جنگ مل ات تا ہے۔ بعد یٹ ای ےکہاسلا می سار یسعی دجہدکا خوادد ویش صورت می ہو بیہا لک کک اگ جن کچھ کی جاردی ہو ال سکا مقصرجھی صرف مہہ وک ادف رکاکگمہ بلندہو۔ دا کا بول بالا ہو۔ ا سک لمت قائم ہواور زندگی کے رش ین ابی کےےف مان او دای ہدایا تکائیل ہو۔ زین رای کی سطوت تنم ہو اورولوں ٹیس ا یک یحظمت ‏ بت چا یس ہف ا دی سے کین سا ےی قسوریھ یہی ںکر کت ۔ زکوت الی اخ )١(‏ عَنْ غُبَادَة بن الضَّایِتٍ قَال: سَممُث رَسُول اللہ تل يَقُوْلَ مَنْ هَهد انل اِلٰه اِلّ الله وَاَؤَ مُحَمَذا رَسُوْلُ الله حَرَم الله عَليه اشار ۰ ر٣(‏ ترجمة: خر تعبادہ بن صامٹ کے می سکہمیس نے رسول ارد پیش ھکوم یف ماتے جو ئے سنا: تی کس نے کی اوت دی یکا ماکز دیس اور کی لال کروی شین:اضرنے اس پردوز یآ گکومامکردیاے۔“ تشریح: آدی خدا ےنب اوردوز غ کی نگ سےمجات پانےءز ندگ کی سب سے بڑئی کام با لی بھی ے۔انمان کی ال نات بی ہے لوں نو دنا مل نبا ت(1۷01100) کظرں طرع کےلضصورات با جاے ہیں ئیگن صاف اور واضح تصورنجا تکا بی ےک ہآدیی خداکی گرفت سے پل جاے اور خداا ےنم کے عذاب سے بچانے۔اوراسے اپٹی جنت میں داشل فرمادے جہا ں کی نت ا فراواںکا رج ہپ نکی یک ںک رسک

01٦ ۰١

خ رن نے ایک عرد موی نکا ور کیاے جوخبایت مو او رن یآموز سے مرد من نے انی وم ےکہاتھا: وَیِقَوْم مَالیادْعُوحُمُ إِلَی النَْاۃ و مَدُعُوْنيَ لی التَارى تدغوفَیْ لكفر باللّہ و اش یہ مَالَِس لی ہہ عِلمْ و آتااَنْغْكُمْ لی ار لف (الۂن:۳۴) ”ناے می ری قوم کے لوگو ےا کیا معاملہ ےہ میں نو یں شجا کی رف بلات ہوں اورتم یج ےآ کک طرف بلاتے ہوم بے جلاتے کہ می اید کے سات ھکر کمروں اور اس کے سا اسے نش ری ککمروں جن س کا بج ےکوی مل نیس جج بکہ میس میں ا سکی مرف دگواتد بت ہوں جوز بردست کت والا ے_“

معلوم ہو اک حا کا ذر اہ می ےک ہآ دی خداۓ واحد پر ایماان لاۓ جھ ز بردست الب اور خطا و ںکومعا فکرنے والا اور اپے دائکن رجحت سے ڈ ھک لت دالا ہے۔ اس کے متا بے میس خدا کے سراتی ھکذ رکا روم اخقیا رک رنا اور اس کے ساتھ جال تک بنا یہ دوسرو ںکواس کےمتفو تی وا خقیارات میں ش ری کیھب رانا سرا لم اورسرٹی ہے۔ ‏ یکا انام نا رینم کےسوااورکیا وکا ے۔

دکیت ا ی اع

(1) عَن ابن عَبَسْ نَاسٌّا مَنْ ال الیرُکِ کَانوْا قڈ قَتَلوٰا و اکٹرُوا زَنوْا فاتوا محمدا لے یئک فَقَالُوْا ِنٌ الَذِیْ تَقُولَ وَ تَدغرا اه لَحَسَنْ لو تَحْرنا ان لَمَا غَملنا کَفَارَةً نز وَالْذِیْنَ لا يدعُوْمَ مع الله اِلھّا 'احَرَ وَلا يَقَعْلْنَ لْقّس الیی عَوٌمَ الله ال بالْعَق وَلا یَرنُوْنَ و تَرَلَ قُل یا عِبَایَ الَذِیْنَ َسْرَقُوْا لی اَْفُِهِغم لَأنتَقتطُوْا مِن رُخْمَة الله وَمَا قَدَرُوا الله عَقٌ قذرہ (اری) ت رج ص4 : ضرت اہین عبا ا روای تکمزتے ہی ںکیمش رین میس جھلوکوں ن ےکشزت ےک کیا تھا اور کشر تنا فلس ہے تے۔ وولویک نحضرت مرن پل کے پاس حاض رہوے او رکہا کیپ جو وف بات ہیں اور سکیطرف وت د پت یں بہت جیا اچھا ہے ۔اگ رآ پ ایل

کلا ےنبوت جلد پنجے ۵ہ

چیک کیا ےوہ معاف بہوچات ۓگا (اگ رمآ پکیی دو تکوقبو لک ) فو اس پر میمت اتر کی اور جولوک ارد کے ساتح کی دوسرے“مبوداوڑیس ار تے اور کی جا نکو بے ال نے ترا مکیاہے نات لک تے ہیں اور نز نا آآر ٤٣پ‏ وررآیتازی”بدداریہرے بنروجنھوں نے اپ ےآ پ پرذیادگی کیا ہے الش کی رممت سے ہاو نہہوں ”اوراکھوں نے اد زی بای جس یکا کی رپا فی جا ےگ تنشریح: برعد یٹ بای ج ےک خداکی رت بے پایاں ے۔ ا لک رتقوں ےکی عالت بھی مای می ہونا جا ہے ۔اس حدیث می ق رآ نکی جو یت ئل ہہوئی ہیں دہ اس با تکا بن شموت ہی ںکہ اود تالی کے بیہال شر کک بیس ہے۔ دوسر ےگزاہو ںکوالڈر معاف رکا ہے۔ بیوں اگ رکوئ یی نشرک ے تاب ہوک رذ حید کے دالن میں پناہ نے لے خدااس کے تر ککوھی محا فکرسکتا ےکی ناگمر اہ سکیا موت شرک پرہولی اچ رخداکے بیہاں ال کی تر

ےنال ےکہاسلا مکی رکوت و رتقیقت دکوت ا ی الع ے۔ خداگی رمتوں ےت زا و متا کی رت کن کا ناش فک کی شر 0 و ا محلم اورزیادثی گی رڈ سے دورد وک زندگی کر کی گے اور ابے ےکنا ہولں کے لیے خد ای جناب شی اقفطارکر تے ر ہیں گے۔

وکیت ال الرخر

)١(‏ عي مُعَاِيةقال رَسُزل اللہ رٹ َّ: مَنْ بد الله به خَيْرَا یه فی الین وَاِنَمَا انا قسِمٌ الا بط (ہناری+م) 8 جم4:حضرت معاد نے ردایت ےکر رسول مخداسپٹگ نے فر ای ”ایل رض نی کے اھ ھا اتا ےا کو بن جدخعطا فرمادیتا ہے اوری نشی مکر نے ولا ہو حطاکمر نے والا اش ے“

تشریح: تشریح:اسامکا و - 002 ضر ام رق اوران تقلیدکواسلام نے اپنے بیہا لکوٹی یش دا ہے۔ بعد یٹ

۸٦‏ ”کلا منبوت جلد پنجے تائی ےک دین کے م سے نی رکے درواز ےگھلتے ہیں ۔د ین خودم ایا خر ہے نان ال تیر سے اتاد کے لیےکہم او ربج ےکی ضرورت ہولی ہے۔بچھ ےکا نہ لی ےکی وج سے ہ معن ی بی چھلا ہیں ےجرد م رہ جاتے ہیں ٹم کے خی راہ راس تکو پان اوراس پر چلنا مک ن یں ہوتا۔ ہرامت اب ہونے کے لعل وٹوم اورکک رک یگبرائی اگز ہ ہے۔ رش دکجتے ہی ہیں اس راست رو یکو جوفک رج اون لیم کےاستعال کے تج میں1 دی کے سے می کی سے۔

ی نشلگ فرماتے ہی ںکراص٥ل‏ عطاکرنے ول فیا کو خداکی ذات ہے یل تو ا سکام پہ ما مورہو ںکہاا سک طرف سے جو ھلا میا ہیں ا نکولوگوں کے درمی نیج مکردوں۔

دحوتا ی دارالسلام

)١(‏ عَنْ عَابِشَةً عَنْ رُسُولِ اللہ من قَالَ الب ا مَنْ لأّ دَارَ لَهُ وَمَال مَنْ مَال ل وَلَهَا یَجُمَع مَنْ لا عَقل لە. (اجد تی فی شحب الا یمان ) ترجمه: صفرت عائکٹیڑ سے رواایت ‏ ےک رسول ال ہلگ نے فر ماا:”د نال سالگ ےج کا (آخرت میس )کو یگھ نیس او راس کا مال ہے ننس کے لیے (آخرت میس کوٹ مال یس اور ےش کرنے میں وی لگار تا ج نل سے ما ری ے_“

تشریح: بیع یٹ دنا کی بے وج یکخجرد تق ہے۔اود اتی ےکآ دی یکودنیا می ا رآخرت کی رف سے بھی خافلیئیس ہنا چا ہے۔دنیاادردنا کاس بابراپ ےآپ میس ہرگزقصو یں ہے۔الہرتدان کے ذر یی سآ دئی اپ یآخر تکیاقی رک رتا ہے دتیاج یکواص لقصو رق ر ارد یناور اس پررائشی ہو جانا سب سے ڑکاک رای ہے قرآن مٹ ہے ترِیَدُو عَرض الڈنَِا وَالله یڈ الخ (انذال:ے۷) تم لوک اذ دنا کاسروسامان جاتتے ہو ج بک ال رآخرت چابتاے۔'' یی دا کے یی کر اص آخرت سے اورائل د ناد نا کےسروسا مان ب یکواصسل متاح نقو رک تے ہیں معخل میروی سے جو پییشہآ خر تکوزگاہ ہودے ابی جدوجھدجاری رگتا تے .اک آدبی کے یی نظ رآخر تکی دنا ہوذ دہج بھی ظطالمانہردش اختیاننی لکرسکنا۔ دہ نہلوگوں کے و تل فکرسکنا ہے اور تہ خدا کےتقوقی کے اداكکرنے می بھی فلت سےکام ل سنا سے۔

کلا ےنبوت جلد پنجے ۸2 ۱ اگ اوردا ال را رو آخرت یکا اکم یف تہ ھی فراص یی ںکرنا جا ہیے۔ ای لیف رن ںفر ا اگیاے:وَاللّه يدُعُوْآ الی دَارِ السٌُلم وَ يَهُدِیٌ مَنْ يَشَاءُ الی صِرَاط مُسْتَقیْم (ن:۴۵)”'اوراللہ بلاتا ہے دارالسلام (سلائی کےگھ )کی طرف اورج٘ سکوچاہتا سےسید سے رات پر چلاتا ے٤“‏ صرا یئم پر لن کے بعد ہی1 دی اس کا تی ہوتا ےک ہدارالسلام اس کے جھے میں۲ ۓ جس می تکو یکم ہوگااورن یکا یکوخوف لان ہوگا۔

عو اشک ل تبغر

)١(‏ عَن اَییٔ مُوْملیٌ قال: بَعقبیْ رَسُوْلُ الله ََّ و مُعَاذا إِلی امن فَقَال: وا الناس و بَيِرَا وَأتفْرَا وَيَيْرَا وَلاتَعَیْرَا. ۳ ترجمد: رت او و بیا نکرت ہہ ںکہ مھ اورموا کو رسول ادن پگ نے مس نکی طرف بھی اورفر مایا :”لوگ ںکو(اسلا مکی )وت دواور انی خوش نی دوہ اورنفرت نہ ولا ۔آسالی پیداکرو رٹواری پیدادرو_"

تشریح: بخار کی ردایت مل داع( رقبت دل 5) کا لفظتگ یآ یا ہے۔ بعد بیت ال بات کی رشن دیل ہ ےک لوکوں کے لیے اسلائی دقو تکی حیثیت ایک بشارت اورخش نج ر کی ہے۔ یی لوگو ںکواس سے پاخیرکرن کہ دا مک اکا مر بائیاں او رعنایات ہیں جوان کے صے می ںآ سی یجن ان کے یی اد شرط ‏ کرد و داٹس خدا نے قرماں رد ازاوہ مخ پنکرے با نک زندگ یگ ار یں۔ اسلام اصلا لوگو ںکومشکلات سے کا لے اور ا نکی زندگی اوران کے تی لکو سرت :نانے کے لیے یا سے۔اسلا مکیاعلی من وعنا دکییس دو وگو ںکواس چ کی ذکوت دیتا ہے سکی رفبت اورآ رز دا نکی مین فطرت اورج٘س کے لیے ا نکی روح شاب ہے۔

کوٹ اشگل انزار

ہے رو رو اوج ھا ہے یر ھا و لقع و سے ا تہ کرو مب شی وس ا اف () غن ابْن عَبّاس قال: صَعد النبیٰ ءال الصَفا ذَاتَ یَوْم فَقَال: یا صَبَاحَاهُء فَاجْتَمَعَث اِلیْه قُرَیٔش قَالُوا مالک؟ قال: اَرَآَيُمْ لو اَخْبَرْنكُمْ ان الْعَدوٌ

۸۸ ہر ہت جفیجین بَیْن دی عَذّاب کَدَنٌة, (ماری) ترجچ م4 : ححضرت این ع با ےردامت ے کہایک روز سی ما ود صا یڑ ھاورآوازدگی لاصیا ھا ائل قرفیش یع ہگن ۔ اورپ سے پوچھاککیابات ہے؟ با نے فرمابا:” اگریں میں دو ںکہوش نتم یمن یاشا موم لرکرنے والا ےق ذکیاتم جھے اکھد گے؟ لوگوں ن ےکہا ککیوںکڑیں بے شک( مآ پکوچا مجھیں گے )۔آ پپانے فرمایا: نیش اس عذاب کے نے سے پل مسمیں اس سے ڈرا تا ہوں جونہایت شد ید ہوگا۔'“

تشریح:ع بوں میش بیط یق داد ا ےکی خطرے سے لوگو ںکو گا ءکرنے کے لیے یا صباحا ہکہیہکر پکارارتے تے۔ پل خر ےک یی کے اظہہار کے لے بر ہنچھی ہوجاتے تے۔ ینیج ‌عم کے عذراب سے نج ردارکر نے کے لیے پیر یقہاختیا رف ما اک ہکوہ صفا یر چک رلوگو ںکو از .ام رپڈری جڈرالای یق رووا ےآپنے ایا کا اگ ج بت ہو گے او رآ پا سے ددیاف تکیاکہآپ نے یس لص ود فظرنۓ بن ےآ کا وک رر ےکی نشیس ےآ وازدگی ےل نے ےآ جج صا دق اوج ہے کی ندب جا ہی جب لڑکوں نے ال کااقرارکیاکہرد ہآ گا درصادق جگتت ہیں ۔آپ جویھیٹمردیی گے دوا لکیککذ یب یں گرجیلین ف پآرک نے ایآ تا ایآ پ لگن جج خر اودا نٹ ارتا مت ول دہخداکاعزاب ہے۔اورآپ ا عذاب کےآنے سے پیل اس سےآئعیں پا رک نا جات ہیں کہد ہل عذاب سے :یچ کی برک یں ۔اورال عراب سے ںی کین یراس کے سوااو یھ تی سکرو ہآ پکی رسالت پہ ہچ دل سے ایمان لائٗیں ہشرک اور بت پیقی اود جا ہیت کے تام مش رکا نہ سو کور کک کے دا خا لص بنری اورائ کی اطاعحعت اختیا رک رمیں۔

نیل وم

)١(‏ عَنْ ابی مُرَيْرة قم الطقیْل بن عَمرِو ععلی رَسُولِ الله قَقَالَ: یا

”کلا ےنبوت جلد ہنجے ۸4 شون الله ان دَوْسَا قد عضت و بت 23 الله عَلَيْهَ فَظْن الناس ان یَدُغُو عَلَيْهِمْ فَقَال: اللَهْمَ اهْدِ دوسا وَأَ بھم. ر( کارگ)

ترجم4: حضرت ال ہ رر سے ردایت ےک رحضرت گل نگمربڈرسول الف حاپگھ یورمست ش7 ۓ او رجف سک یاکہراے ایند کے رسول ء(قیل “)دوس نے ناف ما ی کی ہے اور( ج ننکوقبول کر نے سے ا کا رکیا۔آ پان لوگوں کےتن بیس بددعاکم میں ۔لوگوں نے خیا لکیاککہآ پان کے من میں بد دم اکر می نے فر مایا اے الد و یکو ہرابہت عطا اکراورتجیں ےا لاد تشریح: : اس حدیث سے بتو پل انداز ٥کیا‏ جا سکتا ےک دائی جن کے چذ ہا مت گیا ہے ہیں- وکس درع مل ماع ہوتا ے۔ دوقو مکی ہدای تکا آ ارژ ومیر ہوت ہے۔تو مکی برای تک طرف ہے ول ا ین ون می کک کول ۷د اوران کے ساتھیوں لئے ود اتکی ۱ شی قد روں کےلوکوں نے ناف مالی کی رش اتارک بی اورآ کی ردگی ےوہ اکا رگر نے ینآ پان کےا کی مایا ےنوپ مجن ادا کے بی جا ے اپ نے الال سے قیل“ دی ںکی ہرایت کے لیے دعا فرمائی۔اور خوایئٹ ظاہرف ماک یکدہ کنیٹ اوریق کی اشماعع تک سرگرمیوں میں ے اکے سو لکاساتحددیںی۔

باری و سل مکی ردابیت ےک اب طا کی کی اذ یت دسا لی کے باو چو دا نے می دعا فربائ: الوم غر ِقَوبیٰ الم لا مَغلمُون۔''اے اللہ میرک قوم کےلوگو ںکومعاف و 0اس و مر وس ٤٤‏ 090+ 4+0 9۹9۶9۹ ٔ9“ 8

عج َو عُمرَويْكَر لی کل شَرَف من الارضِ قلاك تَکبِيْرَاتِ ثمَقُوْل: لا

لع لا شیک لە ه الْمُلَکٌ وَلَه الْحَمْد وَهُو لی کل هَْىءٍ یر اون نان عَابدرْن لرَبََا عَابِدُوْنَ صَدق الله ز رَعُدَه و نضَر عَبْدَهو مَدمِ الآخْرَاب وَحْدَه٥.‏ (بغاری) ترجم4: ١رت‏ عبداللری نگرروایی کر ے ہی ںکرسول الپ جب نغزوہ(چھاد)یاب6ًیا

۰ خزؤن ولمس عمرے والں ہو تے و ہربلندز ۲ن بر تین بارگی رککتے پچھرفر مات :اد کے سواکوئی معبو میں ء وواکیاا ےا سںکاکوئی شر ریکنئیں۔ایکا ئک ہے اوداہی کے لیے سار یت یں سپ اوارت پڑت پریی فدرت عاگل سو سے وا ےو ہار دا لے عپاد تر نے وا لےء

ےار بک عدکرنے وانے ہیں ۔ الد نے اپناوعدہ یک دکھایا۔ ال نے اپنے بنلد ےکی مدد فرمائی ادرف جو ںکتھا قرو

تشریح: اس سلملہ میں ق رآ نکی ےدعا ھی یی ررہے :فل الله ىك الْمْلْ ثوّتی قق 7 ریش کلک ینز لناڈ رن نز لا دز نا2

بے الحیہ ِقَكٗ عَلی گل شٰی فی لمران ۲۷)'کبوہ اےاول بادشاہی کے ما نک جے جاہے بادشا یی دے اور جس سے جا سے باذشای جن نے اور سے چا ےکمزت دے اور یج سکو چا سے ذزلی لکردے تیرے ہی پاتھ یں بعلائی ے۔ ون گے ہر پچ پالدرت مالک ےت"

دکوت کاڑات

)١(‏ عنْ انس قال: ال رَسُوْلُ الله تك: يََرُوْا َلَأكیْرزا وَمَػُارَ ولا تتفُرُوا. (ہفاری+سم) ترجمصد: رت ال سے ردایت سےکہرسول خدا مگ نے فرمایا :”سا ی پیداکرو دشواری یس 3ال او کین دو کرت وت

تشریح:العریث ٹیس با ایا ےک ہذمہداروں کے لیے ان امورمی گن باتو ںکالھا ظا رکھنا ضرودکیٰے جوان کے کپبردہوں ۔خواو ان امو رکا لق رمایا کے توق سے ہو یا ا یکا من یگ دبٹیکام سے ہو دگوت ون کی رگرمیوں می لکن بات کا خال رکھناضردری ہے اس سلللے ببحد بیث نمائ طور سے جعارکی د(مائ یہی ہے۔د ین ے آسانی پیدارنے کے لیے اتا سے وی نکٹشئل بن کی لکنا درتقیقت درین سے لوگو لکو ہے ارکر نے کے مراف ہے۔ دکو کو جو شش اتی ہے دہ ا سکیافطری پا زکی ہے د یی نکیا دگدت د نی ےن اسےآساانء فطربی :خوتی اورمس رز ت : کر لک رن جا ہے ججی اک دالوا بھی ۔ جولوک دی نکونشکل ہا

بی

ری یکرت من انت یٹ دی نکی داز شن وش سک یکرت یآ او ڈی سن اگ اا سم کیں ہوتا۔

(۴) و عَنِ این ابی بُرذَةَ قَال: بَعَتٗ اللَبيٗ جَذٌه آبا مُوُملی وَ مُعَاذًا إِلَی الیم قَقَال: ”یر وَلانْعَیْرَاء و بَشْرَا وَلا نتَفْرا و تَطَاوَغَا وَلأَتَحَُلِفا. (وری:) ترجم4: نضرت امن ا ر٥٥‏ اککتے ہی ںک ہی نیپنگ نے ان کے داداا وو اور حا کو نبھیا اورغرمایا:” آسا نی پیر اکرناءدشوارکی میں نہ ڈالزا خوش ل رید ینا منفرت ولا نا اوردونوں مت شف رزاظر قر را“

١‏ تنشریح:ذم دارخواوا نکأصکق امورمللت ے ہو یا یچھی دن یکام پردودمامورہوں۔ان مٹش انفماقی واتمادضردری ےدوت وین کےساسملر یس ھی ضروری ے ےک دیحوت مقر رکوت اور دگوت ےے اصول و1 واب کےسلسلہ میں دا عیا ن جن کے درمیان انفاقی داتماد پایا چاتا ہو جو و ا نکوہا ہم جوڑتی میں ا نکوذظراندازکرنا اورسموی ےکی اختلا فکوہشرمندری سے پھاڑ اک رکٹ اکم نادی نکی دگو تکوقتصسان بانے کے سوااور ینیل ہے۔ جولوگ عحبت کے ب جائۓے رت اور بات اوراتماد کے بہجاۓ اختلاف اورتفرتے سے ول پآچھی رکھتے ہیں و تقیقت مس دی نک یکو شیقی خدمت اضجا میں دے کت ۔

(۳) ز عن ان عَبْاسْ ا رَسُوُل الله تل بک مُعَاذًإلی الَيْمَيٍ فَقَال: :اٹک تاتی قُوْمَا مل الْکتاب ب فَاذْعُهُم لی شهَادَةِ ان لا إلْٰهَ اِلٗ الو ای شر الله فان اَْاغُزک لِنَالِکَ فَعْلمْهُمْ الله اشَرَض عَلَيهمْ عَمْسَ صلَوَابٍ فیٰ کل وم ریو فان هُمْ اَاغوک لِذَاِک فَعْلَعهُمْ ا الله فَرَض عَلَيْهِمْ صَتَقَةً فِیْ اموَالِهِمْ نوْحَذُ مِنْ اَغَِآيِهِمْ و تْرَڈ لی فُقَرَاءِ هِمْ فَإِن اطاغغؤوک لڈلک فَاک ورام اَمُوَالِهمْ وَانَقي دَغوٰة المطُلوْمفَنهَا لیس بََْھَا وَبَیْنَ الله حجّابْ. (الوراؤں) ترجم4: رت ابن ع با سے روابیت ےک رسول اللہ حپلگھ نے حضرت موا ڈوم نکی طر فبھیچا نو فر ماا: ”تم یک ا لکتابتو مکی طرف جارے ہو تم انیل اس با تکاشہادت

۹۰۲ گج لیہس کی ذقوت فیا کہ اللہ کے داکوئی مستبو وی اور ںکہرشیس اکا رسولی ہو اگ رو ھارگیا بے پاٹ انل تق بچھرا نکو تا کہ ہردن رات ٹل اید نے الن پہ پا ماز ری فرش کی ہیں ۔اگرو مار بی بات مال نأیل . پھرا نکو چنا راید نے الع کے اموال یس ان پر کو ق رت کی ہے۔جوان کے ای داروں سے کی جات ۓگ اوران کےنف کی طرف لونا دی جات ےکی ۔اگرد وھ ری می بات مان لیت ہیس تو ان کے عودہ مامو کون دنا اورمنلو مکی بددھا سے پچنا کیو کہا کی پکار اور خدا کے درمیا ول دہجیں ہوتا۔'“

تشری یع : تضور لگ نے ححضرت معاڈ سے فر مایا کہ جہاں تم جار ہووہاں ساب ق یں انل کناب سے یی ت ےگا ۔ تن میں پیل سے مہ جان دنا اہ ےکہد ہا تھا رے قاط بکون

01پ9230تئ(ر3

ہیں ے؟ اس سےمعلوم ہو اک جس قوم میس دگوٹی کا مکرنا ہو اا سقوم کے دین و نہب ءال سک نفبیات ءا لک ات یب اور کی تار سے وا تی ت ضردری ہے کہ اپٹی دگو تکوقائلقول بنانے کے لییے سی الا مکان مخاط بقو مکی ری مفسیات اور ا سک ددایا تکا لیاظ رکھا جا گے- تضور ٹیل حضرت محا للع رما یک ایس جم توم یش دوتی کا کر نام دوائ لکتاب ہے۔ ا کاب ہون ےکی وج سے ددوگی ورسالت کے سور ے نا آشناڑیں ہے۔اسے اپنے پیٹمجروں کے ذر لج سے ال دکی عبادت اورتقوقی العباو کے سس ےکی تخل رات پ لبیل بی ہں-غدا رسول کے نمابنرےۓےحضرت معائکو سے جس دی نکی طرف دکوت د یھی وہ اپنی اصل کےلھاظ سےا دع کلف رکز نیقھاجش دی نکی ذکوت شدا کےنمہوں نے ا ا نیو مو ںکود یی۔

ذکوت وین کےسلسلے بیس ایک دوس کی ام بات جواس حد یت جم بیان ہولی سرت ےکہوقوتی کا موں میسن رم کالیا ظا رکھناضردرکی ہے۔ بی بات حکمتہ دکوت کے غلاف ہوگی رع خخاطب کے مات دن ککشمتلی مطا لات شی لکن ےک چا ین عالا کم ابی طف شی سکوقق تحید بر یقن حاصل سے اور ای رو وت کے سو لکی رضالت رین عاصل یریت ۱ ۱

بعد مث بای ےکس د کن کے سا تھ کی حاپیش کو دنا ٹیس مبحو ٹک یاگیا ے اور ننس دی نک ینغ واشاعت دنیائیش مطلوب ہے و دروم می لکوئی دی نیس ہے۔ بلکردہانسان

”لح رنبوت جلق پتجرى ۹۳

1 ری 27 ہے۔ ا کا انسا نکی ری فی وشن ےگ مت ا ہے۔دہ خدا تی کے سائج ھکیس بللہابنائۓے وع کے سا تج بھی ہھارے تاقا تکو درست رکتا ہے۔دہبتا تا ےکہ دا ک تقو قی کے ساتوسا تحداس کے بنعروں کےتق تکاس درجہ پاش ولاظ رکمنا چا ہے ۔ پچ ردود بن سارک انساحیتکاد بن ہسے۔دوسار ہے بی انسافو لک فلا جو ہہیدد کے لیے نازل ہواے ۔صرف کی خائ تقو م مانحّ اون کے لیے ا سا نزو لئیس ہواہے_

وگوت اورلفیا ت‫

)١(‏ عَن اَی هرَيْرَةقال: قال الَٔی :لو َََییٰ عَشْرَةٌ من اليهُودِلمْ تق غلی طُهُرِمَا يَهُوْدِیٌ ال اَسْلم, ۳۳۳ ترجمل : ضرت الہ بر سے ددایت ےک نی عللگ نے فرماا: اگ دس بکہودکی می ری پر دگی ایارک یں و ز بین پرکوئ یبھی بیبودی مسلران ہوے اغی رشرہ کے“

تشریح: کچ بفارکی شس بھی بیروای تآکی ے۔ بفار کی ردایت کے الفاظ یہ ہیں: وَْامَنَ بی عَشَرَة وِنَ الْهودِ لام بی الیْهو گر دیس بیبودیی بھی بھ پر ایمان نے1 تے و سار ےئ بیبددجگھ پرایمان لے تے۔ 'مطلب می ےک وم بیبود کےاگمر دس رونم عالہسلمان ہوچاخیں فو بچھرسمارے بی بیپودیی مسلمان ہوجائمیں گے۔ ال حدیث می ایک اہم نضیالی عقیقت پر رچشنی ڈا یگئی ہے۔آ دی یکی انفراوئی مات بیننیس ا کی تو ئی یا بھی ہولی ہے یتو مکی اریت تی نضیا تن یکا پیروہواکرنی سے۔قو موی خائس روش پرقائم رکھے کے ذمہدا رتیقت میں قوم کے روما بی ہوتے ہیں ۔ جوتعداد میس زیاد ویش ہو گر پور توم پان یکرت ہوٹی ہے۔ عام لوگ الن یا کے ذ من سے سو چتے اوران بی کےط بی پہ کت ہیں ۔دیوٹی سرک رمیوں میں قو بی اوراہتا گیا تکالاظارکنا جا ہے ۔اگ رہ میک ای تح کوا 5 ذو تکی طرف متوجہکرنے می لکام یاب ہوجات ہیں ننس کے تییہ نے والو ںکی ایک بڑیی داد ےت نے دعوئی کا تیقت ٹن واحد پناس بل ایک بڑ ےگردہپکیا۔

۰۷ ”کل ورت‌ چلدپچج رر و گی کے جذبات وردار )١(‏ عیْ بی هُريْرَة قَالَ: قالَ رَسُوْلُ الله تكّ: می كَمَعَلِ رَجُلِ لِسَْوَقَ َارٌّاء فَلَمَا اَضَاءَ ث مَا حَوْلَهَاجَعَلُ الْفراش و هذِہِ الذُوَابُ الَِيْ تقَمٌ فی الا النارِ و انم تفحَمُوْنَ فِيْھَا. (ہخاری) ت رج م4 : قضرت الا ہ ریا ےروایت ے رو لخدا پیا نے فر :را کی نال ا رن ش 1 ہے سک ن ےآگ عجلاگی۔ادرج بآگ نے اپنے ماحو لکوریش کرد بات یروانے اوروہ برےجھوھ آگ مشش جا پڑت ہیں ال ںآگ میںٹھ نے پڑت ہیں۔ او رآنگ جلانے والا ا نکورو ک ےتا ے گگمر ان خ اٹ رت نی اود (ائن کے رون کے اود نگ می جات ہیں سی (میراجی عال جھموکہ )سی ںآگ سے بچانے کے لے ھار یڑ ہوئے ہوں ۱ رق وک نگ می ںککرے پڑت ہو“ تشریح: سرک ردایت میس پبالفاظاجی لت :تا اد بحُجَكُمْ عَن النَار مَلْ عَن ار مم عھن الارِ یی مو فینَا(یم شس ھی سںآگ سے بانے کے لے ھھاری 2 ہوں۔ سے جار ہا ہوں میرک طر ف11 ءآگ سے بیو ری طرف11ء آگ سے پچو تم ہوکجھ پرحادگی ہد جاتے ہواو رگ می کر ے پڑت ہو )

اس عحدیث سے ال بے تا یکا پت چچلنا ہے جو کے ول میں تو مکو دا کے ع اب سے بچانے کے لےےھی۔آ باورآبپ کے اتھیو ںکوجزکیں پچائی جار تتیں ال رر ْ آ گن انلیخو ںکا نت بآ پکوجھ یز بے ین سی ہو ۓتھی ووقو میگ راہ یج س کا ایام ای اورعذ انم کےسوا چجواوریس ہوسک تھا۔ ایکوش کی مکم رای اے باز آوزۓ اردان حا رات ار انا راب انز ح وو کان ایا سو ہوتاتھ اکرقوم خداکے عذاب مل بتلا ہوک رج ر ےگا ۔آ پک ب ےہ فی اورد یکیفی تکا 9-٦‏ ایل سے بخو لی ہوتاے۔

”کلا منبوت جلد پنجے 9 (۴) و عَنْ اَی مُوسلی قال: قال رَسُولَ الله :انم مل وَمََل مَا بَعَتبی الله ہہ كمََلِ رَجُلِ آئی قوما فقَال یا قوم ابی رت الْجَیْشْ بِعیييَ وَ اَی آنا الَذِیْرُالرْیَانُ فَلسَجَاءَ النَجَاءَ فَاَطَاءَ ٥‏ طائفَةٌمِنْ فو فََذلَجُوْا فَانْطَلَقُوْا عَلی مَهَلْهمْ فَنَجوْا رَ كَذِبَث طَافَةً مِنهُمْ فاصْبَخُوْا مَكَانهُمْ فَصَبْعَهُمْ الْجَیْش َصَانِی وَ كُذّبَ مَا جن بە ین الْعَق._ (ہفاریسلم) ترجم4: حضرت اموک اشع رک سے ردایت ےک رسول الل پگ نےفرماا: می ری اوریٹ چز کےسا دا نے یھ بھی ے ا کی مال ا اخ اکا ہے جو ایک وم کے پا فآ یا او دکہ امہ اے می ری قوم کے لوکو ےر کت رے نو ں کا) ای شک اٹ یآنکھموں سے دیکھا ے اور ں نز میکریاں ہوں تم لوک نا ت کا راست تلائ شکرلو :ما تکاراست لا لکرلو۔ چناں چا کی قوم کے پچھولوکوں نے ال کی بات مان کی اور ای ےگھروں سے راتول را تآہنتہ ےئل یئ اوزنجات پاکی۔اورقوم کے بجھلوگوں نے ا کی بات کیل مالی اور وہ اپ نےگھمروں بیس بی پڑے رہے۔اور رع ہو تے بی ال شک نے ان پر دھادا ہول دیا اورانئیں ہلا کر کے رکددیا۔ اور نے آھیں ای کا این میاعثالی سے ا اشک لک جن نے می ری بات ما نکرج پش ےک رآ ہوں ا کی پپبروگی اغخیارکی اور می مال ہے ا سکی جس نے میبریی ناف مالی کیا اورجھ تن لن ےکم می ںآ یاہوں ا سںکویھٹلا دیا۔" تنشردیح:عرب ٹل بردداع را ےک کوک نٹ اگ راپ قریلہیاقوم پہلہآودہونے سے لے نکود با بر ہنہوگر بلندمقام برکھٹاہوجا تا اور پکارکرقو مکوشن س ےآ گا وکرتا۔ ال کاب انداز اخقیارکرنا ا با تکی علامت ہوئی وف پالکل سیا ےاودرجواطلا ددد ےد پاے ال ک ےک ہونے می سی شک اورش رر یکوئیمفجائ ایی ہے۔

ہرکی دو کی طرف تو دہ ےکا جو ایام ہونے والا ہے ال کا ا ساس اگرلوگوں ۔ کو ہو چا ۓ و زیر ظارے کے شا رکیں ہوکلن ری پور یکول ےہول ےک لوک بیرارہوں اوراپٹی ذمہردار یس و ںک رس کہ بلاککت اورعز اب الی سے و ہف ظا ر ہیں _ یدہ

۹٦‏ ”کل ےنبوت جلد پنجے کارنبوت ہے جھے اپٹی زندگی مم اضجام د ینان کی ال ذمرداک ہہولی ہے۔ااس سے ال کے کردارکی نویت اور ال کی بلندیکاانداز وکیا چاسکتا ہے الوم لوگ صرف ابی بھلاکی کے لیے سو تن ہیں ج بکہ نی سارے بی انساوں کے لیےلکرمند ہوتا ہے اسلام کے ہردائ یکجھی اپنے ہا می اقیاز پید مرن کی کش لک کی جا ہیے۔

(۳) و عَنْ قَبِیْصَة بن مُحَارِق قال: قَال رَسُرلَ الله تَ : یا بی عَبِ ماف بر لّكُمنَّا تی و متلّكُمْ كمعَلِ رَجُلٍ رای اعد علق ربا امْلَهُ فحَيِی اَنْ يُسْبِقُوه فُجَعَلَ يَهُيفْ یا صَبَاحَاۂ. زنس ترجم4: رتتایصہ جن ئفارقع سے ردایت ےک رسول او پپلگ نےفر ایا:”'اےکبدمناف گی نوا وہ ٹیش سی جرد اکر الا ہیں مرک اوھ ری مال ا نف کسی ےجس نے وش نکو لیا روہ اپن لوگوں تی تو مکو) چان کے لیے ایک پہاڑکی پہ چڑ ھا2 کرو کو 2 ردے )لیکن پچھراس اندپیٹرے ہیں وشن ا سے بل ملق جات دودطیں سےا رر

کیا اب ایل زار سار ق س2" تنشریح:ردایت می لآ ا ےک جب ترآن مم یگ نازل ہواک و اَنْذِرُ عَشِيْرَتَكَ الافرییْنَ ”اوراپنے قریب تین خاندان والو ںکوخمردا رکرو“ فآ نے ائل خماندان کے سامئے اتی

پوزشی وا کیاؤرآئن ا سای یق لکن ےکی وت دکی ا وٹ شش سی ہپ نے جےشیل یی فرمائی ےاس میں نہابیت چو تے انداز یس داگی کے جذ با تک عکا یا ہوگی ہے۔ اس یں وم مکی بات کے لیے دائ کی ےتا لی اوراضطرا بکو ہم انی جم سرسے کچھ سکتے ہیں ۔

5 تو ال +

7 ا

)١(‏ عيْ عَاِشَةً قال: ال رَسُوْلُ الله :یا مَغْشر اليھُدِوَبلّكُم تقو الله فو الله الّذِیْ لا اِله ال هُو ِنكُمْ لََعلمُوْنَ اَی رَسُوْلُ اللِ حَقَا و ای جِنْتَكُمْ بحَقِ فَاَسْلِمُوْا. (جاریل) ترجمه: دحفرت وائڈے ردایت ہ کہ رسول الہ نے خر 0

کلا ےنبوت جلد پنجے ے۹

افسوںقم پارڈ سے ڈ روہ أس اوش ریب ینس کےسواکوکی معبو یں :میں معلوم ےک می خر اکا ارول ہوں تجھارے پا س تق نےک رآ اہول ۔انرااسلا قجو لکرو“ تشریح: یودن رات کے ر لی سےآ نے وانلے نکی نشاشیوں اورعلامات سے بی وا قف تے۔ا نک یکتتاب نو رات می بیع پل کے بارے میں داع طور پرجچت٘ی نکوئیا لک یکفیاھی اور نا گیا ھ اک نے وانے نی کے اتا زکی اوصا فکیا ہوں گے ۔لمان جب نی مکی ہنشت ہوئی اورآپ مھ بی دش ریف لا ےذ حس کی وجہ سے بیبودآپ پرا یمان ت لا 2 رھ کاازکارأ سی ططر حکیاہںطر اس سے پپیلداھوں نے مض کسی بج علیہ السلا مکا کا رکیاتھا۔ ضر کرو برخطاب مھ ییہمنود ہہ جک رکیاتھا۔ ج بکہ ود کے ایک زبروستعا ہت ره قال: قَال رَسُوْل الله :یا مَمْشَر الَهُوْد اَسْيِمُرْا 0-0 (ہاری:سلم) ترجم4: -ضرت الہ ہ رم٤‏ ےروایت ےک رسول اللہ ملا ےق ایا از روز یک الام اخخقیارکرلومسلامت رہوگ _“ تشری یح: دیشر رل‌اورا نکی امم ریش ردوایو لک وجے ج بآ پانے پیارادوف مایا 7 یس شر بررکردیا جا فو اس وق تآپ نے ان سےف ربا اکا اک ردنااورآخزت مل لال ے خواستہگارہوتذ الا قو لکرلو۔ ور میں رسوائیکاسامنا اناپ ےگا۔

)٣(‏ رَ عَن ابىْ هریرَةَفَال: ما نزَلَت و اَنڈِر غَشٍیْرتک الافْرَبْنَ دا ابی ماد ریش فَاجْتَمَعُوْا فَعَمْ وَ حَصّ فقال: یَا بی کُغُب بُنِ لوّیَ اَنْقذُوا الْفْمكُمْ کی رک ہہ تپ سے ہہ انْقَدُوْا َنْفَُكُمْ مِنَ الَارِ یا یی عَبْدِ مََافٍ انْقدُوْا سکم مِنَ النَارِ یا بَِئ ماخِم اَنْقذُوْا انْقْمكُمْ مِنَ النَارِيا بی عَبْدِ المطَلبٍ انْقَدُرْا اَنْقْمَکُم مِن الَار فَاطِمَۂُ انی تَفُمَک بن اللَارِ فی لاک لَکُم بن اللهِخَينا. (ط) ترجمد: حضرت ابو پ ریف مات ہی ںکہ ج بآیت انذ یٹک الات ٹین (اپنے ق بی رش

۹۰۸ کلا ےنبوت جلد پنجے دارو ںکوخبردارکرو) نازل ہوئی فو خی ع پگ نے ق رین کو بلااء دہج ہو گے پا نے عام اور زاس( بھی ٹبیلو ںکو پکارکر) سب ےکہا: ا ےکعب نل یکی اولا ددوزخٔ گی نگ ے اپ ےآ پکو با ءا ےکحب این مرہ اولاداپے آ پکودوز غ کی آنگ سے بچا کہا ے پر کی اولا دای او ںکودوز خغ کی آگ سے بچاءہاےعبدالمطل بک اولاد اپ آ پکودوز حخ کی انف سے بچائوہ اے فا لی اپی ا ن انی دذشرغ سے ماق کیو ریس الہ کالہ تجھاریی کی مدکی سک سکتا۔ تنشریح: دائ کی ذمہدارکی ہے دثوت ہت یکوعا مرن ےک یىی و جہد یس اپنے ری اعزوو اقرامکو رکف رامش نز کرے بلم ہیں سب سے پیل خداسے پیغام سےآگاءکرے۔ می مل نے اس ذشہ داریکواداہکر نے می کی انسابل ےکا میس لیا۔ با نے ایک ایک ناندان اور تی کانام لے رج درد کے سا تھا ےآواز دگی ہے ال ےآپ کے د لک بےتاباعیاں ے۔ اس حدبیث سے ایک اص جات بمعلوم ہوی ہ ےک کت اما لاحب بت ڑا ترک دودزغ کی آگ سےمجات ے۔ دوزرغٔ سے پچھلکا را حاصس لکرنا ای بک کام بای ےکہ ا یکپ نے انی دحو ت کا عنوان قرار دم ےکر ائل بی ںکوخطا بکیا۔ اور فر مایا کیہ ہر یک خاندان اور تیلہا ینےکودوزغ سے بییان ک یگ رک کی جا ہے۔ (۴) و عَنْ عَدِیْ بُي ایم قال: آتیْث رَسُول اللہ وَ هُو جَالِسٌ فی المَسُجدِ فَقَال القوْم هذّا عَدِیٔ وَ كُنْتُ جن بعر آمان وَلا کاب فَلما ُِع اليه اَحَذَبِيَدِیٔ و قَڈ کان بَلعَیی ان كانَ قَال: ِنیٔ لارْجُوْا اَنْ يُجُعَل الله یه فی يِّیْ قال َقَامْ لی ال قَلَقِين لِمرَهَ ٥‏ مَعھَا صَبيْ فَقَل ِنٌ لت لیک حَاجَة قَقَامَمَعَھَا تی قعی عَاجَھَا کم اَحَذ بِيَدِیْ عَتَی ای دَارَۂ لق له الَلِیْدَة وِسَادَة فعَلَس عَلَيھَا و جَلَسْے بَیْنْ يَيْهہ فَحمة الله رَ قّٰی عَلَيْه ُمٌقال لی یا دی مَا مرک مِ الاسلام ان تَهُولَ الله ل الله فَهَلْ تَغلم من ال سِوّی اللّٰھ؟ قُلّت لا تم تَكلمْ سَاعَة تُمٌ قَالَء نما تفر ان تقُْلَ الله اَكُبْر فَهَلْ تَعلَمْ خَيْنً اَکْبْر من اللیہ فُلٹ: لا قان: فَن الَھُرَْ

کلا منبوت جلد پنجے ۹۹ مَفْصْوْب عَلَیْهمْ وَالضاری صُلّلَ. فلت فَإنَیٰ عییٔت مُسَِم فَرآِت وَجْھَ سط قَرخا قُم نر بر عِنْذ رَجُلٍِ من الَنصَارِ فَجَعَلت اَهْشَۂ اتيْتَةً طَرقَي المَار (تزی) ترجمئرطزرت مو و وا کو مر اَل فرمت ب کاٹ ہوا۔ اس وق تآپ مد می لتشریف رت تھے لوگوں ن ےکہاکمہ یدگ بن عائم ہیں۔ میں اچ ف کیا فان درف نے ای نگ یکوکی ددشواست د تع او دکوگی اود رویرے اس ٹنیا۔ جب می ںآ پک خدمت میس شی لک امیا نے میرا ہاج ان پا یش لے لیا۔ جج وتک یہ بات پل یھی اکپ فر مایا پاکرتے تےکہ مھ امید ےکہادطد ا کاب اتد مر نت باقو اس دےگا۔( عدکی ساوت اور فیاصی شش ہو دن حاقم کے بی ے) آں حر تےان کے(اکرام) کے ل ےکھڑرے ہو گئے۔ ای اشاء ٹس ایک عورت اپنے سات ایک بپچہ لیے ہو ےآلگئی اور اس نے ع٘ سک یاکہ ےآ پا سے ایک ضردرت ہے ۔آ پ اس کےسات ھک ے ہو لئے اور ا ںکی ضرورت پور یکر کے پھرمیرا اتد اپنے ہاتھ یش لے لیا ادا ےگھع رتخ ریف نل ےآئے۔ باندگی نے فو رآی کگل ا ھا دیا۔آ پ اس پر یھ گئے ۔ می لپ یآ پا کے سام ٹن ھکیا۔ پچ رآ نے اب کی جھ ون کی پچ جج سے خر مایا اے عدکی میں اسلام سے اکا رکیوں ےک لا ال الا الد (ایلد کےسواکوکی معبوڈئیں )نیس کت ؟ کہا ھا ر ےعلم میں دا کے سوا چھ یکوئی الہ( معبود) ۔ے؟ بیس نے عو کمیاکٗٹیں۔ پچلرآپ نتھوڑیی دم بجاو( لقن )خر ماس کے بعدارشاد فر ماا: کیاکی اول اکب( الڈد بڑا ہے ) سکینے گر بن ے؟ کیاتکھا رےعلم ٹیس اید سے بلک بھ یکوئی ے ہے؟ بیس نے عون لک یاکننی۔ پچ رآ با نے ف رما کہ یودن خحضب ال کے مورد زع ےن کا نین می نے عت لکیاک میس و حنیف سم ہنا ہوں ۷ و 9 یک2]27.,0) ہوا۔ یس( ا کےعھم کے مطا بی )ایک انا رکی کے بیہاںسپمالن یراد اگیا۔اور یک دشام آ کی خدمت مل عاضرہوتارہا-

تشریح: عدیسخاوت اورفیاضی میں مشبورومعرو فٹتخصیت عاتم کے بے تے۔ نی پچ ھکی دی خوا یش ح یک عدی دائرہاسلام می داشل ہوں_ وائ کی ےجا ہمتخصمیتو کی طرف ناس طور

7 یر مز پ4 ہو ہے۔ اک الییمخصیتوں سے وی نکی ةائل ققدرخدم تک نشی جاعقی ہے۔ ووسرے ای میں تقیقت سی نیس ہیں بللہان ات اررے ال جوۓے سے یں سان 27 نع سک ات کون سان( ےک نےراءلکا جات

ری ہوجاتے ہیں۔

دای اپنی کو تکوقا لم اورقا بل قبول بزانے کے لے است لا یکاکیا اسلوب اخقیار برا سک تلق دای کی ذ بات اود ا ںحکمت سے ہے جو خداکی طرف سے اسے عطا ہو۔ ی مل سک موثرط ری سے انی ذکوت عدرکی بن حاغم کے سان یی سک تے ہیں۔ الا مکی ذکوت اس کے سوااورکیا ےک ہآدٹ ایک خداکی خداوندیی اور ا سک یآ اک ی لی کر کے ا سکی بندگ یکواپنے لیے س بای افقا رجھے۔ اگ راو کے سواکوگی دوس الہ اورستبو یس ہل لہ الا ال کے سآ خ کیا حائل ہوسکماے۔

رآ پا فرماتے ہی ںکراے عدئی تم اید اکب رین سےکیوں پھا گت ہو میں اق اکر نے گر ب نکیوں ے؟ کیا خداسے پ2 اھ یکوکی ہوسکتا ہے؟ اگییس تو اید اکم کے بی تا خی کی وکیا ے؟ لا الہالا الیکا ار اراوراا راک رکہنا ھی نے اسلام اوراسلا مکی دگوت ہےر سےمحروف ری غرے بہوداورفصا رکذ خوادوہ سکتے بی بلند باتک دو ےکر تے ولوپ ردگی کے لا لی نیس رے۔ بودخقاب لی کے مورد ہو گے ہیں اور صا رکم رائی اورطلاات مُل بہت دور کل گے ہیں نہ ببودیت دناکوراونبات دکھانے کے لا لی رہکئی ہے اور ننھصراشیت سے جم اپنے لیے دای تک کوگی نو کر سکتے ہیں۔

عدک یآ پک دگوت پر لبی کے اوراپنے ایما نکااظہا رکرتے ہیں۔ ۔آ کاچ د خی اوسرت ےکیل جات ہے۔ دائ کی یسب سے بڑیکام ای ےکر کیکیشش ےکو نخس شرک وکفاور ضا کی بپھول پھولیوں ےل لک سکم یف ہو جائۓے۔ (۵) و عَنْ بی مُرَيْرَة قَال: بعک التَبِیتَّه عَيْقَلَ نَجُدٍ فجَاءَ ث بِرَجُل بی عَیْقَة َال مَامَةُبُْ اقّالِ فَرَبَطُوْه بسَارِيَة مِنْ سِوَارِی الْمَسُجدِ

وف ۔ و ۔ ت ۶۸

فخرج اِليه النبی تائمة فقَال: مَا عنذک يَا تُمَامَةً. فَقَال دی خَيْرْیَا مُحَمَدُ

”کلا ےنبوت جلد پنجے ۱ وو وت ہبوت نسوت0 شنت شٍِنْت فَترَک تی کان الْعَدُتْمَ َال لَهُ مَا عنڈک یا تُمَامَةُ؟ قَال: عنْدیٰ مَا ا فلك لک ان تنم تنمْ علی شَاکر فَرَگۂ تی گا بد اد فَقَالَ ما عنڈک یا تُمَامَةً؟ فَقَال عِنْدِیٰ مَا قُلّتُ لک, فَقَال: آە لقُوْا تُمَامَةَ فَائطلَق إلٰی نَحُلِ قرِیبٍ مِنَ الْمَسْجد فَاهْحَسَلَ فَتَحَلَ الْمَسُْجد فَقَال: اَشْهَدُ ان ل

ک6 و۔ بط رر تا محما

2 1219 از کھگکا گنزل الله ا مُحَمّدُ مَا کان عَلَی رض وَجْة

َبْغض اِلَیَ مِنْ وَجُھک فَقدُ اصُبّح وَجُهَک اَحَبّ الوَجُوْ اي وَاللّهمَاکانَ ِْ دی اَبْعَض الَی مِنْ دِئیک قَاَصْيَع وِبنُک اَحبً الدِیٰن إلیٌ وَاللهمَاكان 0+ ۷ٰ۷ اَخدَتَیْیٗ و آنا ريد المُمْرَةُ فَمَاذًا تریٰ فَبَشَرَۂ رَسُولَ اللمكه فَأَمَرَهُ اَنْ هر فَلمّا قهمَ مَكَة قَال لَه قَال :اصبَوْتَ قَال :لا وَلكِنْ اسم مَع مُحَمٍَ رَسُولِ الله ولا وَالله لنَاتِْكُمْ مِىَ الیمَامَة حَيْة جنْطة خی بَاذََ لها الْبیٰ پا: زم لم ہناری) ترجمه: دضرت ال ہر سے روایت ےک رسول او مك نے تحیدکی طرف سوارو ںکا ایک ون زدانکیا۔ دی ینہ کے ای نف سوک رفاک کے نت ےآیا۔ جی ام جن اخا لک جھے۔ ا سے سر کے سمونوں میں سے ایک ستونع سے باند ہد دیا ای پچ اس کے پا تشرے یف لاۓ وف مایا امہ تا خیالی ہے۔' ا ن ےکم ایک ہے۔ا ےگ ا یھن لکرو کنا نت کے کرو گے جوا بن قو مکا سردار ہے( ا کا خون دائیگال ضہ جات ۓگا) او راگر اما نکر و گے اس پرکرو کے جوققدرداں ہے( احمان فرا مو ئیں سے )اگ ریس مال درکار ےدک وکیا جات ہو اپ اسے ای حاات می یھو کرتش ریف نے گئ ۔ پچ ردوسرےروزتش ریف لا ے اورفرمایا: ”فا ہجراخال ے؟ کین کہ اک می راد خیای ے جو پل ۶ت کر ہکا ہوں۔اگر اسان کرو گےتے ا فص پرکرو گے چوک رگز ار ہوگا ۔آپب پچھراے ای حال میں تو ڈکرتشریف لے گے بیہا ںک کک جب کل کے بد پچ رتش ریف لا ۓ تفر مایا اے تما کیا خیالی ہے؟ “اس نے

۲ کلا منبوت جلد پنجے کہاکہمیراخیالی دوہی ہے جو پیل یا نکر چچکا ہوں۔آ پا نے فر مایا فا کوکھول دو قیرے آزادوکر سر کےیقری جو کے ایک بارغ می نے نس لیا پچ زیریس داش ہو ئن او رپا کہ اه ان لالہ الا الْرَ ات ارول الل زی سگوائی دیاہوں کال ےسا کوئی معبووکیں اود یکیشھر اش کے دسول ہیں ) ا ےپرد ے ز یکن پآ پا کے چچجرے سے زیادوم غوش چچرہ می رے رد کی ککوئی اور تھا منج آپ کا چچرہنمام چچروں ٹیل سب ے حبوٹ ‏ ہہوگیا ہے۔ بہخدا یلپ کے دیع سے بڑ کم خوش می رےنز دی ککوکی دوسراد بن نہ تھا او رآ رج سب سےکیوب د رن می رے نز دی کآ بک یکا دن ے۔-ب۔غدا تا شہروں ش سب سےم فوخ شم می رے نز دی کپ کا شمرتھایا نع سب شبروں شیل می نز ویک سب سےگزییزشم رآ پا یکا ہے ۔آپ کے فو گی دتتے نے بج ےکگرفما رک رلیا تھا اس وقت بی عھرہ کے ار ادے سے جار ہاتھاغر بای ںکراب یج ھک اک نا چا ہے؟ رسول اندپٹگھ نے ا نکوہشارت دک اورفر ماک یرہ اداک لی ۔ جب د ہمہ ینوی نے وانے ن ےکہاکرار کیا ا نے دن سے پچ ریا ۔اکتھوں ن ےکہا انیس (ییش بے دی نیس ہواہوں ہیس اسلام قبو لک کے رسول خدراح پل کے ساھھ ہوگیا ہوں۔ بر خداج بکک مھ حالگ کی اجازت نہ ہوک نکھارے اس بمامہ رے گ یہو ںکا ایک دا یھی نآ گا“

تشریح: تھا مد نے پیل دن ان تق تقْتْل حا دم (اکر میھےک لکرتے ہوتو ایک ردارکا تی ہکا یی وس بای دا ےک س کان ںوگ چوتو نکر ےکی دض کا یکا ہے )کہا ان دوصرے ون اٹ یگنن وکی ابتقرااس فقرے س ےکی :ان تم تم عَلی شَاکر (اگراصما نکرو گنو شک رگمز ار براصما نکر وگ ےکی اسان ف رامش پراسائننجی سکرو گے )- پیا بتقدائڑی بات پیینگیا۔ پیل دن تھا ہکواند یش قھاکہ جا نشی نہ وگی ان ج بآ بنا عو وک ما مشابر ٥کیا‏ ۲ امید ہو یک مکی درشراست نی کی جا نو وومتظور ہوک رر ےگی۔ اس لییے دوسرے ون احسان اورشکرگمز اریی ےون سے ان یکفنکو کےآ ا زکیا۔ می مل کا الا قکر با کی جھزے ےک نتھا۔ بآ پ کے الا یکا تھ اکب ےش یوق تکرنے 27ے الئل پدل جاتا ہے اودا پا کے دا کاروں میں شال ہوچاتا ے۔اورصافطور پ> ا کا اظہارکرتا زج اش 2 چرے سے ہس کے شرسے اور ہس کے دن اور نہب

”کلجر چرس ہی ۳

سے جیے سب سے م2 ھک رنفخر تنج جع ا لکا ہرز ےسب سے بک رکہوب ہوگئی ے۔ یڑ ے اغلاقی وگردا رکا چادوشٹ سے بڈ کب یح رکار یکا تمورننی کر کت ۔ دای نکوایے ھی اخلاق ور دارکاحائل ہو نا چا ہے۔

(۷) و عَن اي الْمُسَيَبٍ عَنْ ابیه ان ابا الِبِ لَمَا حَضرِنَه الَفَاة دَحَلَ عَلَيْه لیم وَعِنْدۂ بْرْجهُلِ َال ای عم قُ الله الله كيِمَة اع لُک ھا یذ الله َال ابوجَھُلِ و بد الله ابْأمَيّةَي انا طالِب اَتَرْعَبْ عَنْ مل بد ایب قلمْ يََالايكلمَاۂ عنی قال خر شی گَلَمهُم ؛ به عَلی مِلَة عَبْد الَمُطلبِ ققال النبی بَاه لَاسْتغَفْرَنٌ لک مَا لم ان عَنْة. (ہناری) ترچ م4 :جضرت اکن سیب اپنے داللد سے ردای تک تے ٠‏ ںکہ جب اوطال بک وفا تکا وقتآ یا بی لن ان کے پاس گے ۔اس وقت ان کے پاس ایج لبھی موجودتھا۔آپ نے فماا:” یجان ل اللہ الا ال دکہہ یت اکا لک وج سے ال دکی جناب بی بھےآپ کے لیے بت نے سن ےکا مو ئل کے اس پرابچتەل اورع ہدادلد بن امیہ ول پڑ ےکراے الوطال بکیا تم عپر المطلب کے؟ پاکی دی نکومچھوڑ زگ وو براج ابو طال بکو ای رع اپ بانوں ننۓ دورفلاتے ر سے ہا ںک کک ہآ خر بات جوافھوں ن ےکی دہ ریگ کی عبدرامطلب یکیعت پرقائم ہوں۔آ پا نے فرمایا: ”نی سپ کےقن بیس استغفا رکرتا رہو ںگا جب مت کفکہ مھ اس ےروگ شدیاجاۓے -“

تشریح:ااوطااب یل کے بتجا تھے ۔ایمان نہ لانے کے باوجوداھوں نے بی مل کا اتیل کھوڑا۔آ پک یآ رز یکہاوطا اب ایانن لےآ یمان ددایمان شدلا کے ۔ جب الد طالب کے انتا لکاون تآیانذ آپ پا کے پاس ین اورا نوک“ فو حیدک یل نکی ۔اور آرزد ودنا ے قاع ”یس ظیرضھ سو اریم اوھ 2 پا کے لیے خدا سے مغفرتطل بپکرتا رہو گاج بت ککہ کے ال سے درو کیل دیا جا تا ۔آ ز قرآن میں واج طور بر یآ یتیں نازل ہیں :مَا کان لین والقین اختوا آ قرو ِشْرٍکِيْنَ وَلوكَانُوْا أوْليقُرٰی مِْ بعد مَاتَيّن لَهُم اَصحَاب الَْسیْم(2ب:۷۳٥)‏ نی اوران لوگوں کے لیے مناس بیس جوا یمان لا تۓ ہی کرو ہمشرکوں کے تن میں مغفرتکی

ان 'کلا ےنبوت جلد ہپنجے این و کے پان کن کی ےد کیک اشن بت وارنےع۶ون) انگ هی مَيْ اعت و لک الله یھی مَنْيمَء وَالله عنم بلمهُعَيِیْنَ (صص۵۷) ”تح صے جا ہو ہرایتئیں دے کت مگرالڈد سے چا ہنا ہے ہریت عطامرتا ہے اوروجی راہ پانے والو ںکوقوب چاتاے_ٗ“

(ھ) و عَ اس قال: کا غُلام يَهُوْدِیٌ يَْدمُ ای تل فمَرِض قاتاۂ لی يَزدۂ قد ند َآہم َال که اَم کر إلی ابی وَهُز عِندۂ َقَالَ لَه اطع ایا القَاِم يك فَاسْلم فَحَرَج البیٰ اٹ وَ هُو يَفُوْلَ: ايد ِله الِّی اَْقَلَهمِيَ انار (فاری) ترجمد: رت ال سے دوایت ےک ایک پبہودییل ڑکا می کی غدم تک تا تھا۔د: ار پڑ ان نی شک ا سک عیادت کے لے ااس کے پا آتش ریف لے گے ۔آ اس کے ہرکے پا ٹیش اورااسں سےفر مایا :الا قو لک نے“ اس نے اپ با پک طرف دبیکھا جو اس کے پان بی تھا۔ اس نے اپینے ٹے سےکہاکرا بد الا کا اکھامان لے نو ہاسلام لےآیا۔ بی ع کت ہے باہ رگ ےکرال اضر ےکمہ اس نے اسے(دوزر کی )نگ ےنات دی

کےبصض خطبات وکوت

7 27 ای .١0ا‏ کو و و کر رو و و کے دھے ۔ے یں () عَنِ ابي عَبَاسئ قال: لَمَا نزَلّتُ و انذِز غَشٍیٔرتک الاقَربیْنَ حرج اللبی علثّة*

ختی صَوذ الصَفا فُجَعَلَ بَادِی یا بی فهرِیَ بی عَِ لِبُطُوْنِ قَرَبْشٍِ تی موا فجَعَل الرَكْل اذا لم يسْعَطِع ا برع اَرْسَل رَسُوْلا لَِظُرَمَا هو فَجَاءَ ابو لب وَ فرش فَقَال ارام اِ اَخبرُنكُمْ ا عَيْاتَحْرُیج مِنْ صَفْح هذّا الجََلِ و فِیٔ رِوَايَة ا عَبْاَتَحْرجْ بالوادی تید تر عَليكُم اکم مُصَدقیٰ؟ قَالوا نعمْ ما بَا عَلَیک اِلا صِدقًا. قال: فَالَی دیز لّكُمْبَيْنَ دی عَذَاب شَیِیُدٍ. قال: اَبُوْ لب تَبًا لُک ا لِهٰذَا جِمَعتتَا قَنَزَلَتُ تبث يَدا

'کلا ےنبوت جلد پنجے ٥‏

ترج م4 : -ضرت اہن عبال سے رداعت ےک جب ىرآمت نازل ٭ولٰ: و اَندِر عَفِيْرَتَكَ ےن (اپنے قریب تین لوک ںکوڈرا۶) نو نعل کے یہا ںیک ککیکووصفابہ ڑھگ چھر پکارناشرو عکیا:” امے اولا دفہرہ اے اولا دعدی۔ ای ط رح تام قپاحل ق بی کو با نے نام ےایھیز ماکز ےترک فر کو یلد ےافغھگلاے ق ال ن ےگس یکواپنا ماود نک یھچا کا سے معلوم ہو سک ےکہاخھوں ن ےکیوں بلایا ہے۔ الخنش جب الواہب اورائلق ریش س بآ گے پا نے فرمایا:” گی س ھی بیقجردو ںکسوارو نکا ایک دستہ اس پہا کی جاب سے (ایک دداایت کے الفاظ بی اس وادئی سے ) للا سے جوتم پہ 77 کے ازادے تو لآور تئ٤‏ کاآزادو رتا ےت کیاتم یے سیا بکھوگے؟ لوگوں نے ( ایک ز بان ہوک )کہ امہ ہا ( ہم یا جھییں کے ہما ر ےن بے یتم پمیشہ جج خابت ہوۓ ہو۔ج بآ پا نے فرمایا: نیل صلی ائ مخت عذاب سے ڈراتا ہوں جننھا رے سا نے (بی یآ نے والا )ہے ' ا اہب ن ےکم اک رتبا ود ہلاگ وکیا ای کے لی ےم ن ہیں شی کیا ھا ا پر ەتَبّتُ يیَذا ابی هب و کرات کے دونوں پاتیرٹوٹ گۓ اور و خو نی تھےگیا)نازل ہوئی۔ ٰ تشریح: کوہصنا کی آ پک تق زبرادرخطاب سے ا تقیق تکا خی انظھار ہوا ےک ہر جس بلندی پر ہوتا سے وہ بلنددیی عاملوگو ںکوحاصم لیس ہہولی ۔ دہ ین لآ نے وا لے اس عف ا بکو انیل یآعھموں سے دکپر ا ہوتا سے جو الم انا فر ما ن تو موں کے لیے مقدر ہو کا ہوتا ہے۔ عا مل وگو ںکو سیل کے انام بد یکوئی خٹیس ہولی اورآیں رکھی معلوممییس ہوتا اکراگردواپے کواضام بد سے بچانا می تی ںکیاکرناہوگا۔

۱ یم پیلک سب سے پپیل ا کا اتقرارکرات ہی ںکہاوکو ںکوآپ کے ہچ اورصادق ہونے پر پودالغن ہے جولی نج ردمیں گے دوخ رغلط نہ ہوگی ۔ جب لوگوں نے اھ اک رلیاکہ آپ جج ہیں اورہھم بی لوکو ںکا رر پا ےک ہآ پا بییشہ بے میا تابت ہد یں ۔آ بانے کسی محاملہ یٹ سچھ بھی خلط ہنی کمن لیا ج بآ پان فرم لک آنے والے غاب شد ید سے ڈدو جن سک میں ٹیس ہے۔ دولآ وددستہکی ط رت پر نگ ادگ رکمیں ابی اور ب بادئی اوردرد ناک ماب سے بانے والکوئی نل گا

"٦‏ کلا منبوت جلد ہنجے اس سے پی ےکرلوک بی مکی بات پفورکر تے اواہب جس سکوقوم یش ہمایاں متام حاصل تھا میک پڑااورخے می ںآ ک رآ پکوکو نے ل کہ ی کیا نیا راگ پکھی رک روم میں اختقار پیداکیا جار پاہے۔اگ رم ( یلگ کی بات ما نکی جاق و ا کا مطلب بی ہوگاکہہارے باپ داداغاط تے۔ اور ہماری سیادت و قیاد تح لال تک سیادت و قیادت ہے۔ااس جا تکوکوگئی کے برداش تک رتا ے۔ )٢(‏ و عن ابنِ عَبَاسٍٔ ا رَسُولَ الله تل خَطبَ الناسَ يَومْالَحر ققَال: لھا الاسْء اَی یَوُم هٰذا؟ قَالوٰا: َو حَرَامَ. قَالَ: فی بَلَدٍ هذًا؟ قَالُوْا بَلَد حَرَامَ. قَانَ: فَایٔ الشُھُر هھڈا؟ قالزا: خَھَر عَرَام قَالَ: فی دِتاءَ كُم ر َمُوَالكُمْ وَ اَغْرَاضْکُمْ عَلَيْكُمْ حَرَام. كَحْرْمَة يَوْمَِكُمْ هذًا فی بَلَيَكُمْ هذا فی فَهرِكُمْ هھذَافَأَعَافَها مَِازا تم رَفَع رَامَۂ فَقَالَ: اَللَهمٌ هَل بَلَفْتُء اَللْمَ مَلْ بَلّفُْ, َال ابْنُ عَبَاس فَوَالَدِیْ نَقُسِى يہ اِنھا الوَصِیَّةُ لی امیہ فلْبلعْ الشَامدُ الْغَابَ لا تَرْجعُوْا بَعْدِیٰ کَفَارا یْضرِبْ بَعْضْکُمْ رقاب ض٠‏ (بارل) ترجمه: حضرت این عا سے دوایت ےکرسول ابد ہاگ نے پوس کے موم پرخطبردیا۔ آپنانے فرماا:”اےلوگوہ بیکون سادن ہے؟'لوکوں تن ےکہاہکہ ہہ لوم تام ہے۔آ پا نے فر مایا :” کون ساشہرے؟“لوگوں نے عت شک یاکہ یش تام ہے۔آپ نے فرماا:ن تھا راخون ء تھا را مال ہوا رکیآ بروقم پترام ہےگنس ط رآ کا بیردن :مار ے الس شج ٹیس او ھا رے اح /ہینہ ٹل قرام ہے آ پا نے مات چند بارفرمائے۔ بچھراپناسرآسما نکی طرف اٹ اکم فرمایا:” اے ال دکیا یس نے با دیا؟ اے الیل کیا ٹس نے (تیرا ام ) بچیادیا؟'نضرت امن عائ نف مات ہی سکم ہے اس ذا کی کے تی می کی جالن ہے ۔آ پانے اق امت وی خر 7/۳۱ والوظر ہیں دہان لو ںکک امیس جو بیہاں موجو یس 07 میرے بحدکافرنہہو چان کہ با م ایک دوسر ےک گر د نی مار ن ےک چا ئ5“ تشریح: شی لوگو ںکو تقیقت جان ىیفی جا ےکمصرف دن :شب راورمینے هی تقائل از اممیں

یم

ہہوے بللیلوگو ںکیآبرداورا نکی جا نی چھ یپھتزم ہولی ہیں ۔کفرصرف میس ےک ہآ دی یت یکا

”کلاےنبوت جلد پنجم ے٠‏

مر ہو جا بللہ بی دش پگ اکف کی ےک ہلوگ ایک دوسر ےک یگردمیس مار نے لک جا میں اور انماٹی جانو کی لوگو کی نگاہ ی سلکوکی قد رہ تبت بات درے۔ ٠ -‏ ×. ۱ پا کان دو ظط () و عَيِ اي عَبَاسٍ أن ابی تَّه کمَبَ إلی فَیْضَر يَدغُوٰه إلی الإسُلام وَ ق پکناہ یه وخیة لکل ره اه لی عظیْم بُضری إََِعة لی فَیْصَر فَاِذا فِیْه :”ہش الله الزّحمن الرّحیٔم من مُحَمدٍ عَبْد الله وَرَسُزْلہ اِلی مِرَفُل عَظِیٔم الرُوُم. سلام عَلی من ابع الّھُدیٰ اَمَا بَعْدُ فَنیٰ آڈٹھوُوک وِقَایَة الاسُلام اَسْلِمْ تَسْلَمْ و اسْلِم يُویک الله آجرک مَرَتیْنٍ و اِنْ توَلَيْتَ لیک ام الرِیْیيَيْنَ وَ ياَهْل الکتابِ تَعَالَوٰا إلی كَلِمَ سَوْاء بَيَْا وَ یکم ال نب لا اللَة ول نشرک بہ شَیْنَا وَلايَعَجَدَ بَعْصَنا بَعغضا اَربَابا مَنْ ون اللهِ قَِْ نووا قُولَْا ھدوا بانًا مُسْلِمُوْنَ. (ہناری+سم) ترجم4٭: ححضرت امن عبا لے روایت ےک ضی الال نے( روم کے بادشاہ) تص رک نام گمرامی نا مھا ٹس میں اسے اسلا مکی دگوت د یگ گیا ۔آ با نے ابنادہگرا می نامہ دی (صحالی رسول ) کے ذر یی سے روا نف مایا تھا اورا نوم دیاتھاککردواس نا ہکوبھ ری کے اس مکو پچیاد سی تاکردداسےقیص رکے پا پاچیادے ۔گرائی نا کا مصمون بیتھا:

مہم الد الرشن الیم ۔ اد کے بندے اور اس کے رہوش کی جاب سے بل کے

ام جورو مکاگرا ن ای ہے۔ اف پسلام جھ دای تک پروی اخارکرے۔ بعد

ازاں می کیل اسلا مکی دشوت دیتاہوں ۔اسلام قبو لکرلو ہتفو ظط ومامون رہوگے_

اعلام قبو لکرلو ار یں دو ہرا ائز عطا فرراۓ گا۔ اور اگر من چھیرو کے تو تم پر

اریسیو نکامگمناوگھی ہوگا۔' اے اب لکتاب٠‏ ہمارے اور اپینے درمیا نکیا ایک سید

با تک طر فآ ہرک ہہ ال کے سوا یک بی شک یی اود ناس کے سات یی چچز

کویش رب ککھھبرامیں اور لی ہم می لکوکی ایک دوس رےکواایشد سے جہ ٹک ردب

ۓل اگمردواع ات کم میق دکبرد وک مگواو رہ وہ رتومسلم ہیں۔

۸ ؤربہوت یلیَپنہز

یح:اں بترم ای سے وار الساطنت تکانام تخب پاڑکتان (دمناصمعرق/ریم ...ےر ےر یت تیم ہوگئی۔ ا سکامشرقی علاقہ ایا ےک و کیک :مھ شام اورفکسٹین وی رما لک بقل تھا۔ اس علاقہ یی لآ بنا ۓ پاسغورس کے 07ا 0 7/00000 ایک شرآباد کیا۔ا کا نام ان نام پرلا ھا ئن رکھا جم سکوا بتطتطزہ با تخبول کچ ہیں مخ بی ص ےکا وار ا سلطنت ہردستورروم تی دہ ۔اسلائی تاریو بی روم سے ھرادرویی شبنشاجیت ہی تکامشرنی روم کے ش ہنا 7 اتب تصر )3٥1‏ تھا۔

اریسون ک ےی می اختلاف ایا جانا ہے ٹف نے اس کے می طاشن او رما مین لیے ہیں۔ بہرصورت بیہاں اس سے مراد قیص کی رعایا :کی سے شس بر وہ حلومتکر ر پا تھا۔ تضو رمیلگ ن ےک اک اگ رقیصراسلام لاتا ہے اسے دو ہرا اہر لگا ۔ یک تو اپنے نی پرایمانت لان کادوسرے دا ےآ رک نیا ران لا نے کا جریی اس کے ج ےی سآ تۓےگا۔ بھ راس کے ۱ یمان لان ےکی وج سے ا لک یتوم مان لےآئی ہے تو اکا جوا بھی اس کے جے میں آ ےگا۔ اس ط رب دو دوہرے اج رکاش ہوگا لیا ن اگ رقیص رمنہ بی رتا اور اسلا مکی دگو تکورد کرد یا ےا قوم کےگنا ہکا با گی ال کگمردن پر دہ ےگا کیو ںکرال کے امان نہ لان ےکی وجہ ےو مچھ یکفمیس ہنا ر ےکی ںشہور سے الناس علی دین مل وکھم۔

واوی نکی عارت سور ہآ ل گرا نکی آبیت ۴٣‏ ہے سکونسی ملک نے اب ےتوب

گمرائی می انل ف مایا ہے۔ چو ںکقیصرمیسائی یش ا لکتاب میں سے تھا ءاسی مناسبت ےآ بت یبد اتاتب ال لببال۔

جب پیکتوب تی رکو لات اس وقت و تطتطتہ سے سید مکی گیاذیادت کے لیے جار ہا تھا۔اسے بی خیڈفس میس کیا یگیا۔ اس ن عم دیا کیرب کاکوک ٹف س لا اے لایاجاۓے۔ یت المقیس سےقرب ہج رواے میا رین اورشع رکا سر حدی عقام) یق ریش کہ ْ کے تا ججرو ںکا ایک اف تی تھا ۔قافلہ کےامیرابوسغیان تے جوابھی تک ایا ن پیل لاۓ تے_ قیصر کے در باربٹش بیلوک یی ہہوئے۔ قیصرنے بیع کے بارے می لف سوالات سے جتار جم درج ہیںء وو ا ں نہ مرن ۶ مگمیاکہفخرت مھ مگ ربق نی ہیں اوردددنی نی ہیں

ہم نیک ا ليکتا بکواتظارر پاے۔ پر چن اک قصرکےدل میں نوراسلام جلوہ الکن ہو چکا تاجن شی ساط کی عبت اور ابا توف سے دو رشن گی ان نے خعظرتن دح کو یا کم روم کے أسقف انشعم ضفاطرسے جاک یلواوراسے اساا مکی زی ور الروات او ہے راہ بموار ہجام ۓےگی۔ بھی عپشنھکو جب ا لک اطلاغ دئ گی نپ نے ضفاطرکے نام دکوٹی ماک ھا۔ خی کامضمون رتھا:

نیس نے اسلا مقجو کیا اس پرسلام ہو۔ می را ملک دی ہے شس شی بن مریم

روح ایل کار بندر سے ہیں ۔اورووکلرت الڈر تھ جوحصعست باب م ری مکوود اعت ہوا تھا

می اللہ پراورا نکتابوں پر جابرائیمءاسحاقیء لیتقوب اورا نکی اولادپ نازل وی

ایماان رکھتا ہوں۔ مو بھی اوردوسرھے امیا ءکور بکی طرف ے جوعطا ہوا ال لکا

یدرو رکھت ہیں ۔ ہم یوں م۲ راس یبھیتذربی وا تاز کےا یں ہیں جھ ا سلم

ہیں۔سلاما اس پرجھ دای کی پی روک افقیارکرے_“

انل نے برخط پڑ ھک راپنے مسلمان ہونےکااعلا نکردیا مان لو کی می ںآ گے اور اےشمیداردیا۔

تیص رک نام جوکتوب نیع نے بیج تھا ا لک اص٥‏ لکاپی دریافت ہویجگی ہے۔ ارچ بی ا سکتو بگمرائ یکی موجودگی کا افو یی صدکی ہج ری تک این می پن چلڑا ے۔ زوال انس سے بعد یح ب سی طر کک ہباپیاد گیا از کےکمراں بافھی نادان نے اے اپنے بیہا ںتفوظا رکھا می ۵ے۱۹ء یش اخبارات کے ذ ریہ سے یف شال ہوئ کہ ہاش خاندان کے شا عبدانڈش ری ف مین لی ف مل کےفرزناورشرق اردان کے شا مین کے دادا )نے ہے تقوب اپنی لہج ہکواس شرطا پہردے دیاتھ اک کی اشدضرورت سی مسلران جکراں کے ہاتھ فروش تکردینا۔ چنال چدالدجھچی کے جکراں تن زی بن سلطان النویان نے ا پگرال قد ر دتادیکوسولن ڈ ال رم خر بدلیا۔ااس نام“ مارک کین میس پورایک سا لصرف ہوا۔ )۲(‏ عي اب عَبًاسٍ ا رَسُوْلَ الله تَّّ بک بکتاہہ لی کشری مَع عَبْد الله بن خدَافة السُهْمِيٰ فَامَرَهُ اَنْ يَذْفْعَةُ لی عَظِیٔم البْحْرَیْن فَدَفَُْ عَظِیْمْ البْحْرَیْن الی کسٰری فَلَمَا فَرَاَ مَرّقهُ فَالَ ابْنْ الْسَیّبٍ َدَعَا عَلَيْهم َسُوْلَ الله اَنْيُمَرَقُوا کل مُمَزّق. (خارق)

طْ کلا منبوت جلد ہنجے ترجمد: ححضرت ان عما سے ردایت ےک رسول ال ھٹگ ن ےکس کی کے نام ابنامت بےگمرا می عمبرانقدابن عذ اذ ہب کے پاتحدروانہف مایا۔ یل پیم دیاکردہ اسے رب کے حاعم کے اس نے جانتیس( نک دءکس رب کک پاہچاادے )اود بن کے ح ام نے اس ےکس کے پا پپپچادیا۔ ج بکسرکی نے ال ںککتو بکو بڑھا و اسے بپھا کم ینک دیا۔ این صیینب (حد بیث کے ایک راوگی) کے ہی ںکرسول خدا مل ن ےکسرک اوراس کے طاعح تک اروں کے لیے بددعا کہ ”دہ پاش پاش کردنے جا یں بالکل پاد:پادہ۔“ تنشرییح:رڈکن امپائرکی عل رب فار (امیان )مق مم تن شنشا بی تکاگبدارور ہا ہے ۔ اس وت اا سکی سلطنت ایک طرف سند تک دہ نین دوس ری جا بعراق اورعرب کے اک رجے ھن ء ہک رین اورکمان دغیب رہ امران کے زمر اقت ار تھے ۔ اس سلطنت کے تم را کا لن ب نس رو ہوا کرت تھا ۔کس رب اہ کا محرب سے ۔تضور پگ نے جم سکس رک کے ا مگرا بھی زامہکھیچا ھا اہ کا نام پروی زتھا۔ جھ ہرم رن فو شی روا کبیا تھا-

ورپ کی بد ھا کا ننییہ سان ےآیاکہلئھی زیادہ وط ت نمی ںگز را تہ ا سکی ساطحت پرو انت نازل ہو کہ ہنراروں سا لک شی الشان سلطنت پارہ ارہ ہوکررہگئی۔

سرد پرویزنے نصرف یک ہنامۂٴ مبارگ چا ککیا بلکہال نے ای ک متا فی اوگی۔ اس نے من کے اہپنے ناب اور اپنے جنیچ بازا نکو پا مکیہاکتباز کے مدگیا نو تکو ہمارے پا تجنوادو۔ ال نے اپنے دو دٹ یآ پ کے پاسل کیج ۔اصوں ن ےپ سے اپٹ یآ مرکا مقصد یا نک اکن رون ےآ پکوطل بکیاے۔ نی نشلگ نے فرما کہا کال جھے سے جواب لے ینا۔ا گے روز نے فر ما اکراپنے عاک باز ا نکو شی رپچادوکرمیر ےرب نے حسرو پروی کا کا تھا مکردیا۔اصل میں خسروکی رومیوں سے جتک پچٹری ہوک یھی ضروقلست بقل تکھا روا پآ مادویل تھا۔اس کے بے شیرد یہ نے با پک کر کے دومیو ںکی شراب پہ نے کی کان مین ةک یتر یرت میں ودچھی دنا سے پیل بسا اورامران سلطنت یارہ پارہہوکردہگئی۔ ۱

ایح مین کے اکم با نر ان نے مىی حپ کی تقلیمات پرفورکرنے کے بعد اسلام قول کررلیا۔ بل راس کے در ہار ایوں کے علادہ یہت سے دوس ےلوگ بھی ال سکیا پروی بیس اسلام نے

'کلا منبوت جلد پنجے پا

نے .ایک سال کے بعد با زان کے الال کے بعدین میں بداشیکپی لکئی ۔ٹی ٹپ نے اس کےا پاگغ کو ماک مقر رف مایا سادا داانکی مال کے لا وی شر درساذ تل اورعام جراوخ رہکوکان کے اضاا ع ساپ تم ب نک ربھیا۔

کس رٹی کے نام خی نے جوکتو ب بیچاٹھا ءا سکیا ا لکاپی در بات ہوئی ہے۔ ھتاب پا ہواتھا شش سکوجوڑک تی ککیا گیا ہے۔ مرخ ط نان کے سار دز رخمارجہ ہن ری فرگون کے پا ستفوظط ہے۔ اس کا اککشاف شام کے ایک عا لم ڈاکٹر صلاح الد ن ےکیا ے۔ ہنریی فرقون غےسش گی یپ ین کے انام پر یر دتاوی: رش ٹس ڈ یڑ سواشری میں ت برا تھا۔۱۹۹۲ کک ہیی فرکو نکو ریخ نگ یکہب کب نوئی یش سے ایک ای توب سے۔ ڈ کٹ عیداہڈدنے اپنے ای کشٹیقیمون میں اس کے ای ہون این نا ہرکیاہے۔ ا تو بک وہم ہا لکرتے ہیں:

بسم الله الرِحَمٰنٰ لن الرحیم. ور او اش 0 ا

لی کسٗری عظیم فارس. سَلامٌ لی مَنِ الع الھُدیٰ و

امَ الله وَ رَسُوْلِہ وَ شَذ آ لٗ إِلة ال الله وَخَنَۂ لا

شَرِیْک لە و اَر مُحَمذدا عَبْذُه و رَسُوْلَهُ اَدُغُوُک بیغَائَة

اللِٰ نی انا رَسُوْلُ الله إلی النَاسِ کَالّة نر مَنْ کان

َيًا و یق القَوْلَ عَلَی الكافرِین اسم تَسْلمْفَإِن اه

”نمس الد الین الرتیم ۔ الد کے بند ے اورااس کے سو لجھ کی طرف سےمس ری 39+ فاارش کے نام ۔ لام ہو اس پہ جو ہدای تکی پیردئی اخقیا کر ے۔ اور الڈداوراس کے رسول پرایمان لا ۔اوجشس ن ےگواہی د کہا کےسواکوٹی معو یں ۔ وہ ایک ہے ال سکاکوئی ش ری کیو ۔ادرشھ اس کے بندےاودااسں کے رسول ہیں ۔ میں میں الیل کی دو تک رف بلا تا ہوں ۔کیو ںک میس خداکارسول ہوں تام بی انہانوں گی طرف پھچ ا گیا ہے تا بین زمدو ںکو(آخرت سے ) ڈ راوں اور ای لکفرپہ

۱ اکن وم سی مت ائم ہوجاۓ 'اسلا قبو لکرلوءسلامت رہ کے او راگ را ڈکارک رو گےئے سارے آنشی بستوںک 7 ریکمردن پر ہوگا۔

نی لگ نے جیب قیص رکے نا کیا تھا اس میس اوراا توب میں وکس کی کے

نامکھاکیا ہے بضمیادک فرق پایا جا تا ہے۔ قیصرائ لکتاب یش سے تھا اوک رک اث لکتتاب مشش ےئیں تھا۔ ا لیے ذکو گر چردوڈو لکوایک ہی (تذ حیدکی بد یکئی ان فطرىی طور بر وت کی ںکرنےکاانداا نگ ا نک قیرف اا۴ اکیاے۔کسرکی کےگتذب ٹیل واوین کی عبارت قرآن رش 70ھ000 کسر زندگ یکا شموت دے اور خداکے رسول پرایمان لاک خداے واح کی بندگی اخیارکر نے۔ اک رووا وکا رکرتا نواس پرججت نو قائم میکردیی جاری سے .کل دہ یکن لکہہ سے اک کی نے نکی دگوت جییس دکی ء می کے ایمان لاا۔ دہ ایمان یی لااو اپ گناہ کے سا تق ھ ال کی گرون پرقوم کےگنا ہک با بھی ہوگا۔عوام تکمراں سے متناشر ہد تے ہیں ا ورای کے د بن و نہب کےانخیارک رن کواپنے لیے باعشہٹظ وت ہیں۔ )٣(‏ و عَنْ انس انی مه تب لی کشری و إلی قیضَرَوَ لی النجَاشِي

ر لی کُل بر یم إلی اللہ و لیس باجاِی ال صَلّى عَليه النبی (حم) ترجم4: ضرت ا سے روایت ےکہ بی مل لک نےکسرکی اور قیصراورفیانی اود ہرجابر و مقر مرا سکوخطوط کے جن شش اہی اک اطاع تشخ اسلام )کی طرف ڈول گی تی بیہاں خجاشی سے مرادوو ماش ینییس سے مج سکی نی پل نے (نھ ینہ میس طاتباشہ) نماز جناڑہ ڑگ یتی۔ تنشریح:اس ردایت کےآخ میں اس با ت کا انارک گیا ےکہ یہال خجاشی سے مرادو ونجاشی یں ہے جن سکونی مک نے دکوت نام یئا تھا اوروہجمسلرمان ہوگی تھا۔ جس کے انال ہب نے مد ینمی ں اڈ ےر مایا تھ اکم دصا تھا بھائی اسم کا ای ہوگیا ہے اشھوہ ا سکی ماز جناز ہیڑمو۔ او پگ رآ پنانے ال لک طائباننماز بڑھائی-

'کلا منبوت جلد پنجے سا

٦پ‏ نے دووں خاش یکوکتذب کییجے تے۔ پیل ضجاشی نے فو الام قجو لکرلیا تھا۔ دوسرے کے بارے یں اخطلاف پایا جانا ہے عفن کےن: ویک اس ن بھی الام قیو لکل تھا مض کے مز د بک دہ مسلرا نس ہواتھا

می عرب کے جنوب میں مشرتی افریقہ میس دائضع ایک ملک سے یجن لکواتھو پیا کے ہیں ۔حضور مل کی بعشت کے وقت اس ملک پ عیسائی بادشا کی حر تھا بھی زبان میں بادشاہکو یں ج٥‏ )کت ہیں .اش ای یں اورپ سے .پان پر زان کر تے ہیں جوا پانے خاش یحم کے نام مکیاتھا۔

بسم الله الرحمٰن الرحیم. مِن محمد رسُوُل اللِّ اِلی

النْجاشٍی عظیم الحبَشٰة سلامٌ عَلی مَنِ اتَبَع الّھُدیٰء اما

بعدہ فَإنَی اَم الیک ال لی لا الە ال مُوَ المَلک

القدوسٰ السُلام لمُومِنْ المُهَيْمِنْ و اَشْهَدُ ان عِیُْسی بن

مریم رُوخ الله و كَلِمَنه لها لی مَریم الو الطَيَةِ

الحصٍینة فحملث بعیسلی من روجہ و نفخب کَمَا خلق

اقم بِيّہ و انی ادئھوک إلّی الله وَخْدهٗ لا شَرِبْک له

والموالات علٰی طاعَیہ َ ان تتبعنی و تُوقیْ بالّذی جَآءَ ِیٗء

قَالیٰ رَسُول اللہ و انی ادنغوک وَ ودک إلی الله عزَوجَل

و قَہ بلّغتُ و نصحیٗٔ فاقبل نصیحتی والسلام علی من

الع الُُّڈی.

۱

مسم الد لن الیم ۔ مھ رسول اوڈ کی طرف ےی کے بادشاونجا 5 ایت :

سلائی ہو اس پر جھ ہدای تکی پیردگی اختیا رککرے۔ بعد از میں ء یس اس خدا یا بد

تھارے سا سن ےکرتا ہہوں جس کے سواکوئی متبودکیل ہ دہ بادشاہ سے :نہایت مق در ٠‏

راس رسلاتی ران دی ولا ہگ ہبان اور شہادت د یت ہو ںی این مر اللی

۷ کل ےنبوت جلد ہنجمے

روح اورائ کاکلسہ ہیں جس سکوائش نے رم اک دا نکی طرف ڈ الا تھا کئی ا سکی روج اور پچھ ویک سےکمل می سآ ےجس طرع آد کو اس نے اپنے ہاتھ سے پیا کیاء اور یں یس اد کی طرف دکوت دبتا ہوں جو داعد ے اورج٘ سکاکوگ یش یک ٹیس ۔اوراس ددےتی اور ا بھی اتمادکی رف دکوتد رتا ہوں جوا کی اطا عت پقائم ہوتا ہے۔ اگ مرا اتا عکرے ہواورائس پر لیی نکر تے ہوننس نے بے جیا ےپ یش اٹ رکا رسول ہوں اوری س بھی اورنحیوار ے شک رکو از وپ لک طرف دکوت دیتا ہوں۔ می لغ وشحیحعت کا فرض اداکر چگا۔ اب نشحت قبو لکردہ پیردانر ہرامت لام ہو“

می مال کے دست یا بکتوبات یس یہ نام“ مبلر کبھی شال سے ےآ با نے عشہ کے با دشا و نا یکوکتھا تھا می نامہم بار کعمربن امیی کے پا تق بھی کیا تھا۔ ا تو بک .اص ل کا پی اک بر ۱۹۳۸ء میس دش مس دست یاب ہوگی ء رشن سے بیکوب الین لے جایا گیا۔دہاں :ٹف مزب یش ماہ رن نے ا لکامحایتدکیااو پچ ریش وائی لکردیا۔

تضور مال ے ڈنو خطویا بہت سےکمرمانوں اوراہمتخصیقو ںون یرف رمائے۔ یہاں ہطورنمونہ چندابھ فو ط کون لک یاگیا ے۔آ بے کے دکوکی خطوط کے مطالعہ ےکی بیادکی پاٹ ہمارے ساٹ آکی ہیں۔آپ نے اپ شطوططکی زبان ہا یت سادہ او یس ری کے بے چالفا تی گر بک یاگیاہے۔آ نے ال کیا صاف دضاح تفر مال یک ہآ پا یرخطا خداکے ایک رعو لک حثیت گج ر ہے ہیں ۔ بل رآ پک کو تکیا ے؟ ا سے ہم الفطا ظط می لنئیس بل دامح الفاظ میس ٹن کیا ہے ۔کسی پہلوونظراندا نج سکیا۔ این دکوت نا موں میس اا کالھا ظا رکھا ہےکہان کے خاط بکون یں؟ ا نکی نیا تکیاہے؟ اورا نکی اپٹی خمأبی روایا تکیاری ہیں ؟ ہلا ظآپ نے اس لیے رکھ کہ مدوکووعوت کے گن اور اس کےقبو لکر نے میں7 ساٹی ہو۔ آ پک دگو تکوقوگی شک رنے اورال سے من پھر لن کے نر ے تار کیا ہو سکتے ہیں ءان سے بھی آپ نے آ گا وف مایا۔ مت ای ےت بات م ںآ پ نے ترغییب اور تر ہیب دونوں طر یق ایا رفرمائۓ۔آ پا کے وی خطوط می سآ جع کے داعمیا ن تن کے لیے رہ ما لی کا بہت بدسا مات ٣رر‏ ے۔

کلا ےنبوت جلد پنجے ا"

آپ کا نراڑخیم و بیت

)١(‏ عَنْ عَابِصَةقَالث: کان رَسُوْلُ الله ال پل اذا امَرَهُمْ اَمَرَهُمْ مِنَ اعُمَالِ بمَا بُطِیقُوْنٍَ (ہناری) ترجم4:مضرتعا کے روایت ےک رسول ارل ح لاگ لوکو ںکوا لے ہی کا موں کےکم رن کیا مد نے تھے نکی ان یں استطاعت ہولی ی۔ ۱ تشریح: دین یس 71د اس ا سے ہی کا مکلف سے جشفی اس کے اندر طاقت ے۔ نی حپلللے ہییشہا لںکالھاظا رت تھے ہک یک فو تبکارادراا سکی جسمالی دڈانی صلاح تکو دنت ہو ۓکوئی خدت اس کے پردفرماتے جے ۔ کین کو آپانے ال سے ددکائجھی ہےکردہ ای ذمددہ

کا یی ج کی طا اراتا عتان سان ری پل بل (۴) و عَنْ عَبْلِ الله ین مَسْعُوْدِ قال ان رسُول اللہ بت٠‏ کان یَعَحَوَُا بالمَوعظة فی الام کرَامِیّة السَامَةِ عَلَيْنا. (جطاریق)

تر چم : جحخرتعبداؤلد بن مسسووڈ سے ددایت ےکرسول الد پگ ہیں وعظ کے میس اس اتال رھت تھی ددمارے کما جال ےکا سبب نہمن جاۓے جو پ کو نر تھا۔ تشریح: تشریح: وعن او نیعت میں بھی اعتوا لکا خیال رھنا ضروری ے وشام اردقت اوگو نک وعزاونشیحعت ےکی یاب رک ےکا سلسلہقائم رک مس ا کاو کی اندلیشہ ےک لگ مواعطہ حث ے أکماجا میں اوران لیے اسے ایک مصیب تکچھنیگییس ۔ نی ماش انسا نک شیا تکا' اط رک تے۔آپ جاجے تےکرلوگو ںکانشاط باقی رے۔ ہا زا نون شیک یں حفرت این سجوڑڑھی نی مال کےط رز لکی پیر دی فرماتے تھے۔ )٣(‏ و عَنه فو ال رَسُوْ الله لآ عَسَة ال فی اي رَجُل اه الله الس لی َلگیہ فی الْحق و رَجُلٌ انۂ الله حكُمةهرََفُسِیْبِھا َ ِعَلمْهَا. (ح) ترجمهھ: : محخرتعبدالل بین مسموڈے روایت ےک ہرسول او پل رم تخرف دسوں ےکر نا روا ےیک 2۷ھ وھ

۷ گلجر فو جَلدیَِيَز تزنی وی دا دوش سے صے خدانے حکمت عطافر ماقیاورددااسش کے مطا لی معامذا تکافصلہ کرتا سے اوراا بحم کی (لوگو ںکو )الیم دیتا ے۔“ تشریح:ہاں‌ص6 انا ہورم بالضہ استحال ہوا ہے اس سے مرادخبطہ یا شک سے مد بے ہآ دیس یک سر فرازی اورتز قی اورا سک تو کو دی ےکر یآ رذ وکر نے گ ےک "یں اس سے لن جامیں۔اوردومقام بیند سے ینکر جاتۓ۔ بی صدقطعا تام ہے۔صر ف سی الم اورمضر کےسلملہ می اس کے روال نق تکیآرزوکی جاعتی سے ماک اس ےتلم وفساد لوق مرا جات پا کے۔غبط مارک چائے ہے بیس کی سرفرازیی اوراا سک یتو ںکو دوک راگ رکوگی یآ رز کرتا ےک خد اکر ےا لکواھی مہ یمیس ہو اس می سکوکی قباحت یں ہے۔ ات ا حدینے یی ددتقیقت مہ جا گیا ےکہرد نیا کی نکی می پدد حم کےآ دی امے

ہیں جوتتقیقت میں قائلِ رشک ہیں ء ایک مال دار جم س کا مال را ٥جق‏ شش صرف بور پا ہو دوسرا صا بپعلم دداْش جواپنی یرت اورقو تد فیصلہ سے معا لا تکوسکتھا جا ہواورم ا لکویخ طور بر ص۹ کر و یہ کہ خدانے اس جم سںعلم وحکمت سے وازا سے ودعلم وحکمت دہروں کے حصہ یی ںببھ یآ کے تک دن کے تصورے لو کآ میا وی اوردی نف نکیا ۱ نماہجدگی عا کم یں ہو سے۔

اس حدبیٹ ےق تی ایک حدبیث او رمیین می کت ہے۔ نی مک فرماتے ہیں:

لا حَسَة الا عَلی اِلَیَي: رل آتۂ الله قْران مه َو َء اللیْلِ و اَاءَ النمَارِ َ رَعْلٍ تَا الله َال فهوَ تق من انا اللَیْلِ و َء النمَار (یخاری مم رن ا س۶ز)

”صرف دچٹنصوں بر صررواے_ا ا٥ت‏ یس >ە040ءھ-ھ-7) ۱ ن عطا ر مایا واوروہضّب وروز کنا ات ینس ماوقا کرو شش ان بال ا کیا +واوزدو اسے شب وروز کے !کشر اوقات میں( زاواقنی میں )خر جکرتا ہو“ (۴) و عَنْ انس بُن مالک قال: ججمَع النبیٔ طََّه نَاسَا مَنَ نار َقَالَ: اِنّ رَْمَ عیبٔث لک هد بجَاجِِعة ‏ مُصِيمووَای ارذث ان أَجَِْهُمْ وَأَلَهُم نا َرّضَوْنَ ان يُرّجِع النَاسُ بالڈنَا و تَرّْجعُوْنَ بِرَسُوْلِ الله لی بیوُيكُمْ؟ قَالوا

کلا ےنبوت جلد پنجمے ےا ا ٹا وا و پا ا ہہ .1ھ کک تیر و وو ات کا کے ٠‏ بلی: قال لو ملک النىاس وادِیا و سُلکت الانضار شعبا لملکت وادِیٰ لصا او شِْعُب الأنصَار. ود3

کحیہ طرے وی ا کے ایت 0.: نے انصا روح کیا اورفرمایا: ”ریش ابھی جاز و جلد بی جاہلیت ےق لکرملمان ہو ہیں اوفق کی مہہ تی پیل ر سے ہیں یل ا نکی ہمد دک فی چاہتاہوں۔اورچابتاہو ںکمتالیف تل بک وں ۔کیائخم اس پرراشی ٹیس ہ کہ اورلوگ تو دا کا مالی نےکر اپ ےگھرو ںکو جا نہیں اورقم دا کے رسو لکو نےکر اپیے گھرو ںکو چا ؟“ انصار ہو ن ےک کیو کیہ ہم اس پر راشی ہیں اس کے بح دآپے نے فرمایا: اگ رلوگ ایک وادئی ےگز ر مس اورامصار دوسرے رات یاوادکیٰ ےگ می و یش ای رات وخ رکرو گا جس نے ائھدارجانفیں گے '' تشریح:اسل ردابی تک ایک تارنی بیں منفظرہے۔ جن ک نین کے بعد پا نے اسلا می افو کو طان فک ططرف نیش ری یکاع دی ۔طائف حصار بناشرتھا۔ ہک ہیں ایک مضبوما وحم فا تھا۔ اھلائی فور نے یں روز کقل ہکا ما صرہکیا حور ل نقلدہ ے باہ فک لکرلڑ ن ےکی جرأت نہ کر کے محاصرہکوطول د ینا نی نایللگھ نے پیند نکیا پا نے سار سے مور ہکیا۔ ائل رات ۓکا مرتت ریخ اک یحو ری نا جک یکردارمزل ہو چنا ے۔ان کے دوہارہ اناو تک ےکا امکان درکھا گی یں د تتا۔مما صم رہ ا ٹھال گیا طا ا لف ےا پ دای را ہتشرف لاے ۔ یہا ںآ سا سے ا لمت اہین ی لٹیفر مایا قرلیش کے دلو ںک وع رک رن آپ کے بی نظ تھا اس لیے مال غیت ک کی رحصہق ری لکوعطاکیا۔ تار کی دشوار یو ںکی وج سےتر می لکی مواہی عالل بھی اس وقّت ائر ودای افنمازر ےئش لوگو ںکوشن کی اظرتضور یلگ 30 نشی شکامت ہوئی ۔ ای ںقرلیش پرعطا ےکچ رسے ملال ہوا۔آ پومعلوم ہوا تق نے انصا رکاش کیا۔ اس مو پ رپ نے جوخطبردیادہایجاز و بلاغح تک مبتربین شال ہے۔آ بے نے انصا رکخاطب کرت چد قۓ ٹر مایا:

کیا یہ یں سے تم یکم راو تھے۔ الدنے میرے ذد ایی ھی ایت سے فوازاتم پراگندواورنفتشرتےءادڈدنے میرےذر یہ ےت یں دحرت پیداکی یت رمفلس سے خر

۸ ”کلا ےنبوت جلد پنجے نے میرے ذد یہ ھی ںوگر یبنتی؟ پا کے ہ رای ک فقرے پر انصا رکیے جائے جےکٴلہ اد اورائس کےرسو لکا اسان سب سے ڑم کر ہے۔دفعتاً آ پن ےکا کان رخ بدلا اورفر مایا:

یں ہقم یجاب د کہا ےئجرہ جب لوگوں ن ھا کی جن ی بکی فو ہم نے ھا ری تعدل کی ۔لوگوں نے میں چھوڑ دبا ہم نے میں پناۃدئی تم مخلوک الا لآ ۓ تھے ۔ ہم نے ہر مکاتخاد نکیا ۔ پچ رذ ران فف کے بحدفرمایا نم یجاب دیے جا و می لہتا جال ںاکم کے ہو۔ کن اے انصارءک یا یل مہ پین نیس ےک لوک اونٹ او ربگریاں نےکر اہۓے گھرو ںکو چا تی اورقم(ائل کے رسول ) کو نےکر اپ ےگھرو ںکووال ہو؟ انارپ ھے: “ہیں اور ٹیس مصرف جا پوت (طبقات اب نسعر) (۵) و عَنْ ججابر بن سَلیم قال: رَآیْتُ رَجُلاَيَصْدُر الَاسُ عَنْ رہ لايَقولَ سيا لا صُرُزْا عَنهقُلْتُ مَنْ هلَا؟ قالُوا: رسُوْل اللہ بش فُل: عَلَیْک السّلام پا زسوُل الله مَرَتيْن, ا لا تل عَلَيک السّلام فَإِنَ عَلَیک السّلام تَجَة الْمَیتَ. قُل السَلاٌ عَلَيیک, قال: قُتُ اَنْتَ رَسُوْلْ الله؟ فَال: تا رَسُوْلَ الله الَّذِیْ اِذًا اَصَابَیک ضو فَدَعَوْنَةُ كکشَفَةً غُنک و إِنْ اضایک غعامَ سَنة فَدعَوْتة تھا لک وَ اِذَا كنْتَ باَزض فَفر و فلا فَصَلتْ راجلتک فَتَعَونَة رَذَمَا عَلَيْک. (اپیراؤر) زئاس راز سار وا زان ےا کان مردہ جو بات فر ماتے لوگ قبو لکر لی کوکی جچوں جا پا یئل کر تے۔ یس نے لپ بچھاکہ ی کون ہیں؟ لوگوں ن ےکہاکمہ رای کے رسول ہیں۔ل(بس ان کے پا گیا اود م ٹس ن ےکہاکمہ علیک السلام یا رسول اللہ دوبار ۔ پا نے فر ماک علیک العلام ص کہ ھکیو ںکہ اس طرئح مردو ںکوسلا مکرتے ہیں بگنہ یو ںکبوالسلا علیک .“ٹس نے عوش لک اک ہآ پ او کے رسول ١‏ ہیں؟ فرمایا:” می اس الف کا رسول ہو ںک جب میں نتصان سے ادرنم اسے پکار ونود ونتا نتم سے دو رکردہے۔ اوراگرتم رق جا اورتم اسے پکاروند ھا رے لیے عبات (اور لہ وش ر٥‏ گے ا جب کیا بےآب ڑکیا درز شن مل ہ ودرا ایی دجائے ارم اس سے دا وو وات کی دےيا نے“

”کلا منبوت جلد پنجے ۹ تشریح: کیاساد ہمان مور انداز ےآ پ کا جو پا نے ال موئح پراغتیارفرمایا۔آ بے کے ارشادکا مطلب بہتھاکہٛشس خداے امیدررکتے ہو تم ۔ممصیبموں میں اسے پثارتے ہواوروہ سی ما لی ںکیں ہونے دتا کابی ودنا میں ستتاے۔ دو ھا رکی مد دو چنا سے تھا ری ناامیرگی امیریٹش بدل جال ے ٦ٰئٰو9‏ ص02 ء میں ای خداکا جیا ہوا رسول اورقاصدہوں ۔کیاتم میبرااثکا رک کے اپنے خداکے سساتھ بے دفائی کے مرککب نہ ہو گے۔ روایت سےمعلوم ہہوتا ےک چا بن یم ایمان لاتے ہیں اور سے مال میں رو فمائی ھی اص لکرتے ہیں۔ ےھ وی سد تے فَال: نآ اصَلِی مَع رَسُولِ الله مت اك عَ رَجْل وی الْقَوُم فقْلّث: یرْحَمک اللہ قرمانی الوم بنصَارِممٰا َقلْتَ: و اُنُکل أَمَيَاةً! مَا شَانکُم تنظرُوْنَ ِلی؟ فَجَِعَلُوْا ضربونبِیهمْ لی افحاؤِهِمْ فَلمَا نم موی لی کٹ لم صلی رَسُوْل الله مت مم مسر ہہ فو اللدمًَا کھری وَلا ضرَیَبیٰ وَلا شْتعَیٰ. قَال: اِنَّ هلذْہِ الصّلوة لايَصُلَ فِْهَا شَيٌمِنْ کلام الَاسِء نان الخ رکز ء وَقَرَاءَة ڈ ران و کا قال زسُؤل اللہ فلت ا رَسُول الله دی عھُد جالع وذ جا٤‏ اللّهُباسشلام وَإِؤ من رِجَالاً َاتَوْنَ الْكُهَانَ؟ فَالَ:فَادَ تاتھم. ُُتٌَ: وَمنا رِجَالُ َتطیْرُوْنَ؟ فَال:ذاک ٹث شُْ یَجِدُونَه فی صُدورِمِمْ فَلاَيَسْلهُم (م) ترجمة:ظر ت معادی بی نگ می سے دوابی کرت ہی ں کا ایک ہار رسول خدا می کے ساتھعنماز پھر ہت ھاکہنمازیوں شش ے ایک سک ین کال تو میں ےو جات الا کرت کل تن رکا ض۵ آنخرکیابات ےرت جج ےکھورکر دیکتے ہو۔دوابنی رانوں پ بات مارنے گے جب یں نے اتی د یک کے خا مؤ لکرارر سے ہیں. تو یس خاش ہوگیا۔ جب رسول اللہ نماز سے فاررأ ہو ۔میرے مال با بآ بن

پنٹربان ہوں۔ شش ناپ سے ب ہج میم دیئے دالا نپ سے چیب دریکھا اور نہ کے بعد

۰ ”کلا منبوت جلد پنجے دیکھا۔ برغدا ہآ پا نے مھ ڈاناء نہ مارااورنہسب شف مکیا۔فرمایا: از ہے۔ اس یل انسانو ںک ینوس سےکوئی بات درستٹنیس ۔ پیا صر فک مکبراورق رآ نک یقرت ے_“ ٹس نے عو لک اک ٹل مان جاہلیت سے ریب بہوں ۔ اسلام جلد بی لایا ہوں۔ جم بل رے سآ وو اس جا ےی پانے فرمایا:” تم ان کے پا مہ جا وش تن ےکہا کہ پچواوکگ چم میس ے بدنشگوکی لیے ہیں ۔آ با نے ف رما اکلہ می الما سے یے وہاپنے سینوں سو ںکرتے ہیں ۔ با ناکم سے ہرگ شررز کے“ تشریح: : آ کیم وز بی ت کا انداز ونکیے ایت ان طرٹیقہ سے دی نکی با ھا ری ہیں ب کی لی او رت رائی پرددشتی اورکرٹگ ی کاانلہائیل فرماتے۔

اس حد یٹ سے بیگھی معلوم ہو اک ہما زتقیقت میں خدا کے سا تہ مکظام ہو نا ہے ۔نماز جھھ ہے ہک سے پیر ہے کلام ال کی رات ہے۔نماز جس خدا کےسواکسی دوصرے ےو ھی کی چانحتی _نمازیس ما مل ضرف الڈڑے ہوتاے۔

کلا ےنبوت جلد پنجے ا۳

امربامعروف وڈ ین انکر

)١(‏ عَنْ ابی سَهیٔد إِلحْذرِی عَن رَسُولِ الله تل قَال: مَنْ رَایٰ مِنكُمْ اَضْعَفْ اإمان۔ (ص) ں.- جمفضرت او سضر عرتایت هو لخزا یہ نے فر ایا: ”تم میں جوکوکئی می برا یکود یذ اسے چا ےکہ ال لکواپنے باتھھ سے بد دے او راگ اسے ان کی استطا عت نہ ہو برای ز پان کے ذرزہ سے اس خدم تکوامچام دی ےک یش کر نے او رگم ا سک یببھی استطاعت نہ وب راپنے دل سے اسے نر اجانے اود بیسب کم زورایمان ے۔' تشریح: بعد یت ا بات کا ت٥ت‏ ہےکہ ماما نکا تقاضا ےکآ دیی برا یکو برداشت نہ کرے لہ اسے مان ےک یکوش کر ے۔ گرا سےقوت اور طا قت حاصل ےت برا یکومٹانے کے لیے وو طا ق تکا بھی استعا لکر تا ہے۔اوراگمر دہ برا یکو ات سے مان ےکی لوزیشن میں یں ےن کم ازکم برائ یکو برائی سیے اورلدگو ںکواس بات پر اد ہکم رکوہ برا یکومٹانے کے لی ےکوشاں ہوں ۔اوراگ سی وجہ سے ا ںکابھی م وع اسے عا لیس تد می ہی برای سے نف تکرے اور ال کا آرزومندر ےک یر برائو ںکا دی 010.2-70 برا یکود یکر اپنے اندرک وھ نمس کی سکرتا 2 چھراسے اپنے ایما نک خمرمنالی چاہیے ۔کیو ںکہ اس کے بعدایما ننکاکوگی درجہ باق یکل رہتا۔

خدودِ اللہ وَاَاقع فِيْهَا مل قوم ْمَهَمُوْا مَِيَْةًفَسَاز بَنَصُهُمْفِی اَسْقَيِقَ وَصَاز يعْهمْ فی لھا فگان الَذِیْفِیاَسْفَلِقَا یمر َء عَلی الَدِينَفِیَ اَغلاهَا فَتَادُوْا به فَاَحَذ فَاسًا فَجَعَلَ یر اَسْفَل السّفِيْنَةِ فَاتوْة فَقَالوْا مالک قال: تَلْيُمْ بی ولا بد لی مِن المَاءِ فَإِ اَحَدُوْا عَلی یلب اََجَوٰه وَ نَجُوا انفْسَهُمْ و إِنْ ت کو املکُوٰه و املکوا اَفْمَهُم (ارل)

۳" ئلسش مت ساد یف ترج م4 : صضرتلتمان بین بئرڑے روایت ےک رسول الد یھ نے فرمایا: ”دا کے عدود ٰ کے معاملے بی تسائل سےکام لیے اوران میس جاپڑنے وا لو ںکی مشال ان لوگو کی سے جچوق رع ال نی ین وین نان ناشن سے کول کی کے نے کے نے ین دو اور ولیک ال کےاد یرک منزل یس ہوں۔ دوب پانی نے کے لے ا کی منزل م7 7 ال سے اوپر وا لےتمکایف سی ںکر یں پان ےکی منزل والوں یں سے ای کن سکہاڑی نے رکش سے تھے کے کو تا ری ں کیاکی ےا اس پردہ کی ےک میری وج ےکی ں نکی فبپچتی ہے اور یس پائی حاص لکرنے پ یور ہوں۔ ای حالت میں با فے لوک اس کے پا ھک و لیس م کہ ا ےبھی اورخودکوکھی (غرقالی سے ) پاٹ با ںکواس کے حال پرجچھوڑد میں اور سےکبھی ہلاکھت یس ڈ ایس اورخودھی بلاککت سے دوچارہوں۔“ تشریح: بابک تخحیقت لد ناک ہارےانان ابک ی تک اجہاز یش سوارہوکر: ندگیک بر ررجہن۔ کی اد زاگ رن رقاب ہوتا ےو اجیکھے برے بھی ہلا ات ےدوچارہولں 2 ان نے اس مکی اط رف ہا کک شوگ جا ےتا کرک وا ڈاا ےب یک رش سےک راس کا تح پللیس اور یکوڈوہۓے سے با ہیں شاف ڈاے, 70ھ۷۳۳ ٴب۹ جات ہیں یں ا لکااتسائ لجھی یل ہوتا کرد وک یالکرنے جار سے ہیں-

انمانی معاشرے میں مال ینملکت میس اگ رکوئی برائی لق ے اوراے دو ری سکیا جاتا فذووسارۓ بی معاشرے اور اپ رے مل ککی شبات یک باععث بی نگلتی ہے ۔ ہعارے دورمیس ایک پڑا مل فضا کیآلودگی ۔(7 1۸0 )۶٥((‏ از یی ےم شی و ڑعتی ہوئی ا سآ لود کی روک تام نہ یکیو مز شن انسا نک ر پاش کے لا بی ندد ےگ ۔فضا کی آآلودگی سے بے ےک رخط ناک تچ انسا نکا اغلاتی بگاڑ ے۔ اس بگا ڑکی ملف میں جمارے ساٹ ای رق ہیں۔ خدا بے ارگیء اس کےمفرر سے ہوۓ عددد سے تیاوز ٤‏ فسادہ اش یہ ٰ شی دہشت گمردگی مم زوروں ینلم تم اور وانصا فک خون وغبر۔ ان سار برائوں سے زم نک اک رسک ےکی ضرورت ہے کاشش اس طرف جماری توجہہو کے

”کلا ےنبوت جلد پنجے ۲۳

٣(‏ و عَنْ حُذيفَةاَ الَیٌ تل قال: وَالِیٔ تَفسیٔ ّدہ مر بالمعرُوفِ و لَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنگر آؤ لیوْضِكُنٌ الله ان تعَك عَلَیْکُمْ عَذَابا مِنْ دہ تُمَ َمَدُعُنَة وَلايْسْعَجَابُ لَگُم. رق ترجم4:حخرت مذ یڈڑے ردایت ےک میا مل نے ارشادفرمایا: ”عم سے اس ذا تک جس کے پاتجھ میس میربی جان ہت لاز با بھلاک اعم د نے رہد گے اور براکی سے دو کے رہوگ بصورت دنر خداغنق ری ب تم پرعذ اب کییجےگاء ال وقت تم خدا سے دعاککرو کے او رھ ری دعا ال ایی“

تشریح :ال حد یٹ یش ایک نہایت قال وج بات ان فا گنی ہے ج٘ سکیطرف پالقوم پھ نکی دہیئے۔ بعد یٹ تال ےک امم ۱ رف او کن اشفگر ےقرف کا ک زار اس سےنفلت بررتا خی تگین جم ہے۔ بیجم السا ےکمااس کے پادائش بی خداکی طرف سے عراب کے نزول یں تا خی کی ہوٹی ۔ اس عذا بک یملف صورتی من ہیں ۔ ا سک ایک شحل مہ ےک خدا ظا مو ںکوہم پرمساناکردے اورو لم یتم کے پپاڑن ڑنےگیاں۔ پھ رہم خدا سے دع اک بی مکرد انس مصیوبت سےگمیل فحجات دےجیان دہ جھارکی داکوقیولی شکمر نے۔ اور ہم “ینلم وم کے ار ضنے ر ہیں ین روایتوں ٹیس عا بکی انس اع کل ذکریھ یآ یا ہے۔ شاب آج مسلمازان حعا لم جن مصائب می سگھرے ہوتے ہیں ا کیا ایک کی وج م گیا ےکہ دبین کے اس اب فربی ض کی طرف لو فلت ری جاردی ہے۔ بلگمہ ہماری نذا نا یکا زیاد و <صہ تفرقہ با زی می صرف ہورم اے۔

ام دن () عنْ ابر بن صَمر عن ابی مت اش قَال وه ا زان ات کل

نیو مت تا ئن لو سی تََرم الكَافة (ح) ترجمهھ ضرت جا رہ نکر سے روابیت ےک رسولی خدا پل ین نے ارشادفر ایا پوت

م۴۳۴ کلا ےنبوت جلد پنجے 2 ر ےگا اورمسلمانو ںکی ایک جماعحت ا اڑل رےگی یہاں ت٠‏ کک امت ہیا جا ےگا“

تشریح: :جن ا بھی ن ہدگا نیو نخلضومیعَاب الات فرا ملک بیٹھے ای کگردددین کے فروغ دبا کے سے برابر رک رہل رگا ۔ایا ال یوما کمد یی تن ایک فراممونل شدہ افسانہ نکردہ جا دی ن تن ایک زندود بین ے اور پیش زندہ رےگا۔ بردہ رش سے ج یی می ہکینہیں۔ وفت اور عالات کے ل ا سے ال لت کی ایک بجعت دن کے لیے قیاص تکک جان نے ڑکوشت لکرری ر ےگی۔ د بن نکی رش کوکوگ بھی تار بی ڈگ شہ س ےگی۔ لوگ اس یی سے فائدہ اٹھانیں یا فدہ نہ اٹھانمیں۔خواد دہ اٹی میں ہن کی اورتار کی کے پےستار بن ر مین نکی رڈ کی یپھیک رہن نی سر کا۔ بی مغ ہوم سے تو راہ یی کے اس قو یکا دیع برا رقائم ر ےگا ءاس می قلل وا نہہوگا۔ () و عَنْ جَابر بن عَبْد اللةّيَقُولَ: سمغث رَسُوْل الله تل يَقُولَ: لامَرَالْ َائِةمَنْ ای يُقَايِلْنَ عَلی الَحقٍ طَاهِرِئن إِلی يَوم الَقيمَة ےپ ترچ م4 :رت جابرہ نکبدئڈڈ یا نکر تے ہی ںکہ می نے رسول اڈ یکو ریف مات ہو ئے اکم رک امت کایکگردوہیشتق تار گاد الب رہگا۔ یس لرقامت رز ام یس

تشریح:ا ےگ جن اس کے خر مان اوراس کے دبین پ رام رہ ےگا۔ اس سے روگ ردالی

0 ۵ ہے ا ںکاکد بین بھیشہقائم رہ ےگا۔ آیکگردو دجن اوراس کے تقاضو ںکو ہخو ی بھتا ہوکا ا سک یکس تی اوراس کے پروگرام ان ہی تقاضو ںکی ردکنی یں مرتب ہہوں گے۔ (م)